1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مصر کے ساتھ تعلقات پر ’فوری نظر ثانی‘ کر سکتے ہیں، یورپی یونین

افسر اعوان18 اگست 2013

یورپی یونین کے سربراہان نے مصری فوج اور عبوری حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ملک میں جاری تشدد کا خاتمہ کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف واپسی کا راستہ نہ اپنایا گیا تو یہ بلاک مصر کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

یورپی یونین کے صدر ہیرمان فان رومپوئے اور یورپین کمیشن کے سربراہ یوزے مانویل باروسو کی طرف سے جاری ہونے والے ایک طویل بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصر میں جاری بحران اگر مزید پھیلتا ہے تو اس کے مصر اور علاقے کے لیے ’ناقابل اندازہ نتائج‘ برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان رہنماؤں نے حالات کی بہتری کی ذمہ داری فوج اور حکومت پر عائد کی ہے۔

تصویر: Mosaab El-Shamy/AFP/Getty Images

رومپوئے اور باروسو کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ’’مصری عوام کی طرف سے جمہوریت کا مطالبہ اور بنیادی آزادی کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان مطالبات کو خون میں بہایا جاسکتا ہے۔‘‘

اس بیان کے مطابق، ’’بین الاقوامی اور علاقائی پارٹنرز کے ساتھ مل کر یورپی یونین مصر میں تشدد کے خاتمے، سیاسی ڈائیلاگ اور جمہوری عمل کی طرف واپسی کے لیے تندہی کے ساتھ اپنی کوششوں میں مصروف رہے گی۔ اس مقصد کے لیے یورپی یونین اپنی رکن ریاستوں کے ساتھ آئندہ دنوں میں مصر کے ساتھ اپنے تعلقات پر فوری نظر ثانی کرے گی اور ان مقاصد کے حصول کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔‘‘

یورپین یونین کے سربراہوں کی طرف سے یہ بیان دراصل 28 رکنی اس بلاک کے سفارت کاروں کی مصر کے حوالے سے برسلز میں ہونے والی ایک ایمرجنسی میٹنگ سے محض 24 گھنٹے قبل سامنے آیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس میٹنگ کے بعد یورپی وزائے خارجہ کا اجلاس بھی آئندہ چند دنوں میں بلا لیا جائے گا۔

یورپی یونین کے سربراہان کے اس بیان کے مطابق یہ بات انتہائی ضروی ہے کہ مصر میں جاری تشدد کو فوری طور پر روکا جائے: ’’اس کے باوجود کہ تمام فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینا چاہیے، ہم خاص طور پر اس کی ذمہ داری عبوری حکومت اور فوج پر عائد کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان جھڑپوں کو رکوائے۔‘‘

تصویر: Reuters

’’تشدد اور گزشتہ دنوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کو کسی بھی طور نہ تو جائز قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور ان پر عمل کیا جائے۔ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔‘‘

محمد مُرسی کے حامیوں کی طرف سے نئے مظاہروں کا اعلان

مصر کے اقتدار سے ہٹائے جانے والے صدر محمد مُرسی کے حامیوں نے آج اتوار کے روز نئے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں جاری بحران مزید شدید ہوتا جا رہا ہے اور گزشتہ چار دنوں کے دوران محمد مُرسی کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن اور جھڑپوں کے نتیجے میں 750 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ روز ہی پولیس نے قاہرہ کی الفتح مسجد کو مُرسی کے حامیوں سے خالی کروایا تھا۔ نئے اعلان کے مطابق آج نماز ظہر کے بعد قاہرہ کے مشرقی اور مغربی حصے میں دو ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں