مسجد ميں بم دھماکا، کم از کم سات افغان شہری ہلاک
13 جنوری 2013
صوبائی گورنر کے ترجمان شاہداللہ شاہد کے بقول يہ واقعہ صوبہ وردک کے سعيد آباد نامی علاقے ميں مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح قريب دو بجے پيش آيا۔ يہ علاقہ دارالحکومت کابل کے جنوب مغرب ميں واقع ہے۔ ترجمان کے بقول افغان اور نيٹو کے فوجی دستے عسکريت پسندوں کے خلاف رات گئے ايک کارروائی کرنے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے کہ ايک مسجد ميں چھپے چند عسکريت پسندوں نے ان پر فائرنگ کردی۔ جوابی کارروائی ميں چار عسکريت پسند مارے گئے۔
مسجد ميں دھماکہ اس وقت ہوا جب ہلاک شدہ عسکريت پسندوں کی لاشيں مسجد سے نکالی جا رہی تھيں۔ سرکاری ترجمان شاہداللہ شاہد نے جرمن خبر رساں دارے ڈی پی اے کو بتايا، ’’ہميں ابھی يہ معلوم نہيں ہو سکا ہے کہ يہ دھماکا خود کش جيکٹ کے پھٹنے يا کسی دھماکہ خيز مواد کے ذريعے ہوا۔‘‘
کابل سے موصولہ ڈی پی اے کی رپورٹ ميں اتحادی افواج کے ايک ترجمان نے بھی اس بات کی تصديق کر دی ہے کہ مسجد کے کمپاؤنڈ ميں کی جانے والی کارروائی ميں چار عسکريت پسند مارے گئے ہیں۔ اس بارے ميں بات کرتے ہوئے ميجر مارٹن کرائٹن نے کہا، ’’ہم اس واقعے ميں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے الزام سے واقف ہيں اور اس معاملے کی جانچ پڑتال کر رہے ہيں۔‘‘
ايک اور خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ ميں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ميڈيا کو جاری کردہ اپنی ايک ای ميل ميں يہ دعویٰ کيا ہے کہ ’امريکی فورسز‘ نے مسجد پر دو فضائی حملے کيے۔
چند مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مسجد پر کارروائی اتحادی افواج کے فضائی دستوں نے کی لیکن ميجر کرائٹن اس کی ترديد کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ اس واقعے ميں کوئی فضائی حملہ نہيں کيا گيا۔ ان کے بقول يہ ايک زمينی کارروائی تھی جس ميں نيٹو اور افغان افواج نے مسجد کے کمپاؤنڈ ميں دھماکا خيز مواد کو ناکارہ بنايا۔
واضح رہے کہ اسی قسم کی رات گئے کی جانے والی عسکری کارروائياں اور شہری ہلاکتيں ماضی ميں افغان حکومت اور مغربی ممالک کے درميان اختلافات کا باعث بنتی رہی ہيں۔
as/ia (Reuters, dpa)