مہاجرین اٹلی آئے تو ساتھ بیماریاں بھی لائے، اطالوی میڈیا
اے ایف پی
11 ستمبر 2017
مہاجرین کی خبروں کی یورپی ویب سائٹ انفو میگرانٹ کے مطابق ایک چار سالہ اطالوی بچی کی ملیریا کے باعث موت ہونے کے بعد اٹلی کے چند ذرائع ابلاغ کی جانب سے مہاجرین پر اپنے ساتھ امراض اٹلی لانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اطالوی اخبار ’لبرو‘ نے اپنی چھ ستمبر کی اشاعت میں ایک رپورٹ کو اس شہ سرخی کے ساتھ پیش کیا،’’ غربت کے بعد وہ بیماریاں بھی لے آئے۔ مہلک بیماریوں میں مبتلا مہاجرین انفیکشن پھیلا رہے ہیں۔‘‘ روم کے روزنامے’ 11 ٹیمپو‘ نے لکھا،’’ تارکین وطن کا ملیریا‘‘
اس قسم کی خبروں سے اٹلی کی نیشنل یونین آف جرنلسٹ نے غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔
'جھوٹی خبریں‘
مرنے والی اطالوی بچی نے ملیریا کی وبا پائے جانے والے ممالک کی طرف سفر نہیں کیا تھا بلکہ وہ بریشا کے ایک ہسپتال میں ذیابیطس کے علاج کی غرض سے داخل ہوئی تھی۔
اسی ہسپتال میں ایک خاندان جو حال ہی میں افریقی ملک برکینا فاسو سے واپس آیا تھا، ملیریا کا علاج کروا رہا تھا اور شائد یہی اخبار کی ہیڈ لائن کی وجہ بنی۔
مہاجرین کی کشتی ڈوبنے کے ڈرامائی مناظر
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بحیر روم کو عبور کرنے کی کوشش میں حالیہ ہفتے کے دوران رونما ہونے والے تین حادثوں کے نتیجے میں کم از کم سات سو افراد ہلاک جبکہ دیگر سینکڑوں لاپتہ ہو چکے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Italian Navy/Handout
عمومی غلطی
ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی اس کشتی میں سوار مہاجرین نے جب ایک امدادی کشتی کو دیکھا تو اس میں سوار افراد ایک طرف کو دوڑے تاکہ وہ امدادی کشتی میں سوار ہو جائیں۔ یوں یہ کشتی توازن برقرار نہ رکھ سکی اور ڈوب گئی۔
تصویر: Reuters/Marina Militare
اچانک حادثہ
عینی شاہدین کے مطابق اس کشتی کو ڈوبنے میں زیادہ وقت نہ لگا۔ تب یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس کشتی میں سوار افراد پتھروں کی طرح پانی میں گر رہے ہوں۔ یہ کشتی لیبیا سے اٹلی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
تصویر: Reuters/Marina Militare
الٹی ہوئی کشتی
دیکھتے ہی دیکھتے یہ کشتی مکمل طور پر الٹ گئی۔ لوگوں نے تیر کر یا لائف جیکٹوں کی مدد سے اپنی جان بچانے کی کوشش شروع کردی۔ اطالوی بحریہ کے مطابق پانچ سو افراد کی جان بچا لی گئی۔
تصویر: Reuters/Marina Militare
امدادی آپریشن
دو اطالوی بحری جہاز فوری طور پر وہاں پہنچ گئے۔ امدادی ٹیموں میں ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے۔ بچ جانے والے مہاجرین کو بعد ازاں سیسلی منتقل کر دیا گیا، جہاں رواں برس کے دوران چالیس ہزار مہاجرین پہنچ چکے ہیں۔
تصویر: Reuters/Marina Militare
ہلاک ہونے والوں میں چالیس بچے بھی
تازہ اطلاعات کے مطابق جہاں ان حادثات میں سات سو افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، وہیں چالیس بچوں کے سمندر برد ہونے کا بھی قوی اندیشہ ہے۔
تصویر: Reuters/Marina Militare
حقیقی اعدادوشمار نامعلوم
جمعے کو ہونے والے حادثے میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔
تصویر: Reuters/EUNAVFOR MED
مہاجرین کو کون روکے؟
ایسے خدشات درست معلوم ہوتے نظر آ رہے ہیں کہ ترکی اور یورپی یونین کی ڈیل کے تحت بحیرہ ایجیئن سے براستہ ترکی یونان پہنچنے والے مہاجرین کے راستے مسدود کیے جانے کے بعد لیبیا سے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد بڑھ جائے گی۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Italian Navy/Marina Militare
عینی شاہدین کے بیانات
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی آنکھوں سے مہاجرین کی کشتیوں کوڈوبتے دیکھا، جن میں سینکڑوں افراد سوار تھے۔ یہ تلخ یادیں ان کے ذہنوں پر سوار ہو چکی ہیں۔
تصویر: Getty Images/G.Bouys
سینکڑوں ہلاک
گزشتہ سات دنوں کے دوران بحیرہ روم میں مہاجرین کی کشتیون کو تین مخلتف حادثات پیش آئے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ان حادثات کے نتیجے میں کم ازکم سات سو افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں لاپتہ ہو گئے ہیں۔
تصویر: Reuters/H. Amara
بحران شدید ہوتا ہوا
موسم سرما کے ختم ہونے کے بعد شمالی افریقی ملک لیبیا سے یورپی ملک اٹلی پہنچنے والے افراد کی تعداد میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اطالوی ساحلی محافظوں نے گزشتہ پیر سے اب تک کم ازکم چودہ ہزار ایسے افراد کو بچایا ہے، جو لیبیا سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم میں بھٹک رہے تھے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/Italian Navy/Handout
10 تصاویر1 | 10
اٹلی میں صحافیوں کی یونین اور نیشنل ایسوسی ایشن آف جرنلسٹ کے مطابق،’’ غیر ملکیوں کے خلاف سنسنی پھیلانے والی اور بے بنیاد خبروں کی اشاعت صحافتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور یہ بے وجہ کے خدشات کو جنم دیتی ہیں۔‘‘
عدالت سے رجوع پر غور
اٹلی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر کچھ تنظیمیں مہاجرین کے خلاف مذکورہ خبریں شائع کرنے پر عدالت سے رجوع کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ اٹلی میں مہاجرین کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’کارٹا دی روما‘ کے سربراہ گیووانی ماریا بیلو نے انفو میگرانٹ کو بتایا،’’ انفیکشن کے ایک کیس کو بنیاد بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مہاجرین مہلک امراض اپنے ساتھ لائے ہیں۔ یہ با لکل جھوٹی خبر ہے۔‘‘