1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مشرقی یوکرائن میں ریفرنڈم کی تیاریاں

امجد علی10 مئی 2014

یوکرائن کے قائم مقام صدر الیگذانڈر ترچینوف نے روس نواز شورش کی زد میں آئے مشرقی علاقوں کے شہریوں کو زور دے کر کہا ہے کہ اگر انہوں نے علیحدگی پسندوں کے اتوار کو مجوزہ ریفرنڈم میں ’ہاں‘ کہی تو وہ ایک تباہی کو دعوت دیں گے۔

مشرقی یوکرائن کے شہر ڈونیٹسک کا ایک منظر، جہاں مقامی ٹی وی چینل کی عمارت پر روس نواز باغیوں نے قبضہ کر رکھا ہے
مشرقی یوکرائن کے شہر ڈونیٹسک کا ایک منظر، جہاں مقامی ٹی وی چینل کی عمارت پر روس نواز باغیوں نے قبضہ کر رکھا ہےتصویر: DW/K. Oganessjan

ترچینوف نے، جو گیارہ مئی کو ڈونیٹسک اور لوہانسک میں مجوزہ ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں، عوام پر زور دیا کہ وہ ریفرنڈم کی بجائے زیادہ خود مختاری کے لیے ’گول میز‘ کانفرنس کی تجویز کو قبول کریں۔ تاہم اُنہوں نے پولیس اور حکومت کی عمارات پر قبضہ کرنے والوں کو ’دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسی کانفرنس میں شریک نہیں کیا جائے گا۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ریفرنڈم یوکرائن کے لیے بھی اور مغربی دنیا اور روس کے مابین تعلقات کے لیے بھی سنگین نتائج کا حامل ثابت ہو گا اور تصادم کے انفرادی واقعات بڑھ کر ایک خانہ جنگی کی سی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

ایک روز قبل ماریوپول کے علاقے میں ہونے والے تصادم میں کئی افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن کی تعداد سات اور بیس کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ آج یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں تناؤ کی سی کیفیت ہے تاہم ابھی تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سڑکوں پر یوکرائن کی سکیورٹی فورسز کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

سلاویانسک میں روس نواز باغیوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ ڈونیٹسک میں باغیوں نے ریڈ کراس کے متعدد ارکان کو، جن میں سے ایک کو زد و کوب بھی کیا گیا تھا، سات گھنٹے تک اپنی قید میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی دعوت پر جرمنی کے مختصر دورے پر آئے، جہاں دونوں رہنماؤں نے روس کے خلاف زیادہ سخت پابندیوں کا عندیہ دیاتصویر: Sean Gallup/Getty Images

اِدھر مغربی ممالک، جو روس پر یوکرائن کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کر رہے ہیں، اب ماسکو حکومت پر اپنا دباؤ بڑھانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ روس یوکرائن میں پیش آنے والے حالات میں اپنے ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی اُن باغیوں کی تائید و حمایت کا اعلان بھی کر رہا ہے، جو اُس کے خیال میں یوکرائن کی فاشسٹ قوتوں کے خلاف اپنا دفاع کر رہے ہیں۔

اِدھر جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اگر مشرقی یوکرائن میں جاری بغاوت کے باعث پچیس مئی کو یوکرائن میں مجوزہ صدارتی انتخابات منعقد نہ ہو سکے تو یوکرائن مزید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ اس صورت میں وہ ’روس کے خلاف مزید پابندیوں کا فیصلہ کرنے کے لیے‘ تیار ہوں گے۔

مغربی ممالک درحقیقت ماسکو کے خلاف نئی پابندیوں کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ یوکرائن کے علاقے کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے بعد سے یورپی یونین اب تک روس اور یوکرائن کی اڑتالیس شخصیات کو یونین میں شامل ملکوں کے سفر کے لیے ویزے جاری نہ کرنے اور اُن کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اب روسی کمپنیاں یورپی یونین کی نئی پابندیوں کا ہدف بن سکتی ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں