1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مشرق وسطیٰ میں برطانوی اور فرانسیسی استعمار کے مظالم

21 دسمبر 2025

غیر ملکی استعمار نے ایسے مخصوص فوجی دستے تیار کر رکھے تھے، جو اذیت دینے، قتل و غارت گری اور مخالفین کو اغوا کرنے میں ماہر تھے۔ ان اقدامات کا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی قسم کی بغاوت کے تمام نشانات مٹا دیےجائیں۔

ڈاکٹر مبارک علی
ڈاکٹر مبارک علی تصویر: privat

پہلی عالمی جنگ کے خاتمے پر انگلینڈ اور فرانس نے مشرقی وسطیٰ میں عثمانی خلافت کے علاقوں کو آپس میں تقسیم کر کے وہاں اپنا الگ الگ مینڈیٹ قائم کیا۔ یہ طریقہ کار کلونیل ازم سے مختلف تھا لیکن اس میں تمام اختیارات انگلستان یا فرانس کو حاصل تھے۔ فرانس کو شام اور لبنان کے علاقے دیے گئے۔ انگلینڈ کو عراق، فلسطین اور اردن کے ممالک دیے گئے۔ اس سسٹم میں اقتدار علاقے کے لیے ’’ضروری‘‘ طاقتوں کو حاصل ہوتا تھا۔ جبکہ مقامی آبادی ان کے ماتحت تھی۔

جنگ کے خاتمے کے  بعد مشرق  وسطیٰ کے ممالک کو امید تھی کہ وہ آزادی حاصل کر کے خود مختار اقوام کی حیثیت اختیار کرلیں گے۔ لیکن ان کی امیدیں اس وقت ختم ہو گئیں، جب انگلستان اور فرانس نے اپنی فوجیں بھیج کر ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور انتظامی امور چلانے کے لیے اپنے سیاسی عہدیداروں کا تقرر کیا۔

کیرولین ولکر نے اپنے مضمون ''برٹش سامراج کے مظالم‘‘ میں  ان کی تفصیل دی ہے۔ یہ مضمون Philip Dwyer اور Mark S. Micale کی مرتب کردہ کتاب On Violence in History میں شائع ہوا ہے۔

1836 میں فلسطین میں برطانیہ کے خلاف عربوں کی ایک بڑی بغاوت ہوئی، جس کی وجہ سے برطانوی اقتدار کو خطرہ پیدا ہوا۔  اس نے بغاوت کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے۔ خاص فوجی دستے تیار کیےگئے، جو اذیت دینے، قتل و غارت گری اور مخالفین کو اغوا کرنے میں ماہر تھے۔ یہ اقدامات رات کے اندھیرے میں کیے جاتے تھے اور تمام معلومات کو خفیہ رکھا جاتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ بغاوت کے تمام نشانات مٹا دیےجائیں۔

فلسطینی رہنما جمال الحسینی نےلیگ آف نیشنز  کو فراہم کی گئی اپنی دستاویزات میں بیان کیا کہ قابض فوجی جسمانی اذیتیں دینے میں خاص مہارت رکھتے تھے، ان کے استعمال کردہ چند طریقوں میں گرم لوہے سے جسم داغنا، کھال ادھیڑنا اور جسم کو زخموں سے چور کر دینا شامل تھا۔ یہ برطانوی استعمار کے خلاف عسکری جدوجہد میں حصہ لینے والوں کے گھروں کو مسمار کرتے تھے۔ عورتوں اور لڑکیوں کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بناتے۔ الحسینی نے دوسری کئی شہادتوں کے بعد اپنی دستاویزات لیگ آف نیشنز میں بھیجیں مگر اسے کوئی جواب نہیں ملا اور اس کے کاغذات لفافوں میں بند رہے۔

برطانوی حکومت نے  اپنی ان ظالمانہ کاروائیوں سے انکار کیا۔ اور اس کے مقابلے میں لبرل ازم اور تہذیب کے نظریات کو پیش کیا۔ برطانوی وزیراعظم نویل چیمبرلین نے عربوں کے اعتراضات رد کرتے ہوئے اسے پراپیگنڈا قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ انگریز قوم بڑی مہذب ہے اور ایشیا اور فریقہ میں لوگوں کو مہذب بنا رہے ہیں۔

برطانیہ کے دانشواروں نے بھی اپنے ملک کی پالیسی کو سراہا یا تعریف کی۔ ان میں جان اسٹیورٹ مل اور ان کے والد جیمز مل بھی شامل تھے اور یہ دونوں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم بھی تھے۔ جان اسٹیورٹ نے  یہ دلیل دی کہ انگلستان ایک مہذب  ملک  ہے جبکہ ایشیا کے ممالک تہذیبی طور پر پسماندہ ہیں۔ ان میں نہ عقل ہے نہ شعور اس لیے انہیں قابو میں رکھنے کے لیے سزاؤں اور سختی کی ضرورت ہے۔ ایک اور برطانوی دانشور نے یہ دلیل دی کہ ان جاہل قوموں کو ایسا سبق پڑھایا جائے، جسے  وہ ہمیشہ یاد رکھیں۔ لہٰذا عوامی بغاوتوں کو کچلنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کیے گئے مثلاً 1857 میں ہندوستان کی بغاوت کے خاتمے کے بعد باغیوں کو توپوں کے دھانوں سے باندھ کر بارود سے اڑا دیا گیا۔ آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کو پھانسیاں  دی گئی اورشہروں کو خالی کرایا گیا۔ قیدیو ں کو کالا پانی جلا وطن کیا گیا۔ اس طرح برطانوی اقتدار مستحکم ہوا۔

برطانوی سامراج  کی یہ کاروائیاں دوسری کالونیوں میں بھی جاری رہیں۔ نائجیریا میں ماؤ ماؤ کی تاریخ کا خاتمہ کیا گیا اور 150 لوگوں کو ایک ساتھ پھانسی دی گئی۔ کینیا میں قیدیوں کو کیمپ میں رکھ کر کئی ہفتے انہیں بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ جس میں بہت سے لوگوں کی اموات واقع ہوئیں۔ جمیکا  میں غلاموں نے اپنے مظالم کے خلاف کئی بغاوتیں کیں۔ جنہیں سختی کے ساتھ کچل دیا گیا۔ ایک دردناک واقعہ یہ ہوا کہ ایک غلام نے گنے کے رس کی ابلتی ہوئی کڑاہی میں کود کر جان دے دی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ برطانوی معاشرہ اور اس کے دانشور ایشیا اور افریقہ میں اپنے ملک کی حمایت کرتے ہیں۔ چاہے وہ امرتسر میں لوگوں کا قتل ہو یا کریبیئن جزائر میں غلامی کا کاروبار ہو اور غلاموں کی بغاوتوں کو اپنے اقتدار کی خاطر کچلا جائے۔

برطانوی سامراج نے نہ صرف اپنی تاریخ کو مسخ کیا اور واقعات کو غلط انداز سے پیش کر کے ان کی اصلیت  سے انکار کیا بلکہ اس نے اپنی تہذیبی برتری بیان کرتے ہوئے محکوم قوموں کو پسماندہ کہا اور تاریخ میں ان دستاویزات کو شائع نہیں ہونے دیا۔ جس میں ان کی بربریت کے واقعات ہیں۔ لہذا سامراج کی یہ تاریخ ابھی نامکمل ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں