1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مشرقی یوکرائن میں ریفرنڈم کو مسترد کرتے ہیں، امریکا اور یورپی یونین

عدنان اسحاق7 مئی 2014

یورپی یونین اور امریکا نے علیحدگی پسندوں کی جانب سے مشرقی یوکرائن کے دو شہروں میں ریفرنڈم کرانے کے منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔ روس نواز باغی ڈونیٹسک اور لوہانسک میں ریفرنڈم کرانا چاہتے ہیں۔

تصویر: Genya Savilov/AFP/Getty Images

مریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ’’ ہم یوکرائن کو مزید تقسیم کرنے کے اس غیر قانونی اقدام کی کھلی مذمت کرتے ہیں۔‘‘ ان کے بقول اگر ریفرنڈم کرانے کی کوشش کی گئی تو اس سے یوکرائن کی صورتحال کو قابو کرنے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ کیری نے مزید کہا کہ کوئی بھی تہذیب یافتہ ملک اس فرضی کوشش کو تسلیم نہیں کرے گا۔

ابھی حال ہی میں یوکرائن کے حکام نے تصدیق کی تھی کہ ڈونیٹسک اور لوہانسک اب ان کے زیر انتظام نہیں ہیں۔ ساتھ ہی کییف حکام نے ایک مرتبہ پھر روس پر علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے۔ ماسکو ایسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا آ رہا ہے۔

کیری اور یورپی یونین میں خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا بھی ذکر کیا۔ کیری کے بقول ’’اگر روسی عناصر اسی طرح جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے اور یوکرائن میں ہونے والے عام انتخابات کے راستے میں رکاوٹ بننے کی کوششیں جاری رکھیں گے، تو ہم روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہم سے مراد امریکا اور یورپی یونین ہے۔‘‘

تصویر: picture-alliance/Bildarchiv

اس موقع پر کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ یورپی یونین اور امریکا چاہتے ہیں کہ یوکرائن کے عوام ہی یہ فیصلہ کریں کہ یوکرائن کیا ہے اور اسے کیسا ہونا چاہیے۔ ’’ یہ یورپی یونین اور روس کے مابین کسی ملک کے لیے مقابلہ بازی نہیں ہے۔‘‘ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے یورپی یونین کے رکن ممالک سے روس پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے بقول یہ اہم ہے کہ تمام رکن ممالک کی جانب سے روس کو ایک ہی پیغام دیا جائے۔

دوسری جانب ویانا میں یورپی کونسل کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس کا مقصد روس اور یوکرائن پر گزشتہ ماہ جنیوا میں ہونے والے امن معاہدے کی اہمیت کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کرنا تھا۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اگر مستقبل میں یوکرائن کے موضوع پر کوئی مذاکرات ہوتے ہیں تو ان میں علیحدگی پسندوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ لاوروف کے مطابق گزشتہ ماہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی تھی جب یوکرائن کے مشرق اور جنوب میں لڑنے والے علیحدگی پسندوں کو بھی اس میں شرکت کا موقع دیا جاتا۔ کییف حکومت نے روس کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

دریں اثناء یوکرائن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ملکی فوج ملک کے مشرقی حصے میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے گرد محاصرہ تنگ کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ یوکرائن کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ اس دوران چار فوجی اور تیس باغی ہلاک ہوئے ہیں۔ یوکرائن کی فوج نے ایک اہم حفاظتی چوکی پر قبضہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں