مطلق العنان ریاست: اقتدار اور آزادی کا تصادم
4 جنوری 2026
تاریخ میں حکمران طبقہ مختلف سیاسی تجربات کے ذریعے عوام کو کنٹرول کرتا رہا ہے۔ حکومت کے پاس طاقت ہوتی ہے جبکہ عام لوگوں کے پاس مزاحمت ہوتی ہے۔ اس تصادم کے نتیجے میں تاریخ بدلتی رہتی ہے۔
مطلق العنانیت (Totalitarianism) کی اصطلاح کو سب سے پہلے اطالوی آمر بینیٹو موسولینی (Benito Mussolini) نے اپنے سیاسی نظام کے لیے باقاعدہ طور پر اپنایا۔ موجودہ دور میں ریاست پر قبضہ کرنے کے لیے دو طریقوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ایک مسلح جدوجہد کے ذریعے اور دوسرا انتخابات کی مدد سے۔ موسولینی نے 1922ء میں اپنی پارٹی کے مسلح دستوں کی مدد سے روم پر قبضہ کیا اور پھر اٹلی کے بادشاہ سے مل کر سیاسی طاقت حاصل کی۔ موسولینی کی حکومت کو فاشسٹ کہا جاتا رہا ہے۔ اس لیے کیونکہ اس دور میں عوام کو متحد کر کے انہیں پابندیوں کے ذریعے جکڑ کر رکھا گیا۔
جرمنی میں ہٹلر 1933ء کے انتخابات میں کامیاب ہو کر آیا۔ اس کی پارٹی نے نیشنل سوشلزم کا نعرہ لگایا۔ لیکن تاریخ میں یہ نازی پارٹی کہلائی۔ جب جرمنی کے صدر پال فان ہنڈنبرگ (Hindenburg) کی 1934ء میں وفات ہوئی تو ہٹلر جرمنی کا صدر بن گیا اور ایک مطلق العنان حکومت کا قیام عمل میں آیا۔
مورخین نے اس اصطلاح کی تعریف کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ مطلق العنان ریاست میں ایک ہی سیاسی پارٹی ہوتی ہے۔ میڈیا پر سنسرشپ ہوتی ہے۔ کتابوں کی اشاعت کے لیے ریاست سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ نصاب کی کتابیں ریاست کے نظریے کا عکس ہوتی ہیں۔ تحریر اور تقریر پر پابندی ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کو تنقید کی اجازت نہیں ہوتی۔ اسکالرز کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی ہوتی ہے۔ غیر ملکی کتابوں اور رسالوں پر پابندی ہوتی ہے۔ اخبارات اور رسائل صرف حکومت کے اعلانات شائع کرتے ہیں اور مطلق العنان ریاست اس سب کے بعد خود کو محفوظ سمجھتی ہے۔
اس موضوع پر ہیری ریڈنر (Harry Redner) نے اپنی کتاب Totalitarianism, Globalization, Colonialism میں مطلق العنان حکومت کا تجزیہ کیا ہے۔ اس کے مطابق ایک جانب جرمنی میں ہٹلر کی حکومت تھی جس میں خاص طور پر یہودیوں، خانہ بدوشوں اور کمیونسٹوں کو چن چن کر قتل کیا گیا۔ یہودیوں کے لیے کیمپ بنائے گئے اور انہیں گیس چیمبرز میں ڈال کر ہلاک کیا گیا۔ جب یہ سب ہو رہا تھا تو جرمنی کے لوگ ہٹلر کے حامی تھے۔ نازی پارٹی کے نوجوان نازی جھنڈوں کے ساتھ سڑکوں پر مارچ کرتے تھے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلاتے تھے۔ مخبری کے ادارے ہر مشکوک شخص کی نگرانی کرتے تھے۔ ہر خاندان کے لیے لازمی تھا کہ وہ ریڈیو پر ہٹلر کی تقاریر سنے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری عالمی جنگ میں ہٹلر کو شکست ہوئی اور مطلق العنان ریاست کا خاتمہ ہوا۔ اٹلی میں جنگ کے دوران موسولینی کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور مجمع نے اسے قتل کر کے اس کی لاش الٹی لٹکا دی۔
اسٹالن نے جب روس میں اقتدار سنبھالا تو سب سے پہلے اس نے بالشویک پارٹی کے قدیم رہنماؤں پر الزامات لگا کر انہیں سزائے موت دی۔ اس کے بعد اس نے روس کی ترقی کے لیے لیبر کیمپ قائم کیے جن میں دانشوروں، اساتذہ اور تعلیم یافتہ افراد کو کیمپوں میں بھیج کر ان سے محنت و مشقت کرائی گئی۔ اس کا اظہار اس وقت ہوا جب اسٹالن کی موت کے بعد خروشیف نے کمیونسٹ پارٹی کے ایک اجلاس میں اس راز کو فاش کیا۔ روسی ادیب الیگزینڈر سولژینتسن (Solzhenitsyn) نے اپنی کتاب Gulag Archipelago میں لیبر کیمپوں کا ذکر کیا ہے۔ خروشیف کے زمانے میں یہ کتاب روس میں پہلی مرتبہ شائع ہوئی اور عام لوگوں کو لیبر کیمپوں کے بارے میں معلومات ملیں۔
اگرچہ مصنف نے مطلق العنان ریاست کو آمروں اور شخصی حکومتوں تک محدود رکھا ہے کہ انہوں نے اپنے اقتدار اور نظریات کے لیے ریاست کو استعمال کیا۔ لیکن اگر ہم جمہوری ریاستوں کا تجزیہ کریں تو ان میں بھی ہمیں ناانصافی، نسل پرستی، ہیرو پرستی اور سیاسی پابندیاں ملتی ہیں۔ یورپی ملکوں نے نوآبادیات کے ذریعے جو مظالم ڈھائے ان کے تاریخی دستاویزات موجود ہیں۔ انگلستان کی جمہوری حکومت نے جنوبی افریقہ میں پہلے بوئر قوم کے ساتھ جنگیں کیں۔ لیکن جب ٹرانسوال میں سونے کی کانیں دریافت ہوئیں تو ان کے ساتھ صلح کر کے جنوبی افریقہ میں اپارتھائڈ حکومت قائم کی۔ جو مطلق العنان ریاست سے بھی بدتر تھی کیونکہ اس کی بنیاد سفید فام نسل پرستی پر تھی۔
اس نظام میں افریقیوں کے کوئی حقوق نہیں تھے۔ سفید فام شہروں اور محلوں میں افریقی آباد نہیں ہو سکتے تھے۔ باغوں میں سفید فام اور سیاہ فام افراد کے لیے علیحدہ علیحدہ بینچیں تھیں۔ ڈاک خانوں میں علیحدہ علیحدہ کھڑکیاں تھیں۔ دکانوں میں جانے کے لیے علیحدہ علیحدہ دروازے تھے۔ نسل پرستی کی درجہ بندی اس طرح کی گئی تھی کہ سب سے اوپر سفید فام ہوتے تھے، اس کے بعد ہندوستانی جو وہاں آباد تھے اور سب سے نیچے افریقی۔
مطلق العنان ریاست کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ فرد کو ایک خودمختار انسان کے بجائے ریاستی مشینری کا پرزہ بنا دیتی ہے۔ اختلافِ رائے، تنقید اور تخلیقی فکر کو کچل کر وقتی استحکام تو حاصل کیا جا سکتا ہے مگر طویل المدتی بنیادوں پر یہ نظام سماجی جمود، اخلاقی زوال اور سیاسی بحران کو جنم دیتا ہے۔ خواہ یہ فاشزم ہو، نازی ازم، اسٹالن ازم یا نسل پرستانہ جمہوری نظام، نتیجہ اکثر انسانی حقوق کی پامالی اور عوامی مزاحمت کی صورت میں نکلتا ہے۔
اس تحقیقی جائزے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مطلق العنانیت کسی مخصوص نظریے یا سیاسی سمت تک محدود نہیں۔ جب بھی ریاست آئینی حدود سے تجاوز کر کے فرد کی آزادی، فکر اور وقار کو سلب کر لے تو وہ مطلق العنان بن جاتی ہے۔ ایک منصفانہ اور پائیدار سیاسی نظام کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی طاقت کو قانون، اداروں اور باشعور شہری سماج کے ذریعے محدود رکھا جائے تاکہ اقتدار انسان کی خدمت کرے نہ کہ انسان اقتدار کا غلام بن جائے۔