ملیشیا کا آغاز نو
10 مارچ 2008ملک کے نئے وزیر اعظم عبداللہ بداوی نے اپنی تقریب حلف برداری کے بعد کہا کہ نیا شروع ہونے والا دور ملیشیا کے آغاز نو ثابت ہو گا۔ تقریب حلف برداری روایتی انداز میں شاہی محل میں ہوئی ۔حالیہ انتخابات میں عبداللہ بداوی کی جماعت کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے اور تیرہ میں سے پانچ ریاستوں میں اپوزیشن اصلاح پسندوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم محمدمہاتیر نے اپنے پس رو وزیراعظم عبداللہ بداوی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عبداللہ بداوی کی جگہ کوئی جاپانی ہوتا تو اس صورت حال پر خودکشی کر لیتا ۔ ملائیشیا میں اگرچہ یہ دستور نہیں ، لیکن میرے خیال میں بداوی کو مستعفی ہو جانا چاہیے ۔ انہیں اس شکست کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے بالکل اسی طرح جیسے 4 سال قبل عظیم انتخابی جیت پر پارٹی کے جنرل سیکریٹری ہونے کی حیثیت سے انہیں خراج تحسین کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔
تاہم وزیراعظم بداوی نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ۔ان کی زیر نگرانی حکمران جماعت کو نہ صرف پارلیمان میں دو تہائی کی اکثریت سے محروم ہونا پڑا بلکہ وہ تیرہ میں سے پانچ ریاستوں میں ہار گئی ۔ موجودہ انتخابات میں سابق نائب وزیراعظم انور ابراہیم کی پارٹی کیڈ پلان نے31 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اب تک پارلیمنٹ میں اسے صرف ایک نشست حاصل تھی۔
یہ جماعت نسلی بنیادوں سے بالاتر ہو کر کام کر رہی ہے ۔ جبکہ دوسری جماعتیں زیادہ تر
نسلی بنیادوں پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔انور ابراہبم کو 1999 میں سیاسی
ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنے عہدے سے ہٹنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ایک مبینہ بدعنوانی کے جرم میں انہیں 6 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ انہیں اس سال اپریل تک کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں عملاً حصہ لینے کی اجازت نہیں ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی اپوزیشن لیڈر کے طور پر ملک کی سیاسی سٹیج پر پھر سے نمودار ہوں گے ۔ انور ابراہیم کے بقول ، یہ ہماری ملکی تاریخ کے لئے یہ ایک اہم موڑ ہے۔آج سے ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے ۔ آج یکجہتی ، مصالحت اور باہمی احترام کی فضا پھر سے لَوٹ آئی ہے ۔کل سے ہم ایک نئے مستقبل کی تعمیر شروع کر رہے ہیں ، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اور کندھے سے کندھا ملا کر، ملائیشا کے لیے یہ ایک آغاز نو ہے ۔
ملکی حکو مت نے گزشتہ برسوں کے دوران زیادہ تر نسلی اور مذہبی بنیادوں پر اپنی پالیسیاں استوار کیں۔ جس کے تحت مسلم اکثریت کو اقتصادی اور سماجی شعبوں میں ترجیح دی جاتی رہی ۔چنانچہ چینی اور ہندی اقلیت نے جسے اس کے خیال میں امتیازی سلوک کا سامنا تھا ، اس بار روایتی جماعتوں کو ووٹ دینے سے گریز کیا ۔