1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مشرقی یوکرائن میں علیحدگی پسندوں کا ریفرنڈم

عابد حسین12 مئی 2014

مشرقی یوکرائن کے دو انتظامی صوبوں ڈونیٹسک اور لُوگانسک میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے انتظام میں خود مختاری کے ریفرنڈم میں اتوار کے روزر ووٹ ڈالے گئے۔ ڈونیٹسک میں 89 فیصد ووٹرز نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالا۔

تصویر: picture-alliance/dpa

مشرقی یوکرائن کے علاقے ڈونیٹسک میں ریفرنڈم کی گنتی مکمل ہونے پر بتایا گیا کہ نواسی فیصد عوام نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالا اور دس فیصد ووٹرز آزادی کے مخالف رہے۔ ڈونیٹسک علاقے کے خود ساختہ الیکٹورل کمیشن کے سربراہ رومان لیاگِن ( Roman Lyagin) کا کہنا ہے کہ اس نتیجے کو حتمی سمجھا جائے۔ لیاگن کے مطابق ڈالے گئے ووٹوں کی شرح پچھتر فیصد تھی۔ ریفرنڈم کے دوسرے علاقے لُوگانسک میں گنتی جاری ہے اور اِس کی وجہ وقت ختم ہونے کے بعد بھی پولنگ جاری تھی۔

ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عملتصویر: picture-alliance/dpa

اتوار گیارہ مئی کے ریفرنڈم کے حوالے سے ووٹرز کے ٹرن آؤٹ کی مصدقہ اطلاع تو نہیں البتہ روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈونیٹسک اور لُوگانسک میں اکتہر اکہتر فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رُخ کیا۔ گنے جانے والے ووٹوں میں تقریباً پانح فیصد ووٹرز نے خود مختاری کے خلاف اور متحدہ یوکرائن کے حق میں ووٹ ڈالا۔ یہ بھی اہم ہے کہ روس نواز باغی ووٹنگ کے انتظام کے علاوہ حکومتی دستوں کی موومنٹ پر نگاہ رکھے ہوئے تھے اور اِس باعث شہروں میں داخل ہونے والے راستوں کو بھاری درخت گرا کر اور بے شمار ٹائروں رکھ کر بند کر دیا گیا تھا۔

روس نواز علیحدگی پسندوں نے ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد اس یقین کا اظہار کیا کہ ریفرنڈم کا نتیجہ اُن کے حق میں ہو گا اور اِس طرح مشرقی یوکرائنی علاقوں میں خود مختار جمہوریاؤں کا قیام عمل میں آ جائے گا۔ مغربی طاقتیں پہلے ہی اس ریفرنڈم کے انعقاد کو مسترد کر چکی ہیں۔ یوکرائن کی عبوری حکومت نے بھی یہ بارہا کہا ہے کہ اس ریفرنڈم کے پس پردہ روسی ہاتھ متحرک ہے۔ دوسری جانب گزشتہ ہفتے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پُوٹن کی ریفرنڈم ملتوی کرنے کی اپیل کو باغیوں نے مسترد کر دیا تھا۔

ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹرز کی بھیڑتصویر: Reuters

ریفرنڈم کے حوالے سے روس نواز علیحدگی پسندوں کی جانب سے متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ جن کے خیال ہے کہ ریفرنڈم کے نتیجے سے نئی ریاستوں کا وجود عمل میں آئے گا، وہ فوری طور پر نئی ریاستوں میں فوج کھڑی کرنے کی بات بھی کر رہے ہیں۔ کچھ اور کا خیال ہے کہ ریفرنڈم سے ڈونیٹسک اور لُوگانسک کی موجودہ ہیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو گی اور ریفرنڈم کا مقصد یوکرائن کی حکومت کو مطلع کرنا ہے کہ یہ علاقے کییف کی انتظامی عملداری میں رہنا نہیں چاہتے اور اپنے مستقبل کا تعین کرنا چاہتے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق مشرقی یوکرائن میں قائم تمام پولنگ اسٹیشنوں پر میلے کا سماں دیکھا گیا۔ لوگ جوش و خروش کے ساتھ اپنا ووٹ ڈالنے پہنچے۔ کچھ علاقوں میں کییف حکومت کے دستوں اور باغیوں میں چھوٹی چھوٹی جھڑپوں بھی ہوئی ہیں۔ اِن میں سلاویانسک کیے ٹیلی وژن ٹاور پر قبضے کی کوشش کے دوران بھی جھڑپ ہوئی۔ کئی شورش زدہ علاقوں میں پولنگ اسٹیشن کم بنائے گئے تھے اور وہاں ووٹرز کا ہجوم پولنگ ختم ہونے کے بعد بھی رہا۔

یورپی یونین نے اتوار کے روز ریفرنڈم کے انعقاد کو ایک مرتبہ پھر غیر قانونی قرار دیا۔ اسی طرح یوکرائن کی عبوری حکومت کی وزارت داخلہ نے ریفرنڈم کو ایک مجرمانہ رویہ قرار دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مشرقی یوکرائن کی دو تہائی آبادی نے ریفرنڈم کی پولنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔ اسی دوران ایک اور پیش رفت یہ ہے کہ روس کے نائب وزیراعظم ڈیمٹری روگوزین (Dmitry Rogozin) کا کہنا ہے کہ مالدووا کے علیحدگی پسند علاقے ٹرانسنیسٹریا کی عوام نے ماسکو حکومت کو ایک درخواست دی ہے کہ وہ روسی فیڈرشن میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ٹرانسنسٹریا کے علاقے نے پہلے ہی مالدووا سے اپنی علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔

مشرقی یوکرائنی علاقوں میں خود مختاری کے لیے کروائے گئے ریفرنڈم کے دوران کییف حکومت کی وفادار سکیورٹی دستوں نے ایک پولنگ اسٹیشن پر ہونے والی جھڑپ کے بعد جمع ہجوم پر گولی چلانے کا بتایا گیا ہے۔ روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا ہے۔ فائرنگ اُس وقت کی گئی جب عام لوگ فوجی دستوں کو ایک عمارت میں داخل نہیں ہونے دے رہے تھے۔ فائرنگ کا یہ وقوعہ ایک گاؤں کراسنوارمیسک (Krasnoarmeisk) میں پیش آیا۔ ایسی ہی ایک اور اطلاع کے مطابق لُوہانسک شہر کے قریبی گاؤں کے لوگوں نے یوکرائنی حکومت کے سکیورٹی دستوں کی پیش قدمی روک دی۔ گاؤں کے لوگ نے اکھٹے ہو کر اِن دستوں کے راستے میں دیوار کی صورت اختیار کر لی تھی۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں