مشرقی یوکرائن کا متنازعہ ریفرنڈم
11 مئی 2014
مشرقی یوکرائن میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے آج ہونے والے ریفرنڈم کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یوکرائن کی کُل آبادی 46 ملین ہے اور ڈونیٹسک اور لُوگانسک علاقے کی آبادی 7.3 ملین کے قریب ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ پہلے ہی اِس ریفرنڈم کو غیرقانونی قرار دے چکے ہیں۔ روس نواز باغیوں کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ ٹرن آؤٹ سوفیصد رہنے کا امکان ہے۔ سلاویانسک شہر کے لیڈر ویاچیسلاو پونوماریوف کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج کے فوری بعد جمہوریہ ڈونیٹسک معرضِ وجود میں آ جائے گی اور اپنے حکومتی معاملات شروع کر دے گا۔ روس نواز باغیوں کا کہنا ہے کہ نئی جمہوریہ، روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دے گی۔ ایک اور روس نواز لیڈر رومان لیاگِن کا خیال ہے کہ جمہوریہ ڈونیٹسک کی آزادی کے حق میں ڈالے گئے ووٹ سے مراد اُس کا روس سے الحاق نہیں ہے۔
متنازعہ ریفرنڈم کے موقع پر یوکرائن کی عبوری حکومت کے صدر اولیکزانڈر تُرچینوف نے مشرقی علاقے کی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اگر انہوں نے اس علیحدگی پسندی کے ریفرنڈم کے حق میں اپنا ووٹ ڈالا تو ایک بڑی مصیبت کو دعوت دیں گے جو اُن کے علاقے کی تعمیر اور ترقی کے لیے گہرے نقصانات کی حامل ہو گی۔ تُرچینوف نے یہ بھی کہا کہ مشرقی حصے میں پیدا صورت حال بہت پیچیدہ ہے اور وہ دہشت گردوں کے پراپیگنڈے سے دھوکا نہ کھائیں۔ مشرقی یوکرائن کے تمام بڑے شہروں میں ریفرنڈم کے موقع پر کنفیوژن کو محسوس بھی کیا جا رہا ہے۔ روس نواز باغیوں نے بھی کییف حکومت کو فاشِسٹ اور روس دشمن قرار دیا ہے۔
یوکرائن کے صدر تُرچینوف کا اپنے شورش زدہ مشرقی خطے کے باغیوں کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ اِس خطے کی عوام کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے جو علاقے کی تباہی کے درپے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس کا تعین کون کرے گا کہ مشرقی یوکرائن کے روس نوازوں باغیوں کے حقیقی نمائندے کون ہیں۔ سلاویانسک شہر کے باغیوں کے رہنما ویاچیسلاو پونوماریوف کا جواباً کہنا ہے کہ کییف حکومت اپنے فوجی جب تک واپس نہیں بلاتی تب تک مذاکرات شروع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر روس نے یوکرائن کے صدارتی انتخابات کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی تو اِس کے انتہائی سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ یوکرائن میں پچیس مئی کو صدارتی الیکشن کا انعقاد ہو گا۔ دونوں لیڈروں کا بیان آج مشرقی یوکرائن میں ہونے والے متنازعہ ریفرنڈم کے موقع پر جاری کیا گیا ہے۔ جرمن اور فرانسیسی لیڈران کے بیان میں کہا گیا کہ اگر پچیس مئی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے والے الیکشن نہ ہوئے تو اِس سے یوکرائن کو عدم استحکام کا سامنا ہو سکتا ہے۔