مودی کی ’عظمت کے گیت گانے والے‘ بھارتی وزراء شرمندہ ہو گئے
13 فروری 2019
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ’عظمت کے گیت گانے والے‘ دو وزراء کو انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان وزراء کے لیے سخت شرمندگی کا باعث ٹوئٹر صارفین بنے، جنہوں نے ان کے سوشل میڈیا پیغامات کا پول کھول دیا۔
پییوش گویال بھارتی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئےتصویر: IANS/RSTV
اشتہار
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے بدھ تیرہ فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ان وزراء کی کوشش تھی کہ وہ ملکی عوام کو سوشل میڈیا پر بتائیں کہ ہندو قوم پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم مودی کی حکومت کتنے ’شاندار‘ کام کر رہی ہے۔ لیکن ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ، اے ایف پی کے مطابق، ان دونوں سیاست دانوں کے ’منہ شرم سے سرخ ہو گئے‘۔
تیز رفتار ٹرین تھی یا ویڈیو؟
جن دو بھارتی وزراء کو یہ شرمندگی ہوئی، ان میں سے ایک ریلوے کے وفاقی وزیر پییُوش گویال تھے۔ انہوں نے مودی کے ’میڈ ان انڈیا‘ کے سیاسی نعرے کو زیادہ مقبول بنانے کے لیے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ اس ویڈیو میں بظاہر بھارت کی پہلی تیز رفتار ریل گاڑی دکھائی گئی تھی، جو بہت زیادہ رفتار کے ساتھ سفر میں تھی۔
لیکن ٹوئٹر پر بھارتی صارفین نے اسی ویڈیو کی وجہ سے ریلوے کے وزیر کو شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا کیونکہ ویڈیو میں ٹرین کی رفتار کو ایڈیٹنگ کے دوران اصل سے دوگنا تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
بھارت کے سیاسی افق کا نیا ستارہ، پریانکا گاندھی
پریانکا گاندھی واڈرا بھارت کے ایک ایسے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، جس کے تین افراد ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اب باضابطہ طور پر عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/R.K. Singh
جواہر لال نہرو
برصغیر پاک و ہند کی تحریک آزادی کے بڑے رہنماؤں میں شمار ہونے والے جواہر لال نہرو پریانکا گاندھی کے پڑدادا تھے۔ وہ آزادی کے بعد بھارت کے پہلے وزیراعظم بنے اور ستائیس مئی سن 1964 میں رحلت تک وزیراعظم رہے تھے۔ اندرا گاندھی اُن کی بیٹی تھیں، جو بعد میں وزیراعظم بنیں۔
تصویر: Getty Images
اندرا گاندھی
پریانکا گاندھی کی دادی اندرا گاندھی اپنے ملک کی تیسری وزیراعظم تھیں۔ وہ دو مختلف ادوار میں بھارت کی پندرہ برس تک وزیراعظم رہیں۔ انہیں اکتیس اکتوبر سن 1984 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اُن کے بیٹے راجیو گاندھی بعد میں منصبِ وزیراعظم پر بیٹھے۔ راجیو گاندھی کی بیٹی پریانکا ہیں، جن کی شکل اپنی دادی اندرا گاندھی سے ملتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/united archives
راجیو گاندھی
بھارت کے چھٹے وزیراعظم راجیو گاندھی سیاست میں نو وارد پریانکا گاندھی واڈرا کے والد تھے۔ وہ اکتیس اکتوبر سن 1984 سے دو دسمبر سن 1989 تک وزیراعظم رہے۔ اُن کو سن 1991 میں ایک جلسے کے دوران سری لنکن تامل ٹائیگرز کی خاتون خودکش بمبار نے ایک حملے میں قتل کر دیا تھا۔ اُن کے قتل کی وجہ سن 1987 میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہونے والا ایک سمجھوتا تھا، جس پر تامل ٹائیگرز نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
تصویر: Imago/Sven Simon
سونیا گاندھی
پریانکا گاندھی واڈرا کی والدہ سونیا گاندھی بھی عملی سیاست میں رہی ہیں۔ وہ انیس برس تک انڈین کانگریس کی سربراہ رہی تھیں۔ اطالوی نژاد سونیا گاندھی بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کی رکن رہتے ہوئے اپوزیشن لیڈر بھی تھیں۔
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/R. Shukla
راہول گاندھی
بھارتی سیاسی جماعت انڈین کانگریس کے موجودہ سربراہ راہول گاندھی ہیں، جو پریانکا گاندھی واڈرا کے بڑے بھائی ہیں۔ انہوں نے سولہ دسمبر سن 2017 سے انڈین کانگریس کی سربراہی سنبھال رکھی ہے۔ وہ چھ برس تک اسی پارٹی کے جنرل سیکریٹری بھی رہے تھے۔ راہول گاندھی بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان لوک سبھا کے رکن بھی ہیں۔
تصویر: Reuters/T. White
پریانکا گاندھی واڈرا
راجیو گاندھی کی بیٹی پریانکا بارہ جنوری سن 1972 کو پیدا ہوئی تھیں۔ وہ شادی شدہ ہیں اور دو بچوں کی ماں بھی ہیں۔ انہوں نے سینتالیس برس کی عمر میں عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ وہ بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی عملی سیاست کا فروری سن 2019 میں حصہ بن جائیں گی۔
تصویر: Reuters/P. Kumar
سیاسی مہمات میں شمولیت
مختلف پارلیمانی انتخابات میں پریانکا گاندھی واڈرا نے رائے بریلی اور امیتھی کے حلقوں میں اپنے بھائی اور والد کی انتخابی مہمات میں باضابطہ شرکت کی۔ عام لوگوں نے دادی کی مشابہت کی بنیاد پر اُن کی خاص پذیرائی کی۔ گزشتہ کئی برسوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کر سکتی ہیں اور بالآخر انہوں نے ایسا کر دیا۔
تصویر: DW/S. Waheed
عملی سیاست
پریانکا گاندھی واڈرا نے بدھ تیئس جنوری کو انڈین کانگریس کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے برسوں انہیں عملی سیاست میں حصہ لینے کی مسلسل پیشکش کی جاتی رہی۔ امید کی جا رہی ہے کہ وہ مئی سن 2019 کے انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP
کانگریس پارٹی کی جنرل سیکریٹری
انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کی پریس ریلیز کے مطابق پریانکا گاندھی کو پارٹی کی دو نئی جنرل سیکریٹریز میں سے ایک مقرر کیا گیا ہے۔ اس پوزیشن پر انہیں مقرر کرنے کا فیصلہ پارٹی کے سربراہ اور اُن کے بھائی راہول گاندھی نے کیا۔ وہ اپنا یہ منصب اگلے چند روز میں سبھال لیں گی۔
بی جے پی کی تنقید
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے پریانکا گاندھی کو کانگریس پارٹی کی جنرل سیکریٹری مقرر کرنے پر تنقید کرتے ہوئے اسے خاندانی سیاست کا تسلسل قرار دیا۔
تصویر: DW/S. Wahhed
10 تصاویر1 | 10
اس بارے میں ایک بھارتی صارف نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’وزیر ریلوے کا بہت شکریہ! انہوں نے ویڈیو کو دوگنا رفتار سے چلا کر ٹرین کو سیمی ہائی اسپیڈ بنا دیا ہے۔ لیکن اگر وہ ایڈیٹنگ میں ویڈیو کو چھ گنا زیادہ رفتار سے چلاتے ہوئے ریکارڈ کر لیتے، تو یہی بھارتی ٹرین ایک انتہائی تیز رفتار ریل گاڑی بن جاتی۔‘‘
آخری رپورٹیں ملنے تک وزیر ریلوے نے خود اس پوسٹ پر کوئی کومنٹ نہیں کیا تھا لیکن یہ ویڈیو تب تک بھی سوشل میڈیا پر ان کی ٹائم لائن پر موجود تھی۔
ٹویٹس بھی الٹی پڑ گئیں
دوسرے بھارتی وزیر جن کو نریندر مودی کی حمایت کرتے ہوئے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، خزانے اور جہاز رانی کے جونیئر وزیر پون رادھا کرشن تھے۔ وہ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں مودی حکومت کی بہت تعریف کرنا چاہتے تھے۔ لیکن غلطی سے انہوں نے ایسی کئی ٹویٹس میں تعریف کے بجائے مودی حکومت پر تنقید کر ڈالی۔
جنوبی ایشیائی ممالک میں میڈیا کی صورت حال
رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے پریس فریڈم انڈکس 2018 جاری کر دیا ہے، جس میں دنیا کے 180 ممالک میں میڈیا کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے درجہ بندی کی گئی ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں میڈیا کی صورت حال جانیے، اس پکچر گیلری میں۔
تصویر: picture alliance/dpa/N. Khawer
بھوٹان
جنوبی ایشیائی ممالک میں میڈیا کو سب سے زیادہ آزادی بھوٹان میں حاصل ہے اور اس برس کے پریس فریڈم انڈکس میں بھوٹان 94 ویں نمبر پر رہا ہے۔ گزشتہ برس کے انڈکس میں بھوٹان 84 ویں نمبر پر تھا۔
تصویر: DJVDREAMERJOINTVENTURE
نیپال
ایک سو اسّی ممالک کی فہرست میں نیپال عالمی سطح پر 106ویں جب کہ جنوبی ایشیا میں دوسرے نمبر پر رہا۔ نیپال بھی تاہم گزشتہ برس کے مقابلے میں چھ درجے نیچے چلا گیا۔ گزشتہ برس نیپال ایک سوویں نمبر پر تھا۔
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/N. Maharjan
افغانستان
اس واچ ڈاگ نے افغانستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اس برس کی درجہ بندی میں افغانستان نے گزشتہ برس کے مقابلے میں دو درجے ترقی کی ہے اور اب عالمی سطح پر یہ ملک 118ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں افغانستان تیسرے نمبر پر ہے۔
تصویر: picture-alliance/Tone Koene
مالدیپ
اس برس کے انڈکس کے مطابق مالدیپ جنوبی ایشیا میں چوتھے جب کہ عالمی سطح پر 120ویں نمبر پر ہے۔ مالدیپ گزشتہ برس 117ویں نمبر پر رہا تھا۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo(M. Sharuhaan
سری لنکا
جنوبی ایشیا میں گزشتہ برس کے مقابلے میں سری لنکا میں میڈیا کی آزادی کی صورت حال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ سری لنکا دس درجے بہتری کے بعد اس برس عالمی سطح پر 131ویں نمبر پر رہا۔
تصویر: DW/Miriam Klaussner
بھارت
بھارت میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا، جس پر رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے تشویش کا اظہار کیا۔ عالمی درجہ بندی میں بھارت اس برس دو درجے تنزلی کے بعد اب 138ویں نمبر پر ہے۔
تصویر: DW/S. Bandopadhyay
پاکستان
پاکستان گزشتہ برس کی طرح اس برس بھی عالمی سطح پر 139ویں نمبر پر رہا۔ تاہم اس میڈیا واچ ڈاگ کے مطابق پاکستانی میڈیا میں ’سیلف سنسرشپ‘ میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/T.Mughal
بنگلہ دیش
جنوبی ایشیائی ممالک میں میڈیا کو سب سے کم آزادی بنگلہ دیش میں حاصل ہے۔ گزشتہ برس کی طرح امسال بھی عالمی درجہ بندی میں بنگلہ دیش 146ویں نمبر پر رہا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/S. Stache
عالمی صورت حال
اس انڈکس میں ناروے، سویڈن اور ہالینڈ عالمی سطح پر بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ چین 176ویں جب کہ شمالی کوریا آخری یعنی 180ویں نمبر پر رہا۔
9 تصاویر1 | 9
پون رادھا کرشن نے بغیر مندرجات پڑھے، جن ٹویٹس کو Modi4NewIndia# کا ہیش ٹیگ لگا کر ری ٹویٹ کیا، ان میں سے ایک ٹویٹ میں لکھا گیا تھا، ’’متوسط طبقے کے لیے بہتر فیصلے کرنا مودی حکومت کے ایجنڈے میں کہیں بہت نیچے ہے۔‘‘ اسی طرح ایک دوسری ٹویٹ یہ تھی، ’’مودی حکومت نے ماحولیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے جو آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا ہے، اس کی وجہ سے منظوری کا وقت 600 دنوں سے کم ہو کر 1800 دن (دراصل تین گنا زیادہ) ہو گیا ہے۔‘‘
بھارت میں بہت سے ناقدین کا الزام ہے کہ وزیر اعظم مودی کی جماعت بی جے پی سوشل میڈیا پر ایک ایسی پراپیگنڈا مہم جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد آئندہ عام انتخابات سے قبل عوامی سطح پر اس پارٹی کی ساکھ میں بہتری لانا ہے مگر خرابی یہ ہے کہ یہ مہم مبینہ طور پر بے بنیاد اور جھوٹے دعووں کے بل پر چلائی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے ’آن لائن کارکنوں کی ایک فوج‘ بھی بنا رکھی ہے، جس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ بی جے پی اور مودی کے سیاسی مخالفین پر سوشل میڈیا پر حملے کرے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔
م م / ش ح / اے ایف پی
بھارت میں ’بڑے نوٹ‘ بند، عوام پریشان
بھارتی حکومت کی جانب سے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں کی بندش کے اعلان کے بعد شہری پرانے نوٹ تبدیل کروانے کی الجھن کا شکار ہیں اور بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں۔
تصویر: Reuters/P. Kumar
بھارتی بینکوں کے کاؤنٹروں پر اژدھام
پرانے نوٹوں کی بندش اور تبدیلی کے لیے دستیاب قلیل وقت کے سبب مختلف بینکوں کے سامنے لوگوں کی بہت بڑی تعداد جمع دکھائی دیتی ہے۔
تصویر: Reuters/P. Kumar
بینکوں کے باہر لمبی قطاریں
خواتین اور بزرگ شہریوں سمیت عام لوگ لمبی لمبی قطاروں میں پرانے کرنسی نوٹ تبدیل کرانے کے لیے بینکوں کے باہر کھڑے نظر آتے ہیں۔ بعض شہری انتہائی ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے بھی اپنے پاس پیسے نہ ہونے کی شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تصویر: Reuters/J. Prakash
ادائیگی شناخت کے بعد
حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹ تبدیل کروانے کے لیے ہر شخص کی شناخت کے بعد ہی اسے نئے کرنسی نوٹ دیے جائیں گے۔ حکومت اس طریقے سے کالے دھن کا خاتمہ چاہتی ہے، تاہم عام شہریوں کی پریشانی کے پیش نظر اس حکومتی اقدام پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
تصویر: Reuters/J. Prakash
بینکوں کے باہر شب بسری
بعض بینکوں کے باہر جلد اپنی باری کے لیے لوگ رات ہی کو آن کر بسیرا کر لیتے ہیں، تاکہ اگلی صبح انہیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔
تصویر: Reuters/A. Abidi
باری آتی ہی نہیں
کئی بینکوں کے باہر شہریوں کی قطاریں اتنی طویل ہیں کہ لوگ اپنی باری کے انتظار میں گھنٹوں اور بعض صورتوں میں تو پورا پورا دن کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔