1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
آفاتمقبوضہ فلسطینی علاقے

مسلسل بارشوں سے بے گھر فلسطینی مزید مشکل میں، اقوام متحدہ

صلاح الدین زین اے پی، اے ایف پی، روئٹرز کے ساتھ
18 دسمبر 2025

غزہ میں حکام کے مطابق غزہ پٹی میں شدید سردی کے سبب اب تک سترہ شہری ہلاک ہوئے، جس میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کی انتظامیہ کے مطابق بارشوں کے سبب تقریباﹰ نوے فیصد بے گھر افراد کے خیمے بھی ڈوب چکے ہیں۔

غزہ میں بارش سے تباہی
حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق عمارت گرنے اور سردی کی وجہ سے چار بچوں سمیت کل 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیںتصویر: Mahmoud Issa/REUTERS

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والی شدید بارشوں نے غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں کی حالات زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

یونیسیف کے ترجمان جوناتھن کریکس نے خبر رساں اداروں سے بات چیت میں کہا کہ  رات بھر موسم "خوفناک" رہا اور بارش اتنی شدید تھی کہ ان کے اپنے دفتر کے قریب زمین پر 15 سینٹی میٹر یعنی تقریباﹰ چھ انچ تک پانی بھر گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ گیلے کپڑوں میں خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے والے بچے ہائپوتھرمیا اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ادھر غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ایک بچہ ہائپوتھرمیا سے ہلاک ہوا ہے اور کم از کم 11 دیگر افراد شدید موسم کے سبب گرنے والی ایک عمارت کی وجہ سے ہلاک ہو ئے۔

ماہرین کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ گیلے کپڑوں میں خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے والے بچے ہائپوتھرمیا اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیںتصویر: Omar Al-qattaa/AFP

غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ محمد ابو الخیر نامی دو ہفتے کا لڑکا ہائپوتھرمیا کی وجہ سے پیر کو انتقال کر گیا، جسے ہسپتال میں داخل کر کے انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا تھا۔ مزید 11 افراد اب تک جنگ سے تباہ شدہ عمارتوں کے منہدم ہونے کے بعد ہلاک ہو چکے ہیں جہاں وہ پناہ گاہوں میں رہ رہے تھے۔

حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود بسال نے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ عمارت گرنے اور سردی کی وجہ سے چار بچوں سمیت کل 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آندھی اور بارش کی وجہ سے 17 رہائشی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں اور مزید 90 عمارتیں جزوی طور پر منہدم ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے نو ہفتے قبل غزہ میں جنگبندی شروع ہونے کے بعد سے خیموں، کمبلوں اور کپڑوں کی ترسیل میں تیزی لائی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک جس پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے، وہ نہیں پہنچ رہی ہے۔

اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کا اندازہ ہے کہ اب تک تقریباً 55,000 خاندان بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں اور اس کے سبب ان کے سامان اور پناہ گاہوں کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات کی وجہ سے تباہ شدہ عمارتوں کا گرنا "گہری تشویش" کی بات ہےتصویر: Omar Al-Qattaa/AFP/Getty Images

40 سے زیادہ وہ ہنگامی پناہ گاہیں، جہاں نقل مکانی کے سبب بہت سے لوگ منتقل ہونے پر مجبور ہوئے تھے، پیر اور منگل کو ہونے والی بارشوں کے بعد شدید سیلاب کی زد میں آگئیں۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگ پھر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

یونیسیف کے ترجمان جوناتھن کریکس کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے خیموں سے "بالٹیوں سے پانی نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔"

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ بہت سے بچوں کے کپڑے گیلے تھے، جبکہ والدین اپنے پاس موجود کمبلوں کو خشک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول پچھلے چار یا پانچ دنوں سے "مسلسل بارشیں ہو رہی ہیں، اس لیے بچوں کو خشک رکھنا بہت مشکل ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ بارش کے ساتھ آنے والی تیز ہواؤں سے بہت سے خیموں کے اڑ جانے یا تباہ ہونے کا خطرہ بھی ہے، کیونکہ وہ صرف ترپال کے ٹکڑے یا پلاسٹک کی چادر سے بنے تھے جو لکڑی کے نازک ڈھانچے پر کیلوں سے جڑے ہوتے ہیں۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات کی وجہ سے تباہ شدہ عمارتوں کا گرنا "گہری تشویش" کی بات ہے۔

ادارے نے "اہم بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے لیے خوراک، پناہ گاہ اور آلات سمیت فوری اور طویل مدتی ضروریات کے لیے انسانی امداد میں اضافے اور پائیداری" کی ضرورت پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کراسنگ سے کل 67,800 خیمے، 372,500 ترپال اور 318,100 بستروں کی اشیاء اکٹھی کی جا سکی ہیں۔

ادارت: جاوید اختر

غزہ میں بچے، دو سال بعد دوبارہ اسکول میں

01:54

This browser does not support the video element.

صلاح الدین زین صلاح الدین زین اپنی تحریروں اور ویڈیوز میں تخلیقی تنوع کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں