1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’مزید استحکام‘ کے لیے بیجنگ امریکہ کے ساتھ تعاون پر تیار

عاطف بلوچ اے ایف پی، اے کے ساتھ | ادارت | جاوید اختر
11 مئی 2026

چین نے کہا کہ وہ ایک غیر یقینی دنیا میں ’’مزید استحکام‘‘ کے حصول کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے چین کا دورہ کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ہمراہ بیجنگ میں، یہ تصویر نو نومبر سن 2017 کی ہے، جب امریکی صدر نے چین کا دورہ کیا تھا
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی آخری بالمشافہ ملاقات اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ایک علاقائی اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، فائل فوٹو سن 2017تصویر: picture-alliance/AP/TopPhoto

چین نے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ اس غیر یقینی دنیا میں 'مزید استحکام‘ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی یہ تصدیق بھی کر دی گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  تیرہ تا پندرہ مئی چین کا دورہ کریں گے۔ سن2017 کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا یہ چین کا پہلا دورہ ہو گا۔

تجارتی محصولات، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور تائیوان جیسے اہم معاملات پر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ 

وائٹ ہاؤس نے چند ہفتے قبل امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چین کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے مارچ کے آخر یا اپریل کے آغاز میں چین جانا تھا لیکن ایران جنگ پر توجہ مرکوز رکھنے کی خاطر انہوں نے اس دورے کو مؤخر کر دیا تھا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے پیر کے دن ایک پریس بریفنگ میں کہا، ''اعلیٰ سطح کی سفارت کاری چین اور امریکہ کے تعلقات میں رہنمائی کا ناقابل متبادل کردار ادا کرتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''چین برابری، احترام اور باہمی فائدے کے اصولوں کے تحت امریکہ کے ساتھ تعاون بڑھانے، اختلافات دور کرنے اور ایک غیر یقینی دنیا میں مزید استحکام لانے کے لیے تیار ہے۔‘‘

ابتدائی مذاکرات سیول میں

امریکہ اور چین کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار ٹرمپ کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے ایک دن قبل سیول میں ملاقات کریں گے تاکہ تجارتی اور معاشی امور پر اختلافات دور کرتے ہوئے کوئی پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور چینی نائب وزیراعظم ہی لی فینگ تجارتی و معاشی معاملات کے مرکزی مذاکرات کار ہیں، فائل فوٹو سن 2025تصویر: Li Ying/Xinhua via AP/picture alliance

 یہ تیاری دراصل امریکی صدر کے دورہ چین کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر کے دورہ چین کی ''علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے‘‘ اور ٹرمپ امریکی عوام کے لیے ''مزید بہتر معاہدے‘‘ کریں گے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بدھ کو سیول میں چینی نائب وزیراعظم ہی لی فینگ کے ساتھ ملاقات کے دوران شی اور ٹرمپ کے مابین ہونے والی ملاقات کا ایجنڈا تیار کریں گے۔ بیسنٹ اور لی فینگ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و معاشی معاملات کے مرکزی مذاکرات کار ہیں۔

یہ بات چیت ممکنہ طور پر ان اعلانات کو حتمی شکل دے گی، جو  بیسنٹ اور لی فینگ کی ملاقات کے دوران کیے جائیں گے۔ بیسنٹ ٹوکیو میں جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائچی کے ساتھ ملاقات کے بعد سیول پہنچیں گے۔ جاپان کی جانب سے تائیوان پر دیے گئے بیانات پہلے ہی چین کے ساتھ سفارتی تنازعے کا باعث بن چکے ہیں۔

بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے دوروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ''معاشی سلامتی دراصل قومی سلامتی ہے اور میں ان ملاقاتوں کے ایک مؤثر سلسلے کا منتظر ہوں تاکہ ہم صدر ٹرمپ کے 'امریکہ فرسٹ‘ معاشی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکیں۔‘‘

ایران جنگ کا سایہ

ٹرمپ اور شی جن پنگ کی آخری بالمشافہ ملاقات اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ایک علاقائی اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے 'ایک سنگین تجارتی جنگ میں ایک سالہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا‘۔

تاہم اس بار  ایران جنگ ایجنڈے پر غالب رہنے کی توقع ہے۔ چین ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی گزشتہ ہفتے بیجنگ کا دورہ کر چکے ہیں۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے ایران کو خطے میں امن کے لیے ''زیادہ کردار ادا کرنے‘‘ کی یقین دہانی کرائی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ ایران جنگ کے حوالے سے چین کے مؤقف پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم چینی حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ چین کا مؤقف ''واضح‘‘ ہے اور وہ جنگ بندی اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ''مثبت کردار‘‘ ادا کرتا رہے گا۔

چین اور امریکہ کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا، جب امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے کو چین کی تین سیٹلائٹ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ الزام لگایا گیا کہ وہ ایران کی فوجی سرگرمیوں میں مدد کر رہی ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ان پابندیوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا، ''چین غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا، ''سب سے فوری ضرورت یہ ہے کہ اس تنازعے کو دوبارہ بھڑکنے سے روکا جائے نہ کہ اسے استعمال کر کے دیگر ممالک کو بدنام کیا جائے۔‘‘

اسی طرح امریکی محکمہ خزانہ نے بھی چین اور ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی کئی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر ایران کو ہتھیار فراہم کرنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔

امریکہ نایاب چینی معدنیات سے محروم

01:24

This browser does not support the video element.

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں