1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مصر کے حالات پر یورپی یونین کا خصوصی اجلاس آج

عابد حسین19 اگست 2013

یورپی یونین کی 28 اقوام کے وزرائے خارجہ عرب دنیا کے شورش زدہ ملک مصر کے پرتشدد حالات پر گفتگو کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس میں اہم فیصلوں کی توقع ہے۔

تصویر: Petras Malukas/AFP/Getty Images

یورپی یونین کے سفارتکار مصر کی صورت حال پر گفتگو کے لیے آج پیر کے روز برسلز میں جمع ہوں گے۔ یورپی یونین کے لیڈروں نے قاہرہ حکومت کو حالیہ کریک ڈاؤن کے تناظر میں متنبہ کیا ہے کہ اس سلسلے کو روکنا بہت ضروری ہے۔ یورپی یونین کے صدر ہیرمن فان رومپوئے اور یورپی کمیشن کے سربراہ یوزے مانویل باروسو کی جانب سے انتباہی بیانات میں کہا گیا کہ اگر پرتشدد حکومتی کارروائیوں میں کمی واقع نہ ہوئی تو یورپی یونین مصر کے ساتھ تعلقات پر نظرِثانی کے لیے تیار ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ یورپی یونین مصر کو سب سے زیادہ قرض دینے والا بلاک ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین امداد، کاروبار اور سیاحت کے حوالے سے بھی مصر کے لیے انتہائی اہم ہے۔ گزشتہ برس مصر کو یونین کی جانب سے پانچ ارب یورو کی امداد دی گئی تھی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے بقول اسلحے کی برآمد پر پابندی سے مصری حکومت پر خونریزی کو فوری طور پر روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ ٹیلی وژن پر نشر کی جانے والی بات چیت میں میرکل کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح برلن حکومت مصر میں رونما ہونے والے واقعات پر اپنے شکوک و شبہات کا بھی واضح انداز میں اظہار کر سکتی ہے۔ میرکل نے کہا کہ یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی مصر کے حالات پر غور کیا جائے گا۔ ان کے بقول مصر کی صورتحال تشویشناک ہے۔ میرکل نے مزید کہا کہ غور کیا جا رہا ہے کہ ان حالات میں کیا اقدامات اٹھائے جانے چاہییں۔

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کا ایک انٹرویو ہفت روزہ مگیزین فوکس میں شائع ہوا ہے۔ اس میں ان کا کہنا تھا ک ہبرلن حکومت نے مصر کے ساتھ اسلحے کی ایکسپورٹ کے حوالے سے تعلقات کو پہلے ہی محدود کر دیا ہے اور حالیہ صورتحال کے تناظر میں یہ معاملہ ایسے ہی رکھا جائے گا۔ دوسری جانب جرمن وزارت اقتصادیات کی جانب سے ہفتے کے روز ایسا عندیہ دیا گیا تھا کہ مصر کے لیے ایکسپورٹ کے تمام ممکنہ فیصلوں کو سرِدست منجمد کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ برس مرسی نے یورپی کمیشن کے صدر بارروسو کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں شرکت کی تھیتصویر: Reuters

ادھر فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ یورپی اور عرب اقوام پر مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مصر میں تشدد کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔ ان خیالات کا اظہار اولاند نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد کیا۔ اولاند کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مصر معاملات میں مداخلت کے قائل نہیں لیکن مصر جیسی قوم کے ساتھ اس درجہ تشدد بھی ناقابل قبول ہے۔ اولاند نے مصری حکام پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد انتخابی عمل کو مکمل کریں۔ اُدھر فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیوس نے اپنے قطری ہم منصب محمد العطیہ سے ملاقات کے دوران مصر میں پیدا شدہ تقسیم پر خاص طور پر توجہ مرکوز کی۔ فابیوس نے یہ بھی کہا کہ مصر میں خون خرابے کو ختم کروانے کے بعد منقسم مصری قوم کے درمیان مذاکراتی عمل شروع کیا جائے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں