’مہذب دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں‘ : اوباما
26 مارچ 2014
امریکی صدر باراک اوباما نے آج بُدھ کو برسلز میں یورپی یونین کے چوٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر امریکا اور پورپی یونین کے مابین ایک تاریخی تجارتی معاہدے سمیت یوکرائن کے موضوع کو مذاکرات کے ایجنڈا میں مرکزی اہمیت حاصل رہی ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما یورپ اور سعودی عرب کے سات روزہ دورے پر ہیں۔ اس دورے میں ولندیزی شہر دی ہیگ میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات بھی شامل ہیں۔ اوباما کے اس دورے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ اُن کا بلجیم اور یورپی اداروں کا پہلا دورہ ہے۔ آج بُدھ کو اوباما نے برسلز میں یورپی یونین کے لیڈروں کی معمول کی لنچ ٹائم میٹنگ میں شرکت کی۔ یورپی یونین کے صدر ہرمن فان رومپوئے اور یورپی کونسل کے صدر جوزے مانول باروسو کو مخاطب کرتے ہوئے اوباما نے اپنے مخصوص امریکی انداز میں کہا، " آپ حضرات کو آپ کے ہوم گراؤنڈ پر دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے"۔ اوباما کے ساتھ مذاکرت سے پہلے ہی ہرمن فان رومپوئے نے امریکا اور یورپی یونین کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا، "ایک ایسے وقت میں جب کہ یورپ کے اندر سکیورٹی اور سفارتی رابطوں کے بین الاقوامی اُصولوں کو یورپ سمیت دنیا بھر میں چیلنج کیا جا رہا ہے، یورپی یونین اور امریکا کے مابین تعاون کلیدی اہمیت کا حامل ہے" تاہم اس میٹنگ کے محض 75 منٹ جاری رہنے کے بارے میں برسلز میں چہ مہ گوئیاں سُننے میں آئیں جبکہ یورپی یونین کے ذرائع اس بات چیت کے اختصار کی وجوہات کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ اوباما کے ساتھ مذاکرات کے موضوعات کا دائرہ محدود رکھا گیا تھا ۔ ان میں کلیدی اہمیت کے حامل موضوعات، جیسے کے ایران کا متنازعہ ایٹمی پروگرام، امریکی خفیہ ایجنسی NSA کا جاسوسی کا اسکینڈل، توانائی سکیورٹی اور ماحولیاتی تبدیلی وغیرہ بھی ایجنڈا میں شامل تھے۔
برسلز میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ذریعے نے بتایا کہ اوباما اور یورپی یونین کے لیڈروں کی یہ ملاقات، مئی میں ہونے والے یورپی یونین کے الیکشن اور آئندہ نومبر میں امریکا کے مڈ ٹرم انتخابات یا وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں امریکا اور یورپی یونین کے تعلقات کی قوت و رفتار کو برقرار رکھنے میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ثابت ہو گی۔
آج بُدھ کو برسلز آمد سے پہلے باراک اوباما نے مغربی بیلجیم میں قائم فلنڈرس فیلڈ امریکی قبرستان میں پہلی عالمی جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یاد رہے کہ اس سال پہلی عالمی جنگ کے 100 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اوباما نے امن کے ساتھ وابستگی اور اس کے لیے جدو جہد کے پختہ عزم پر زور دیتے ہوئے دنیا بھر میں اب بھی موجود کیمیائی ہتھیاروں کے سبب بدستور پائے جانے والے مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، "ہماری قومیں شام کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی جدو جہد میں شامل ہیں۔ ایک مہذب دنیا میں کیمیائی ہتھیاروں کی کوئی گنجائش نہیں ہے"۔ اوباما کا مزید کہنا تھا، "ہمیں امن کے قیام کی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے پورا کرنا ہو گا، یہی بین الاقیانوسی بندھن کا منبع ہے"۔