مشرقی یوکرائن، او ایس سی ای کے معائنہ کاروں پر فائرنگ
20 نومبر 2014
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ڈونیٹسک سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے جمعرات کے دن بتایا ہے کہ باغیوں کے زیر تسلط مارینکا نامی مشرقی یوکرائنی علاقے میں او ایس سی ای کے بین الاقوامی معائنہ کاروں پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس یورپی ادارے کے مطابق ’یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں‘ نے بدھ کے شام اس کے ایک کارگو ٹرک کی طرف دو فائر کیے۔
او ایس سی ای کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کارگو ٹرک سے دو میٹر کی دوری سے فائرنگ کی گئی، ’’اس گاڑی میں سفر کرنے والے اہلکاروں نے گولیوں کی آواز سنی۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کی بعد یہ قافلہ فوری طور پر اس علاقے سے نکل گیا۔ یاد رہے کہ او ایس سی ای کے معائنہ کار یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں فائر بندی معاہدے کی نگرانی پر مامور ہیں۔
ستمبر میں بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں کییف حکومت اور روس نواز باغیوں کے مابین طے پانے والے اس معاہدے کے تحت اگرچہ بہت سے علاقوں میں لڑائی رک گئی ہے لیکن اطراف حکمت عملی کے حوالے سے اہم سمجھے جانے والے علاقوں میں اب بھی متصادم ہیں۔ ایسی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں کہ ایسے اہم علاقوں میں اطراف کے مابین شیلنگ اور فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ رواں برس مارچ میں شروع ہونے والے اس تنازعے کے نتیجے میں کم ازکم ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ان اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں طے پانے والے فائر بندی معاہدے کے بعد بھی کم ازکم ایک ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
کییف حکومت اور مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ماسکو حکومت مشرقی یوکرائن میں باغیوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے اس علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے تاہم کریملن ایسے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ بدھ کے دن ہی روس نے یوکرائن پر زور دیا کہ وہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن ملک بننے کی کوشش نہ کرے۔ ماسکو حکومت کے مطابق اس سابقہ سوویت جمہوریہ کا غیر جانبدار رہنا روس کے قومی مفادات کا حصہ ہے۔
روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے ماسکو میں صحافیوں کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یوکرائن کی طرف سے غیرجانبدار رہنا نہ صرف خطے میں قیام امن کے لیے انتہائی اہم ہو گا بلکہ یہ یوکرائنی عوام کے مفاد میں بھی بہتر ہو گا۔ لاوروف کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ترجمان نے کہا کہ روس کو سو فیصد ضمانت چاہیے کہ یوکرائن کے نیٹو میں شامل ہونے کے بارے میں کوئی نہیں سوچے گا۔ لاوروف کے بقول خطے میں قیام امن کی کوششوں کے لیے مغربی ممالک کی طرف سے صرف زبانی وعدے کافی نہیں ہیں بلکہ اس تناظر میں عملی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔