1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ملالہ یوسف زئی کا وڈیو پیغام

5 فروری 2013

طالبان کی گولی کا نشانہ بننے والی ملالہ یوسف زئی، جو اس وقت برطانیہ ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں، نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ جس وجہ سے ان کی جان لینے کی کوشش کی گئی تھی، وہ اس کام کو جاری رکھیں گی۔

EPA/UNIVERSITY HOSPITALS BIRMINGHAM / HANDOUT ALTERNATIVE CROP, HANDOUT EDITORIAL USE ONLY/NO SALES (zu dpa 1422 vom 30.01.2013) +++(c) dpa - Bildfunk+++
تصویر: picture alliance / dpa

پاکستانی علاقے سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زئی کو اب کون نہیں جانتا۔15سالہ ملالہ کو لڑکیوں کی تعلیم کے حق کے لیے آواز بلند کرنے کی وجہ سے آج سےچار ماہ پہلے ایک طالبان عسکریت پسندوں نے ایک حملے میں قریباً مار ہی دیا تھا۔

ملالہ نے اپنی دوسری کامیاب سرجری کے بعد پیر کے روز جاری کردہ ایک وڈیو پیغام میں انتہائی پر اعتماد لہجے اور واضح آواز میں بات کرتے ہوئےکہا، ’’میں دن بہ دن تیزی سے صحت یاب ہورہی ہوں‘‘۔ اس دوران ان کے چہرے کا بایاں حصہ کچھ سوجا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ ملالہ پچھلے کئی ہفتوں سے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ملالہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ برمنگھم میں مقیم ہیںتصویر: picture-alliance/dpa

ملالہ نے اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں مزید کہا، ’’میں خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ میں عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔میں چاہتی ہوں کہ ہر بچی اور ہر بچہ تعلیم حاصل کرے۔ اسی مقصد کے لئے ہم نے ملالہ فنڈ قائم کیا ہے‘‘۔

ملالہ یوسف زئی کو 9 اکتوبر2012ء میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی جب وہ اسکول سے گھر جا رہی تھیں۔ اس واقع کے بعد ملالہ نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ ملالہ پر حملہ کرنے والے طالبان شدت پسندوں کا کہنا تھا کہ ان پر حملہ اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں مغربی سوچ کو بھی پروان چڑھانے کا باعث بھی بن رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ملالہ اپنے علاقے سوات میں شدت پسند گروہوں کے طرز عمل پر بھی اکثر تنقید کیا کرتی تھیں۔

اس واقعے کے بعد اٹھاسی ہزار سے زائد افراد نے آن لائن پٹیشن پر دستخط کر کے ملالہ یوسفزئی کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ چند روز قبل ان کو اس انعام کے لیے نامزد کر بھی دیا گیا ہے۔ ادھر اقوامِ متحدہ نے دس نومبر کی تاریخ کو عالمی سطح پر ’ملالہ‘ کے نام سے منسوب کر دیا تھا۔ٹائم میگزین کی 2012 کی اہم ترین شخصیات کی سالانہ فہرست میں ملالہ یوسفزئی تقریباً تین لاکھ سے زائد ووٹوں کے ساتھ شامل رہیں۔

ملالہ نے اپنےحالیہ پیغام میں کہا کہ: ’’میں بول سکتی ہوں، میں دیکھ سکتی ہوں، میں ہر ایک کو دیکھ سکتی ہوں۔ اور میں آج بول سکتی ہوں اور میں دن بہ دن بہتر ہو رہی ہوں۔ یہ صرف لوگوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔‘

ملالہ نے کہا کہ سب لوگوں نے میرے لیے دعائیں کیں ہیں۔ ’’ان دعاؤں کی وجہ سے خدا نے مجھے نئی زندگی دی ہے اور یہ ایک دوسری زندگی ہے، اور ایک نئی زندگی ہے‘۔

ملالہ کو ایئر ایمبولینس کے ذریعےعلاج کی غرض سے برطانیہ لایا گیا تھا۔ چار جنوری کوانہیں ہسپتال سے عارضی طور پر فارغ کر دیا گیا تھا اور وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ برمنگھم ہی میں مقیم رہیں۔ ان کے والد کو پاکستانی حکومت نے برطانیہ میں تین سال کے لیے تعلیمی اتاشی کی حیثیت سے ملازمت دے رکھی ہے۔

حملے کے وجہ سے ملالہ کا بایاں کان مکمل طور پر بہرا ہو گیا تھا، اور سرجنوں نے ان کے کان کے اندر مشینی آلہ بھی نصب کردیا ہے جس سے ان کی سماعت جلد مکمل طور پر نارمل ہو جائے گی۔

ملالہ کا آپریشن کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اینوین وائٹ کا کہنا تھا کہ ملالہ کو اب مزید کسی آپریشن کی ضرورت نہیں اور وہ تیزی سے رو بہ صحت ہیں اور جلد اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکیں گی۔

zb/shs (AP, AFP)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں