مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کے بیچ توجہ کا مرکز بنے امریکی فوجی اڈے
25 جنوری 2026
ایران نےامریکہ کے ساتھ اپنے حالیہ تنازعے کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔
مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی تفصیلات یوں ہیں:
بحرین
بحرین امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کا مرکز ہے، جس کی ذمہ داری میں خلیج، بحیرۂ احمر، بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے کچھ حصوں کی نگرانی شامل ہے۔
قطر
24 ہیکٹر (59 ایکڑ) پر مشتمل العدید ایئر بیس دوحہ کے باہر صحرا میں قائم ہے اور امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا ہیڈکوارٹر ہے۔ یہ مغرب میں مصر سے لے کر مشرق میں قزاقستان تک پھیلے ہوئے خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے جنوری میں بتایا تھا کہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر العدید میں ایک نیا کوآرڈی نیشن سیل (MEAD‑CDOC) قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو مزید مربوط اور مؤثر بنانا ہے۔
کویت
کویت میں واقع کیمپ عارفجان (Camp Arifjan) امریکی فوج کا ایک بڑا اڈہ ہے، جو امریکی سینٹرل کمانڈ اور علی السالم ایئر بیس کا فارورڈ ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ یہ عراق کی سرحد کے قریب واقع ہے اور امریکی فوجی کارروائیوں کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ کیمپ بیوہرنگ (Camp Buehring) 2003 میں عراق جنگ کے دوران قائم کیا گیا تھا۔ امریکی فوج کی ویب سائٹ کے مطابق یہ عراق اور شام میں تعینات امریکی فوجی یونٹس کے لیے ایک اسٹیجنگ پوسٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
متحدہ عرب امارات
الظفرہ ایئر بیس ابوظہبی کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ اڈہ امریکی اور اماراتی فضائیہ مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ امریکی ایئر فورس سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہاں سے داعش کے خلاف اہم مشنز کی معاونت کی گئی ہے، اور پورے خطے میں نگرانی اور جاسوسی مشنز کی تعیناتی بھی یہیں سے ہوتی ہے۔
دبئی کی جبل علی بندرگاہ اگرچہ باضابطہ فوجی اڈہ نہیں، تاہم یہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کی سب سے بڑی پورٹ ہے، جہاں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور دیگر جنگی جہاز باقاعدگی سے لنگر انداز ہوتے ہیں۔
عراق
عین الاسد ایئر بیس پر امریکی فوج کی موجودگی برقرار ہے۔ یہ مغربی صوبہ الانبار میں واقع ہے، عراقی سکیورٹی فورسز کی معاونت کرتا ہے اور وائٹ ہاؤس کے مطابق نیٹو مشن کا بھی حصہ ہے۔ 2020 میں ایرانی میزائل حملوں میں اس بیس کو اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب امریکہ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا تھا۔
شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان علاقے میں واقع اربیل ایئر بیس بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
سعودی عرب
وائٹ ہاؤس کے ایک خط کے مطابق سعودی عرب میں تقریباً 2,321 امریکی فوجی تعینات ہیں جو ریاض حکومت کے ساتھ مل کر فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اہلکار پرنس سلطان ایئر بیس پر تعینات ہیں، جو ریاض سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ اڈہ پیٹریاٹ میزائل بیٹریوں اور THAAD دفاعی نظام کی معاونت کرتا ہے۔
اردن
عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع موفق السّلطی ایئر بیس ازرق میں امریکی فضائیہ کے سینٹرل کمانڈ کا 332 واں ایئر ایکسپیڈیشنری وِنگ تعینات ہے، جو پورے خطۂ لیونٹ میں مختلف مشنز انجام دیتا ہے۔
ترکی
ترکی اور امریکہ جنوبی صوبہ ادانا میں واقع انجرلِک ایئر بیس کو مشترکہ طور پر چلاتے ہیں۔ اس بیس پر امریکی جوہری ہتھیار موجود ہونے کی اطلاعات ہیں اور یہ شام اور عراق میں داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی معاونت کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ ترکی میں تعینات تقریباً 1,465 امریکی فوجی بھی اسی بیس پر موجود ہیں۔
روئٹرز کے ساتھ
ادارت: رابعہ بگٹی