1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مہاجرین کے لیے امریکی امداد دوگنی

21 جون 2013

امریکا نے اقوام متحدہ کی تنظیم برائے مہاجرین کے لیے اپنی امداد کو دوگنا کرتے ہوئے 890 ملین ڈالر کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر چار سیکنڈ میں ایک شخص جنگ یا دیگر تنازعات کی وجہ سے بے گھر ہو رہا ہے۔

Syrische Flüchtlinge in Jordanien
تصویر: picture-alliance/dpa

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گُٹرریس کے مطابق، ’’ہم ایک منٹ میں پندرہ مرتبہ آنکھ جھپکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہر بار آنکھ جھپکنے کی دیر میں، ایک شخص بے گھر ہونے پر مجبور ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بے گھر ہونے کی یہ صورتحال کتنی ڈرامائی ہے۔‘‘

امریکا کے محکمہ خارجہ کی میزبانی میں عالمی یوم مہاجرین کے تناظر میں منعقد کی گئی ایک کانفرنس میں اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین نے بتایا کہ سن 1994ء میں روانڈہ میں ہونے والی نسل کشی کے بعد پہلی مرتبہ دنیا اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کے مسئلے کا شکار ہے۔

ہر چار سینکڈ میں ایک شخص بے گھر ہو رہا ہےتصویر: picture-alliance/dpa

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر مہاجرین شام میں بشار الاسد کے خلاف مسلح تحریک کے آغاز کے بعد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد ایک اعشاریہ چھ ملین تک پہنچ چکی ہے جب کہ تقریبا چار ملین افراد ملک ہی میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ اردن میں بچوں کے ایک مہاجر کیمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں تعداد سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ یہ افراد کتنے گہرے انسانی المیے کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق سن 2012ء کے پہلے چھ ماہ میں شام سے ہجرت کرنے والے افراد کی تعداد اس پورے برس میں دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد سے زیادہ تھی۔

اقوام متحدہ کے دپٹی کمشنر برائے مہاجرین ایلکس الینکوف نے خبر رساں ادارے AFP سے بات چیت کرتے ہوئے دنیا بھر میں مہاجرین کی امداد کے لیے عالمی تعاون کی تعریف کی تاہم کہا کی بین الاقوامی برادری کو اس سلسلے میں مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

(at/as (AFP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں