مشرقی یوکرائن کا متنازعہ ريفرنڈم گيارہ مئی کو ہی ہوگا
9 مئی 2014
مشرقی يوکرائن ميں روس نواز باغيوں نے روسی صدر ولادیمير پوٹن کے حاليہ مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طے شدہ ريفرنڈم مقررہ تاريخ کو ہی ہوگا۔ دريں اثناء يوکرائنی وزير اعظم نے بھی روسی صدر کے بيان پر سواليہ نشان لگاتے ہوئے کئی خدشات کا اظہار کيا ہے۔
روس نواز عليحدگی پسندوں نے يوکرائن کے مشرقی شہر ڈونيتسک ميں گيارہ مئی کو علاقے کی خودمختاری کے لیے ريفرنڈم کا اعلان کر رکھا ہے۔ خود کو ’پيپلز ری پبلک آف ڈونيتسک‘ کا سربراہ قرار دينے والے ڈينس پُشِيلِين نے گزشتہ روز رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے ريفرنڈم کو پايہء تکميل تک پہنچانے کے عزم کو دہرايا۔ اُن کے بقول اِس سلسلے ميں اندرونی سطح پر کرائی جانے والی رائے شماری ميں تمام متعلقہ افراد نے متفقہ طور پر فيصلہ کيا کہ ريفرنڈم کی مقررہ تاريخ ميں کوئی تبديلی نہيں کی جائے گی۔
قبل ازيں اِسی ہفتے بدھ کو روسی صدر پوٹن نے اِن باغيوں سے اپيل کی تھی کہ وہ ريفرنڈم ملتوی کر ديں تاکہ خطے ميں پائی جانے والی کشيدگی ميں کمی ممکن ہو سکے۔ پوٹن نے کييف حکومت سے بھی مطالبہ کيا تھا کہ اگر پچيس مئی کو طے شدہ صدارتی انتخابات ميں ماسکو کی حمايت درکار ہے، تو يوکرائنی انتظاميہ کو مشرقی يوکرائن ميں روس نواز عليحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی ترک کرنا ہوگی۔ اِس کے رد عمل ميں يوکرائنی سيکرٹری برائے قومی سلامتی اينڈری پاروبی نے گزشتہ روز کہا کہ باغيوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے تحت آپريشن جاری رکھا جائے گا۔
دريں اثناء يوکرائنی وزير اعظم نے جمعرات کے روز ايک ٹيلی وژن چينل پر نشر کردہ انٹرويو کے دوران روسی صدر کے اُس بيان کے حوالے سے خدشات کا اظہار کيا، جس ميں پوٹن نے روس نواز باغيوں سے مطالبہ کيا تھا کہ وہ ريفرنڈم ملتوی کر ديں۔ آرسینی یاتسینیُک نے پوٹن کے بيانات پر سواليہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ اُنہيں يہ خدشہ ہے کہ دوسری جنگ عظيم ميں نازی جرمنی کی شکست کی ياد ميں آج ہونے والی تقريبات ميں کوئی ناخوش گوار واقعہ نہ پيش آئے۔
روس اور يوکرائن دونوں ہی ممالک ميں جمعے کے روز دوسری جنگ عظيم ميں سابقہ سويت يونين کی کاميابی اور نازی جرمنی کی شکست کی ياد ميں جشن منائے جا رہے ہيں۔ اس بارے ميں بات کرتے ہوئے یاتسینیُک نے خدشہ ظاہر کيا کہ روسی صدر ولادی مير پوٹن کے رويے ميں نرمی اور اُن کے تازہ بيانات نے اُنہيں اِس سوچ ميں ڈال ديا ہے کہ کہيں ماسکو نو مئی کی تقريبات کے دوران کسی منفی کارروائی کا ارادہ تو نہيں رکھتا۔
نو مئی 1945ء کو نازی جرمنی کی شکست کی ياد ميں يوکرائن کے بيشتر حصوں ميں خصوصی تقريبات منعقد کی جا رہی ہيں۔ اِس موقع پر کسی ناخشگوار واقعے سے نمٹنے کے ليے سخت حفاظتی انتظامات کيے گئے ہيں۔
دريں اثناء واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق امريکی صدر باراک اوباما فرانس ميں آئندہ ماہ ہونے والی ايک تقريب کے دوران اپنے روسی ہم منصب ولادیمير پوٹن سے دو طرفہ ملاقات کرنے کا کوئی ارادہ نہيں رکھتے۔ اِس بارے ميں وائٹ ہاؤس کی طرف سے اعلان جمعرات کے روز کيا گيا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ’ايلائيڈ‘ يا مشترکہ افواج کی آمد کو ستر برس مکمل ہونے کے موقع پر مغربی فرانس ميں نورمنڈی کے مقام پر چھ جون کو ايک تقريب منعقد ہو گی، جس ميں اوباما اور پوٹن شرکت کريں گے۔
امريکی نيشنل سکيورٹی کونسل کی ترجمان کيٹلين ہيڈن نے يہ تصديق کی کہ صدر اوباما روسی صدر پوٹن سے ملنے کا کوئی ارادہ نہيں رکھتے۔ ہيڈن کا مزيد کہنا تھا کہ امريکا يہ بات سمجھ سکتا ہے کہ فرانس اُس تاريخی تنازعے کے تمام فريقوں کو دعوت دينا چاہتا تھا۔
اسی بارے ميں بات کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کی ترجمان جينيفر ساکی نے کہا، ’’يوکرائن ميں جو کچھ ہو رہا ہے، اِس حوالے سے موجودہ اختلافات کے باوجود، يہ ايک حقيقت ہے کہ ستر سال قبل نازی دور کے خاتمے کے ليے امريکا، فرانس، برطانيہ اور سابق سويت يونين کے علاوہ متعدد ديگر رياستيں متحد ہوئی تھيں۔‘‘