1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’مفاہمتی دستاویز پر یونانی ریفرنڈم خود کشی ہے‘، تبصرہ

Bernd Riegert / امجد علی27 جون 2015

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار بیرنڈ ریگرٹ کے مطابق یونانی وزیر اعظم الیکسس سِپراس کا قرض دینے والے ملکوں اور اداروں کے ساتھ مفاہمت پر ریفرنڈم کروانے کے اچانک اعلان سے لگتا ہے جیسے یونانی حکومت خود کُشی پر آمادہ ہو۔

Picture Teaser Griechenlandkrise
یونان کے وزیر اعظم الیکسس سِپراس اپنے وزیر خزانہ بانِس واروفاکِس (بائیں) کے ساتھتصویر: Getty

وہ اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں:’’انتہائی بائیں بازو کے وزیر اعظم الیکسس سِپراس نے، جنہوں نے برسلز میں قرض دینے والوں کے ساتھ مکاری سے کام لیتے ہوئے محض نمائشی قسم کے مذاکرات کیے تھے، اب اچانک ایک ریفرنڈم کروانے کا اعلان کر دیا ہے اور اپنے عوام پر یہ زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، مرکزی یورپی بینک اور یورپی کمیشن کی جانب سے دی گئی مفاہمتی پیشکش کو رَد کر دیں۔ یونانی وزیر اعظم کی جانب سے اس طرح کی دیدہ دلیری اور الفاظ کا اصل موضوع سے بالکل ہی غیر متعلق استعمال دیکھ کر لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ہیں۔ یورپی اقوام نے اپنے وضع کردہ قواعد و ضوابط میں بے پناہ لچک پیدا کی تاکہ ایتھنز میں افراتفری کے ذمے دار عناصر کو حالات بہتر بنانے کے لیے مزید مہلت مل سکے اور یونان کا یورو زون میں آئندہ بھی شامل رہنا ممکن ہو سکے۔ وہ ایک بار پھر اُس برتن میں رقم ڈالنے کے لیے تیار ہیں، جس کے پیندے میں سوراخ ہے، صرف اس لیے تاکہ یونان میں ضروری اصلاحات عمل میں لائی جا سکیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ سارا پیار بیکار تھا۔‘‘

وہ لکھتے ہیں:’’اب یونانی حکومت قرض دینے والے اداروں کو برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ اُن سے ریفرنڈم تک کے آٹھ دنوں کے لیے عبوری مالی امداد بھی مانگ رہی ہے اور اپنے بینکوں کے نظام کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے مرکزی یورپی بینک سے مزید ہنگامی قرضے بھی طلب کر رہی ہے، وہ بھی غیر مشروط بنیادوں پر۔ یورپی یونین کی اب تک کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کئی روز تک جاری رہنے والی مفاہمتی کوششوں کے بعد کسی نے اس دیدہ دلیری اور ڈھٹائی کے ساتھ بلیک میلنگ کی ہو۔ یہ ایسی بلیک میلنگ ہے، جسے نہ یورو زون کے باقی ممالک برداشت کریں گے اور نہ ہی جرمن پارلیمان۔‘‘

بیرنڈ ریگرٹ نے اپنے تبصرے میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر یونان کے عوام یورپی ممالک اور آئی ایم ایف کی طرف سے کی گئی پیشکش کو حتمی طور پر رَد کر دیتے ہیں، تو پھر کیا ہو گا۔ اس سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پھر ہر صورت میں یونان دیوالیہ ہو جائے گا اور ساتھ ہی یورو زون سے بھی نکل جائے گا۔

وہ مزید لکھتے ہیں:’’دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کی منشا کے خلاف یونانی عوام اس پیشکش کو قبول کر لیں تو پھر کیا ہو گا۔ اُس صورت میں بھی یونانی ریاست دیوالیہ ہو جائے گی اور ساتھ ہی یورو زون سے بھی نکل جائے گی کیونکہ بہت ہی مخلص قرض دہندگان بھی اس طرح کی مفاہمتی پیشکش کو ایتھنز کی موجودہ ناقابلِ اعتبار اور غیر سنجیدہ حکومت کے ساتھ مل کر عملی شکل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ نئی امداد کا انحصار بھی ایسی اصلاحات پر ہے، جو ایتھنز حکومت کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ان شرائط میں اصلاحات کے عمل کی ایسے اداروں کے ذریعے نگرانی کی بھی بات کی گئی ہے، جنہیں ایتھنز حکومت ملک سے ہی نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار بیرنڈ ریگرٹ

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار بیرنڈ ریگرٹ نے ایک تیسرا سوال بھی اٹھایا ہے: تب کیا ہو گا، جب یورپی ممالک اور مرکزی یورپی بینک منگل تیس جون کو ہی امدادی پروگرام کے ختم ہو جانے کا اعلان کرتے ہوئے یونان کو رقوم کی فراہمی روک دیں؟ وہ لکھتے ہیں کہ اس صورت میں بھی ریاست کا دیوالیہ ہو جانا ناگزیر ہے اور اس ملک کا یورو زون سے اخراج بھی۔

وہ مزید لکھتے ہیں:’’بات کو جیسے بھی گھمایا پھرایا جائے، یہ طے ہے کہ یونانیوں کی گردن کے گرد رَسی کا گھیرا مسلسل تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ اُنہیں بھی اس بات کا احساس ہو گیا ہے اور اسی لیے وہ اپنا آخری ٹیڈی پیسہ تک بھی بینکوں سے نکلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک، جو پہلے ہی اپنی آخری حدوں تک جا چکے ہیں، اب ایتھنز حکومت کے عملاً ناممکن مطالبات کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ جو اپنی مدد کروانا ہی نہیں چاہتا، اُسے جانا ہی ہو گا۔‘‘

یونانی وزیر اعظم الیکسس سِپراس چھبیس جون کو برسلز میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فوانسوا اولانڈ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیںتصویر: Reuters//Bundesregierung/Guido Bergmann

بیرنڈ ریگرٹ کے مطابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون جب یہ کہتے ہیں کہ یونان کا رخصت ہو جانا ہی بہتر ہے تو وہ درست کہتے ہیں۔ طاقت کے زعم میں مبتلا الیکسس سِپراس ملک کو پاتال میں لے جانے کے درپے ہیں، ویسے ہی جیسا یونانی المیہ داستانوں میں ہوتا ہے، جہاں آخر میں ہیرو مر جاتا ہے۔ قرض دینے والے اداروں کو یونان کے اس طرح سے اخراج کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور بہت سے دیے گئے قرضوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ مزید یہ کہ یورپی یونین کے رکن ملک کی حیثیت سے اسے انسانی امداد بھی درکار ہو گی۔ اس کے باوجود دل پر بھاری پتھر رکھ کر مَیں تو کہتا ہوں، بہت ہو گیا، یونان! یورو زون سے یونان کا اخراج لازمی ہو گیا ہے۔‘‘

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں