1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مشرقی یوکرائن میں فائر بندی معاہدہ

عدنان اسحاق5 ستمبر 2014

کییف حکومت اور روس نواز باغیوں نے مشرقی یوکرائن میں فائر بندی کی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ یوکرائن میں امن کے قیام کے لیے قائم کی جانے والی اس کمیٹی کا اجلاس بیلا روس کے دارالحکومت منسک میں ہوا۔

تصویر: Vasily Maximov/AFP/Getty Images

روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق یوکرائن کے بحران کے حل کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کی بات چیت کامیاب ہو گئی ہے اور مشرقی یوکرائن میں فائر بندی پر آج شام سے ہی عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ اس کمیٹی میں کییف اور ماسکو کے نمائندوں کے علاوہ مشرقی یوکرائن کے باغیوں اور سلامتی اور تعاون کی یورپی تنظیم کے ارکان بھی شامل تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ احکامات متعلقہ افسران تک پہچانا آسان نہیں ہے اور اسی پیچیدگی کی وجہ سے فائر بندی معاہدے پر فوری طور پرعمل کرنا بھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اس سے قبل کییف حکومت مشرقی یوکرائن کے باغیوں سے مذاکرات کرنے سے مسلسل انکار کرتی آ رہی تھی۔ جب کہ روس کا موقف تھا کہ جب تک امن بات چیت میں تنازعے کے تمام فریقین کو شامل نہیں کیا جاتا وہ کسی معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا۔

ہم یوکرائن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے رہیں گے، میرکلتصویر: Leon Neal/AFP/Getty Images

یوکرائن کے وزیراعظم آرسنی باتسنیک نے کہا امن معاہدے میں یوکرائن کی سرزمین سے روسی دستوں کے انخلاء ، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ اور سرحدوں کے دوبارہ تعین جیسے معاملات کو بھی شامل کیا جائے۔

دوسری جانب برطانوی علاقے ویلز میں جاری مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شریک رہنماؤں نے اس فائر بندی سمجھوتے کو سراہا ہے۔ اس موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شامل دیگر سربراہاں نے یوکرائن کو تعاون فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ انگیلا میرکل نے کہا کہ کییف حکومت کی سیاسی اور عسکری شعبے میں مدد جاری رکھی جائے گی، ’’ہم یوکرائن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے رہیں گے اور تعاون میں بھی مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ہم اس مسئلے کو سیاسی انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ جرمن چانسلر نے زور دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اس مسئلے کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا۔

نیٹو کے سربراہی اجلاس کے دوسرے اور آخری دن توجہ اس اتحاد میں شامل مشرقی یورپی ریاستوں کو تحفظ فراہم کرنے کے موضوع پر مرکوز رہی۔ اس دوران ایک ایسا دستہ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا، جو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں نیٹو کے ارکان کو تحفظ فراہم کرے گا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ سریع الحرکت دستہ چار ہزار فوجی پر مشتمل ہو گا۔ اس موقع پر نیٹو کے سکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے ماسکو حکومت سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اشتعال انگیزی کو ترک کرتے ہوئے امن کا راستہ اپنائے‘‘۔

راسموسن نے مزید کہا کہ عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں کے خلاف بھی نیٹو کے تمام ارکان متحد ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ نیٹو کی اگلی سربراہی کانفرنس 2016ء میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہو گی۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں