1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تاريخ

مریم نواز اور جرمن صحافی کے مابين پاناما پیپرز پر بحث

بینش جاوید
3 مئی 2017

پاکستانی وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز شریف نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر اس وقت ہل چل مچا دی جب انہوں نے پاناما پیپرز سے متعلق ایک ٹوئيٹ میں کہا کہ ان کا تعلق کرپشن يا بدعنوانی سے نہیں ہے۔

Pakistan Maryam Nawaz Sharif
تصویر: Getty Images/D. Berehulak

مریم نواز شریف کی جانب سے تحریر کی گئی ٹوئيٹس میں انہوں نے یہ پیغام دیا کہ وہ افراد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے جو پاناما پیپرز کے ذریعے وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ مریم نواز نے اپنی ٹوئيٹ میں لکھا تھا،’’ پاناما پیپرز کا تعلق کبھی بھی بدعنوانیوں سے نہیں تھا۔ چوریاں کرنے والے اور ہیکنگ کرنے والوں (پیپرز منظر عام پر لانے والوں) نے بھی ایسا نہیں کہا تھا۔ شکست خوردہ افراد اب سن 2018 کے انتخابات میں ناکامی کے خطرے سے دوچار ہیں۔‘‘

مریم نواز نے اپنی اگلی ٹوئيٹ میں لکھا،’’ آپ پاناما پیپرز کو خیبر پختونخواہ میں اپنی ناقص کارکردگی کے نعمل البدل کے طور پر پیش نہیں کر سکیں گے۔‘‘

اپنی ٹوئيٹس سے بظاہر پاکستان تحریک انصاف کو نشانہ بنانے کے بعد مریم نواز نے ایک اور ٹوئيٹ میں پاناما پیپرز کی کہانی کو منظر عام پر لانے والے صحافیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا،’’  ان صحافیوں کی تکلیف سمجھ میں آتی ہے جو پاناما پیپرز کی کہانی منظر عام پر لائے تھے۔ ان کے حکومت کو گرانے کے ظاہری اور باطنی اقدامات صفر ہوگئے ہیں۔‘‘

مریم نواز شریف کی جانب سے ٹوئٹس کے اس سلسلے کا جواب پاناما پیپرز کی کہانی شائع کرنے والے پلٹزر ایوارڈ یافتہ جرمن صحافی باستيان اوبرمائر نے دیا۔ مریم نواز کی ٹوئيٹ کے جواب میں اس صحافی نے لکھا،’’ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے لیکن پاناما پیپرز بدعنوانیوں کے بارے میں ہی ہیں۔ ہمیں دستاویزات میں بدعنوانیوں کے بے پناہ کیسز ملے ہیں جو سب حقیقت پر مبنی ہیں۔‘‘

مریم نواز نے اس صحافی کو جواب دیتے ہوئے ٹوئيٹ میں لکھا،’’ میں تمہارے اور تہمارے پاکستانی ہم منصبوں کے درمیان تعلق کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی افسوس ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ بن گئے۔‘‘ مریم نواز نے ایک اور ٹوئيٹ میں انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹیگیٹو جرنلسٹس کی ویب سائٹ سے ایک تصویر شائع کی جس میں تحریر تھا کہ آئی سی آئی جے نے جو تحقیقات کی ہیں، ان کا یہ مطلب نہیں کہ  ان افراد، کمپنیوں اور تنظیموں نے قانون توڑا ہے یا غیر اخلاقی کام کیا ہے۔‘‘

اوبرمائر نے اس کے جواب میں لکھا،’’ صحافت کا کام حکومتوں کو گرانا نہیں۔ اس کا کام سچ پہنچانا ہے۔‘‘ اس موقع پر ايک اور صحافی فريڈرک اوبرمائر نے بھی ٹوئيٹ کی، ’’ پاناما لیکس کی وجہ سے اسی سے زیادہ ممالک میں 150 تحقیقات اور آڈٹس کا آغاز ہوا ہے۔‘‘ يہ صحافی بھی پلٹزر پرائز يافتہ ہيں۔

ٹوئٹس کے اس تبادلے کے بعد پاکستانی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر بحث کا آغاز ہو گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کی جانب سے مریم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے شائع ہونے والی ايک ٹوئيٹ میں لکھا گیا،'' پاناما نے آپ کے خاندان کی آف شور جائیداد کو ظاہر کر دیا ہے جو غیر قانونی پیسے سے خریدی گئی۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے لکھا،’’ اگر پاناما لیکس کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو پھر سپریم کورٹ اس کی کارروائی کیوں کر رہی ہے ؟ وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیوں کیا؟ اور آئس لینڈ کے وزیر اعظم اپنے عہدے سے دستبردار کیوں ہوئے ؟‘‘

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں