1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

موڈیز نے یورپی یونین کا ریٹنگ آؤٹ لُک منفی قرار دیے دیا

4 ستمبر 2012

بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے یورپی یونین کی متوقع اقتصادی حالت کو منفی قرار دے دیا ہے، جسے قبل ازیں مستحکم کا درجہ حاصل تھا۔ اس سے خطے کی کریڈیٹ ریٹنگ کم ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے، جو اس وقت ٹرپل اے ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

موڈیز کا کہنا ہے کہ یہ قدم یورپی یونین کے بجٹ میں زیادہ حصہ ڈالنے والے ملکوں کی اقتصادی حالت کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

موڈیز کے بیان میں کہا گیا ہے: ’’ایسا سمجھنا مناسب ہے کہ قرضوں کے تناظر میں یورپی یونین کی ساکھ خطے کے طاقتور ملکوں کی ساکھ کے مطابق ہو۔‘‘

اس حوالے سے موڈیز نے جرمنی، فرانس، ہالینڈ اور برطانیہ کی متوقع اقتصادی حالت کے منفی ہونے کا حوالہ دیا ہے۔

اس کے برعکس موڈیز نے یورپی یونین کی ٹرپل اے ریٹنگ برقرار رکھی ہے اور کہا ہے کہ خطے کی بلند ریٹنگ کے تجزیے کے حوالے سے دو اہم پہلو تبدیل نہیں ہوئے۔ ان میں سے ایک بجٹ کے انتظام کا طریقہ ہے جبکہ دوسرا اس کے 27 رکن ملکوں کی جانب سے اسے حاصل حمایت اور قرضوں سے متعلق ساکھ ہے۔

یورپی یونین کے بجٹ کا 45 فیصد محض چار رکن ریاستوں سے حاصل ہوتا ہے، جن میں جرمنی، فرانس، برطانیہ اور ہالینڈ شامل ہیں۔ موڈیز کے مطابق ان ملکوں کی ٹرپل اے ریٹنگ بھی برقرار ہے۔

موڈیز نے یورپی یونین کی ریٹنگ میں کمی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیاتصویر: dapd

تاہم اس ایجنسی نے مستقبل میں یورپی یونین کی ریٹنگ میں کمی کو خارج ازمکان قرار نہیں دیا اور کہا ہے کہ قرضوں کے تناظر میں رکن ریاستوں کی بگڑتی ہوئی ساکھ کی وجہ سے ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

موڈیز کے منفی اعلان کے باوجود منگل کو ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے آغاز پر یورو کرنسی 1.2618 امریکی ڈالر سے د و ماہ کی بلند ترین سطح پر تھی جبکہ پیر کو لندن کی مارکیٹ میں ایک یورو کی قدر 1.2598 ڈالر تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ مالیاتی منڈیوں میں یورو پر اعتماد میں کمی نہیں ہوئی جس کی وجہ یہ ہے کہ یورپین سینٹرل بینک (ای سی بی) جمعرات کو اقتصادی بحران کی شکار معیشتوں سے بانڈز کی خریداری کا اعلان کرے گا۔

سرمایہ کار ان اعدادوشمار کو بھی خاطر میں نہیں لائے جن کے مطابق یورو زون میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں مسلسل ساتویں ماہ سکڑنے کا عمل جاری رہا ہے۔

خیال رہے کہ یورو زون کے بعض ملکوں کو اقتصادی بحران کا سامنا ہے اور وہ بیل آؤٹ پیکیجز حاصل کر چکے ہیں۔

ng / aba (AFP)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں