2025 کرپشن انڈیکس: مغربی ممالک کے لیے چونکا دینے والے حقائق
10 فروری 2026
کرپشن پرسیپشن انڈیکس (CPI) کے 31ویں ایڈیشن میں 180 سے زیادہ ممالک اور خطّوں کی عوامی شعبے میں بدعنوانی کی سطح کے اندازوں کی بنیاد پر رینکنگ کی گئی ہے۔ اس فہرست میں ان ممالک کی کارکردگی میں بھی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے جو طویل عرصے سے بہترین درجہ پانے والوں میں شمار ہوتے تھے، جن میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور سویڈن شامل ہیں۔
2025 کے انڈیکس کے مطابق ان ممالک کی تعداد جو 80 سے زائد اسکور حاصل کرتے تھے، جنہیں کبھی صاف شفاف طرزِ حکمرانی کا معیار سمجھا جاتا تھا، گزشتہ ایک دہائی میں 12 سے سکڑ کر اس سال صرف 5 رہ گئی ہے۔
اگرچہ ڈنمارک مسلسل آٹھویں سال 89 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جس کے بعد فِن لینڈ (88) پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور سنگاپور (84) پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے عالمی سطح پر''جرأت مند قیادت‘‘ کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے، جس کے مطابق یہ کمی بدعنوانی کے خلاف کوششوں کو کمزور کر رہی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے چیئر، فرانسوا ویلاریان نے DW کو بتایا، ’’کئی حکومتیں اب انسداد بدعنوانی کو ترجیح نہیں سمجھتیں۔ بعض حکومتوں کا شاید یہ بھی ماننا ہے کہ اُنہوں نے کرپشن کے خلاف سب کچھ کر لیا ہے اور اب دیگر ترجیحات پر توجہ دینے کا وقت ہے۔‘‘
امریکہ کے عالمی کرپشن اسکور کیوں گر رہے ہیں؟
CPI انڈیکس، جو ہر ملک کو 0 (انتہائی بدعنوان) سے 100 (انتہائی شفاف) تک اسکیل پر پرکھتا ہے۔ اس کے مطابق امریکہ کا اسکور اپنی تاریخ کی کم ترین سطح 64 تک گر گیا ہے، جو 2016 کے مقابلے میں 10 پوائنٹس کی کمی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے نوٹ کیا ہے کہامریکہ کا سیاسی ماحول ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مسلسل بگڑ رہا ہے اور اس ادارے کا کہنا ہے کہ تازہ ترین ڈیٹا گزشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ہونے والی پیش رفت کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کرتا۔
اگرچہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکی رینکنگ نسبتاً مستحکم رہی، لیکن پچھلی رپورٹس میں امریکہ کی سپریم کورٹ میں اعلیٰ سطح کے اخلاقی اسکینڈلز کو گزشتہ سال اسکور میں بڑی گراوٹ کی اہم وجہ قرار دیا گیا تھا۔
ویلاریان نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ’’ہم ہر چیز کا الزام ٹرمپ پر نہیں ڈال سکتے کیونکہ کچھ تشویشناک اصلاحات ان کے دور سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔‘‘
رپورٹ نے البتہ اس جانب اشارہ کیا کہ ’’آزاد آوازوں کو نشانہ بنانے اور محدود کرنے کے لیے سرکاری اختیارات کے استعمال, تنازعات سے بھرپور اور لین دین پر مبنی سیاست کو معمول بنانا,استغاثہ کے فیصلوں کو سیاسی بنانا اور عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات جیسے رجحانات ٹرمپ کے دور میں سامنے آئے ہیں۔‘‘
اینٹی کرپشن ادارے نے کہا کہ ایسے اقدامات ''ایک خطرناک پیغام دیتے ہیں کہ بدعنوانی کے طریقہ کار قابلِ قبول ہیں۔‘
اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز سے ہی، ٹرمپ نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو انہی خدشات کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں وائس آف امریکہ جیسے پبلک براڈکاسٹرز کو کمزور کرنا اور سرکاری اداروں کو سیاسی مخالفین، بشمول بائیڈن انتظامیہ اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام، کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنا شامل ہے۔
ان پر عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنے اور فارن کرپٹ پریکٹسز ایکٹ (FCPA) پر عمل درآمد کو کمزور کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ یہ وہ قانون ہے جو دراصل امریکی شہریوں اور اداروں کو غیر ملکی حکام کو ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے رشوت دینے سے روکنے کے لیے بنایا گیا تھا
یورپ کی انسدادِ بدعنوانی مہم کیوں رکاوٹ کی شکار
گزشتہ ایک دہائی کے دوران مغربی ممالک میں بدعنوانی کے تاثر میں سب سے بڑی گراوٹ برطانیہ میں دیکھی گئی۔ اس ملک کا اسکور 11 پوائنٹس گر کر 70 پر آ گیا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق یہ کمی وزرا، قانون سازوں اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے لیے اخلاقی معیار نافذ کرنے میں جاری ناکامیوں سے جڑی ہے۔
رپورٹ میں COVID‑19 کے دوران خریداری کے اسکینڈلز کا بھی ذکر ہے، جہاں ارباب اقتدار کے قریبی افراد نے کم نگرانی کے باوجود ذاتی حفاظتی سامان (PPE) کی فراہمی کے لیے منافع بخش سرکاری ٹھیکے حاصل کر لیے۔
گزشتہ 10 برسوں میں جندیگر مغربی ممالک کی درجہ بندی میں نمایاں کمی ہوئی ہے، ان میں نیوزی لینڈ شامل ہے، جو 9 پوائنٹس گر کر 81 پر آ گیا، سویڈن، جس میں 8 پوائنٹس کی کمی ہو کر اس کا اسکور 80 رہ گیا اور کینیڈا، جو 7 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 75 پر آ گیا۔ جرمنی کی گراوٹ نسبتاً کم رہی۔ 10 سال میں صرف 4 پوائنٹس، اور گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال اس کا اسکور 2 پوائنٹس سے بڑھا ہے۔
فرانس میں بھی گزشتہ دہائی کے دوران 4 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور ملک 66 پر آ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ انسدادِ بدعنوانی میں کمزور کارروائی اور سرکاری حکام و نجی مفادات کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کے رجحانات ہیں۔
رپورٹ نے سابق فرانسیسی صدر نیکولا سارکوزی کی سزا کو ایک مثبت قدم قرار دیا، یہ سزا غیر قانونی رقوم وصول کرنے پر سنائی گئی تھی، جن میں لیبیا کے مرحوم رہنما معمر قذافی سے ملنے والی رقم بھی شامل تھی، جو سارکوزی کی صدارتی مہم کے لیے استعمال ہوئی۔
ویلاریان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ''یورپ کے بہت سے ممالک کبھی بدعنوانی کے خلاف جنگ کی قیادت کیا کرتے تھے لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین کی اینٹی‑کرپشن ڈائریکٹیو کو کمزور کر دیا گیا ہے، جس کے باعث یورپ بدعنوانی کے خلاف کوششیں مؤثر انداز میں مضبوط نہیں کر پائے گا۔‘‘
سب سے نچلی درجہ بندی والے ممالک کی صورتحال
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے نشاندہی کی ہے کہ آمرانہ طرزِ حکمرانی والے ممالک، جن میں وینزویلا اور آذربائیجان شامل ہیں—عام طور پر بدترین کارکردگی دکھاتے ہیں، کیونکہ ان ممالک میں ''بدعنوانی سیاسی سماجی نظام کا حصہ بن چکی ہے اور ہر سطح پر ظاہر ہوتی ہے۔‘‘
تازہ ترین انڈیکس کے مطابق دو تہائی سے زیادہ ممالک 50 سے کم اسکور پر آئے ہیں، جسے رپورٹ نے ’’دنیا کے بیشتر حصوں میں سنگین کرپشن مسائل‘‘ کی علامت قرار دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 25 سے کم اسکور والے ممالک زیادہ تر تنازعات اور سخت جابرانہ حکومتوں سے متاثر ہیں ۔ ان میں لیبیا، یمن اور اریٹریا شامل ہیں، جن کا اسکور 13 رہا۔ اسی فہرست میں صومالیہ اور جنوبی سوڈان بھی شامل ہیں، جن کا اسکور صرف 9 ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ کئی ممالک نچلی سطح سے نکل کر درجہ بندی کے درمیانی حصے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں البانیہ، انگولا، آئیوری کوسٹ، لاؤس، سینیگال، یوکرین اور ازبکستان شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ہی رپورٹ نے ان ممالک کی طویل المدتی بہتری کا بھی ذکر کیا جو پہلے ہی نسبتاً اچھے اسکور رکھتے تھے—جیسے ایسٹونیا، جنوبی کوریا، بھوٹان اور سیشیلزجمہوریہ ۔
ادارت: جاوید اختر