مودی چین پہنچ گئے، غیر معمولی استقبال
14 مئی 2015
مودی چین پہنچنے کے ساتھ ہی ٹیراکوٹا آرمی کے میوزیم گئے۔ مودی اِس موقع پر روایتی لباس پہنے ہوئے تھے۔ جمعرات کو ہی مودی کی چینی سربراہ مملکت شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات ہو رہی ہے۔ چین میں عام طور پر کسی غیر ملکی مہمان کو بیجنگ کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں بلایا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ مودی کو شی جن پنگ کے آبائی صوبے شانشی میں دعوت دینے کو انتہائی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس شی جن پنگ نے بھی اپنے بھارتی دورے کی ابتدا نریندر مودی کی ریاست گجرات سے کی تھی۔
چین کے دورے کے دوران مودی کی اولین ترجیح یہ ہو گی کہ چین کے ساتھ 38 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے راستے تلاش کیے جائیں۔ اس سلسلے میں وہ بھارتی مصنوعات کو چینی منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ رسائی دینے کے موضوع پر بات کریں گے اور ساتھ ہی چینی کمپنیوں کو اِس بات پر بھی راضی کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ اپنی مصنوعات بھارت میں تیار کریں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اِس دوران اِن دونوں ممالک کے مابین دس ارب ڈالر تک کے تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی امید ہے۔
دوسری جانب شی اور مودی دہائیوں سے چلے آ رہے سرحدی تنازعات پر بھی بات کریں گے۔ جمعے کے روز مودی وزیر اعظم لی کی چیانگ سے ملیں گے اور پھر وہ تجارتی تعلقات میں فروغ کے حوالے سے منقعد کی جانے والی تقریبات میں شرکت کے لیے ہفتے کا دن شنگھائی میں گزاریں گے۔
چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے اور 2014ء میں ان دونوں ممالک کے مابین ہونے والی تجارت کا حجم 71 ارب ڈالر تھا۔ دوسری جانب چین کے ساتھ بھارتی تجارتی خسارہ 2001ء اور 2002ء میں ایک ارب ڈالر تھا، جو 2014ء میں بڑھ کر 38 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
چین اور بھارت ایشیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتیں ہی نہیں ہیں بلکہ یہ آبادی کے لحاظ دنیا کے دو سب سے بڑے ملک بھی ہیں۔ اسی وجہ سے اِن رہنماؤں کی ملاقات کو عالمی سطح پر بہت زیادہ اہمیت بھی دی جا رہی ہے۔ اِن دونوں ممالک کی کُل آبادی 2.6 ارب بنتی ہے۔ چین اور بھارت کے مابین سرحدی کشیدگی ہی نہیں پائی جاتی بلکہ دونوں ممالک کے سیاسی نظام بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ چین کے لیے بھارت جدید تکنیکی آلات کی منڈی ہے، جہاں جدید تیز رفتار ٹرینوں سے لے کر جوہری پاور پلانٹس تک کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف بھارت چاہتا ہے کہ چین صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرے۔