مصنوعی ذہانت: انتہا پسند تنظیموں کا نیا ہتھیار
15 دسمبر 2025
قومی سلامتی کے ماہرین اور خفیہ ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسند تنظیموں کے لیے اے آئی نئے ارکان کی بھرتی، حقیقت سے قریب تر ڈیپ فیک تصاویر بنانے اور اپنے سائبر حملوں کو مزید مؤثر بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ماہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے ایک حامی نے ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں دیگر داعشی حامیوں پر زور دیا کہ وہ اے آئی کو اپنی کارروائیوں کا حصہ بنائیں۔ صارف نے انگریزی میں لکھا، ''اے آئی کی سب سے اچھی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اسے استعمال کرنا کتنا آسان ہے۔‘‘
اس نے مزید لکھا،''کچھ خفیہ اداروں کو خدشہ ہے کہ اے آئی بھرتی میں مدد دے گی، اس لیے ان کے ڈراؤنے خوابوں کو حقیقت بنا دو۔‘‘
قومی سلامتی کے ماہرین کے مطابق داعش، جس نے برسوں پہلے عراق اور شام کے بعض علاقوں پر قبضہ کیا تھا، نے کافی عرصہ پہلے ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ سوشل میڈیا بھرتی اور غلط معلومات پھیلانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہو سکتا ہے۔اس لیے یہ حیران کن نہیں کہ یہ گروہ اب اے آئی کو آزما رہا ہے۔
کمزور ڈھانچے اور محدود وسائل رکھنے والے انتہاپسند گروہوں، یا حتیٰ کہ انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا کوئی ایک فرد بھی اے آئی کے ذریعے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا یا ڈیپ فیک مواد تیار کر سکتا ہے، جس سے ان کی رسائی میں اضافہ اور اثر ورسوخ میں توسیع ہو سکتی ہے۔
نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق محقق اور اب سائبر سکیورٹی کمپنی کلیئر ویکٹر کے سی ای او جان لالیبرتے نے کہا، ''کسی بھی مخالف کے لیے اے آئی واقعی چیزوں کو کہیں زیادہ آسان بنا دیتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک چھوٹا گروہ جس کے پاس زیادہ وسائل یا پیسہ نہ ہو، اے آئی کی مدد سے اثرانداز ہونے کے قابل ہو جاتا ہے۔‘‘
انتہا پسند گروہ اے آئی کے ساتھ کس طرح تجربات کر رہے ہیں؟
چیٹ جی پی ٹی جیسے پروگرام عام لوگوں کی دسترس میں آتے ہی عسکریت پسند گروہوں نے اے آئی کا استعمال شروع کر دیا۔ اس کے بعد کے برسوں میں انہوں نے حقیقت سے قریب تر تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے لیے جنریٹو اے آئی پروگراموں کا استعمال بڑھا دیا ہے۔
جب اس جعلی مواد کو سوشل میڈیا الگورتھمز کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے تو یہ نئے حامیوں کی بھرتی، دشمنوں کو الجھانے یا خوفزدہ کرنے، اور ایسے پیمانے پر پروپیگنڈا پھیلانے میں مدد دیتا ہے جو چند سال پہلے تک ناقابلِ تصور تھا۔
دو سال قبل ان گروہوں نے اسرائیل حماس جنگ سے متعلق جعلی تصاویر پھیلائیں، جن میں بمباری سے تباہ عمارتوں میں خون میں لت پت اور لاوارث بچوں کو دکھایا گیا تھا۔ ان تصاویر نے شدید غصہ اور نفرت کو جنم دیا، جبکہ جنگ کی اصل ہولناکیوں کو دھندلا دیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم پرتشدد گروہوں نے ان تصاویر کو نئے ارکان کی بھرتی کے لیے استعمال کیا، جبکہ امریکہ اور دیگر ممالک میں سامیت مخالف گروہوں نے بھی یہی طریقہ اپنایا۔
گزشتہ برس روس میں ایک کنسرٹ ہال پر ہونے والے حملے کے بعد بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا، جس کی ذمہ داری داعش سے وابستہ ایک گروہ نے قبول کی تھی اور جس میں تقریباً 140 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد اے آئی سے تیار کردہ پروپیگنڈہ ویڈیوز مختلف فورمز اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلائی گئیں، جن کا مقصد نئے بھرتی ہونے والوں کو راغب کرنا تھا۔
انٹیلیجنس گروپ'سائٹ‘جو انتہا پسند سرگرمیوں پر نظر رکھنے والا ادارہ ہے، کے محققین کے مطابق، داعش نے اپنے رہنماؤں کی قرآن کی تلاوت پر مبنی ڈیپ فیک آڈیو ریکارڈنگز بھی تیار کی ہیں اور اے آئی کی مدد سے اپنے پیغامات کو تیزی سے متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا ہے۔
فی الحال ہدف دور ہے
مارکس فاؤلر، جو سی آئی اے کے سابق ایجنٹ ہیں اور اب وفاقی حکومت کے ساتھ کام کرنے والی سائبر سکیورٹی کمپنی ڈارک ٹریس فیڈرل کے سی ای او ہیں، اے آئی کے زیادہ جدید استعمال کو فی الحال محض ''خواہش پر مبنی‘‘سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے گروہ ابھی چین، روس یا ایران سے پیچھے ہیں۔
تاہم ان کے بقول خطرات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں، اور جیسے جیسے اے آئی کا استعمال بڑھے گا، یہ خطرات بھی بڑھتے جائیں گے۔
ہیکرز پہلے ہی مصنوعی آڈیو اور ویڈیو استعمال کر رہے ہیں، جن کے ذریعے وہ کسی سینئر کاروباری یا سرکاری عہدیدار کی نقالی کر کے حساس نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اے آئی کی مدد سے نقصان دہ کوڈ لکھ سکتے ہیں یا سائبر حملوں کے بعض پہلوؤں کو خودکار بنا سکتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک امکان یہ ہے کہ عسکریت پسند گروہ تکنیکی مہارت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اے آئی کو حیاتیاتی یا کیمیائی ہتھیار بنانے میں مدد کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ اس خطرے کا ذکر رواں سال کے آغاز میں جاری کی گئی محکمۂ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) کی تازہ ہوم لینڈ تھریٹ اسیسمنٹ میں بھی کیا گیا ہے۔
فاؤلر نے کہا، ''داعش نے ابتدائی دور میں ہی ٹوئٹر کا استعمال شروع کر دیا تھا اور سوشل میڈیا کو اپنے فائدے کے لیے برتنے کے طریقے تلاش کر لیے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے ہتھیاروں میں شامل کرنے کے لیے اگلی نئی چیز کی تلاش میں رہتے ہیں۔‘‘
بڑھتے ہوئے خطرے کا تدارک
قانون سازوں نے متعدد تجاویز پیش کی ہیں اور کہا ہے کہ اس متعلق فوری کارروائی کی اشد ضرورت ہے۔
ورجینیا سے سینیٹر مارک وارنر، جو سینیٹ انٹیلیجنس کمیٹی میں اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ ہیں، نےکہا کہ امریکہ کو اے آئی ڈویلپرز کے لیے یہ آسان بنانا ہو گا کہ وہ اس بارے میں معلومات شیئر کریں کہ ان کی مصنوعات کو بُرے عناصر کس طرح استعمال کر رہے ہیں، چاہے وہ انتہاپسند ہوں، مجرمانہ ہیکرز ہوں یا غیر ملکی جاسوس۔
انتہاپسند خطرات سے متعلق حالیہ ایک سماعت کے دوران ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو بتایا گیا کہ داعش اور القاعدہ نے اپنے حامیوں کو اے آئی استعمال کرنا سکھانے کے لیے تربیتی ورکشاپس بھی منعقد کی ہیں۔
گزشتہ ماہ امریکی ایوانِ نمائندگان سے منظور ہونے والی قانون سازی کے تحت محکمۂ داخلی سلامتی کے عہدیداروں کو ہر سال ایسے گروہوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کا جائزہ لینا ہو گا۔
ادارت: رابعہ بگٹی