انگیلا میرکل نے چوتھی بار چانسلر بننے کے لیے اگلے برس انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم تجزیاتی رپورٹوں کے مطابق اِس بار اگر میرکل چانسلر منتخب ہوئیں تو یہ اُن کے سیاسی کیرئیر کا سب سے بڑا امتحان ہو گا۔
میرکل یورپ کی آزاد خیال جمہوریت کے لیے آخری سب سے بڑی امید نظر آتی ہیںتصویر: picture alliance/dpa/W. Kumm
اشتہار
تجزیہ کاروں کے مطابق گیارہ سال سے جرمنی کی باگ ڈور سنبھالنے والی انگیلا میرکل کو منتخب ہونے کی صورت میں نہ صرف یورپ اور ٹرانس اٹلانٹک ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی بے یقینی کی صورتِ حال کا دفاع کرنا ہو گا بلکہ یورپی اتحاد کو بھی سہارا دینا ہو گا جو امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد متاثر ہوا ہے۔
انگیلا میرکل کو یورپی یونین کے ممالک کو نئے سرے سے باہمی طور پر قریب لانا ہو گا۔ جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تاہم اب یورپی یونین ٹوٹنے کے خطرات سے دو چار ہے۔ مزید براں امریکی صدر باراک اوباما کی وائٹ ہاؤس سے عنقریب روانگی کے تناظر میں بھی میرکل یورپ کی آزاد خیال جمہوریت کے لیے آخری سب سے بڑی امید نظر آتی ہیں۔
باراک اوباما نے گزشتہ ہفتے برلن میں بطور امریکی صدر اپنے آخری دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ اگر میرکل جرمنی کی چانسلر کی حیثیت سے اپنی خدمات جاری رکھتی ہیں تو اُن کو بڑے بوجھ اٹھانے ہوں گے۔ کاش میں اُن کا بوجھ کم کرنے کے لیے موجود ہوتا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ ایک مضبوط لیڈر ہیں۔‘‘
مختلف تجزیاتی جائزے یہ بتاتے ہیں کہ میرکل کو اگلی بار چانسلر منتخب ہونے کی صورت میں متعدد امتحانات سے گزرنا ہو گا۔ سب سے پہلے تو میرکل کو مہاجرین کے جرمنی میں آزادانہ داخلے کی پالیسی پر اپنی حلیف جماعتوں میں پیدا ہونے والے اختلافات کو ختم کرنا ہو گا۔
باراک اوباما کے مطابق میرکل کو جرمنی کی چانسلر کی حیثیت سے بڑے بوجھ اٹھانے ہوں گے تصویر: picture-alliance/dpa/J. Koch
یاد رہے کہ میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیمو کریٹک یونین کو رواں برس جرمنی کی دو ریاستوں میں ہونے والےانتخابات میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا جہاں ووٹرز نے میرکل کی مہاجرین کے لیے جرمنی میں آزادانہ داخلے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے مہاجر مخالف جماعت اے ایف ڈی کو ووٹ دیے تھے۔ میرکل کی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کی ہم خیال جماعت کرسچن سوشل یونین کی جانب سے اِس شکست پر جرمن چانسلر کی مہاجرین کے لیے پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
جرمن چانسلر میرکل کو آئندہ انتخابی مہم ایک ٹوٹے پھوٹے سیاسی منظر نامے والے جرمنی میں چلانا ہو گی۔ یہ ایک ایسا منظر نامہ ہو گا جہاں انتہائی دائیں بازو کی نئی سیاسی جماعت ’متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی ممکنہ طور پر پہلی مرتبہ قومی پارلیمان میں داخل ہو رہی ہو گی۔
میرکل کے ممکنہ اتحادی سوشل ڈیمو کریٹس ہو سکتے ہیں، جو میرکل کی قدامت پسند سیاسی جماعت کرسچن ڈیمو کریٹک یونین سے دس پوائنٹس پیچھے ہیں اور جو اب بھی حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔ تاہم اے ایف ڈی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر اتحاد کی نوعیت پیچیدہ ہو سکتی ہے اور میرکل کا ووٹ بینک بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
بائے بائے باراک اوباما
امریکی صدر کی حیثیت سے جرمنی میں اپنے آخری پڑاؤ برلن سے باراک اوباما کا جرمن چانسلر میرکل کو الوداعی سلام۔ دیکھیے صدر اوباما کی جرمنی سے جڑی ماضی کی چند خوشگوار یادوں کی جھلکیاں
تصویر: Reuters/F. Bensch
نومبر سن 2016: خاموش آمد
اوباما’ ائر فورس ون ‘ طیارے سے براہِ راست برلن میں ہوٹل آڈالن پہنچے ۔ الوادعی دورے کے آغاز پر اُنہوں نےجرمن چانسلر میرکل سے رات کے کھانے پر موجودہ عالمی سیاسی صورتِ حال پر گفتگو بھی کی۔ دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کی نوعیت نجی رہی۔
تصویر: Reuters/F. Bensch
اپریل سن 2016: اوباما چانسلر میرکل کے مداح
مہاجرین کے بحران پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے طرزِ عمل سے باراک اوباما بہت متاثر تھے۔ اوباما نے میرکل کو اِس حوالے سے رول ماڈل قرار دیا۔ ہنوفر میلے میں ایک جذباتی تقریر کے دوران اوباما نے یورپی باشندوں کو مخاطب کر کے کہا ’’ میرکل نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ جب انسانوں کو ہماری ضرورت ہو تو ہمیں منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ ‘‘
تصویر: Reuters/K. Pfaffenbach
جون سن 2015، جرمن مہمان نوازی کی کیا بات ہے
ایلماؤ کے شاندار محل میں بنے ہوٹل میں جی سیون اجلاس کے صبح کے سیشن سے پہلے امریکی صدر باراک اوباما خورد و نوش کے خالص باویرین انداز میں کیے گئے اہتمام سے خوب لطف اندوز ہوئے۔
تصویر: Getty Images/G. Gajanin
جون سن 2013: دوستوں کے پاس خوش آمدید
جب آپ دوستوں میں ہوں تو پھر تکلفات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ صدر اوباما نے بھی اسی لیے برلن میں برانڈن بُرگ گیٹ پر بے تکلفانہ انداز میں اپنی جیکٹ اتاری اور تقریر کو جاری رکھا۔ اوباما کو طویل عرصے سے یہاں آنے کی تمنا تھی۔
تصویر: picture-alliance/dpa/K. Niefeld
جون سن 2009: اداسی کے کچھ لمحات
واشنگٹن سے آئے جرمنی کے مہمان اوباما کے لیے ’بُوخن والڈ‘ کے اذیّتی کیمپ کا دورہ بے حد رقّت انگیز تھا۔
اذیّتی کیمپ کے ماحول کی گرفت میں آئے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا، ’’ یہاں آج بھی خوف کی ویسی ہی فضا ہے جو پہلے تھی۔ ‘‘
تصویر: picture-alliance/dpa/J. U. Koch
اپریل سن 2009: دلکش اور شاندار آمد
اوباما نے جرمن چانسلر کے ساتھ پریس کانفرنس کے بعد جرمن زبان میں شکریے کے الفاظ کہے۔ بعد ازاں انگریزی میں اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے اوباما کا کہنا تھا ، ’’ بد قسمتی سے میری جرمن اتنی اچھی نہیں جتنی چانسلر میرکل کی۔‘‘ امریکی صدر کی اِس بات پر میرکل مُسکرا دِیں۔
تصویر: AP
جولائی سن 2008: پاپ اسٹار باراک اوباما
امریکا میں انتخابی مہم کے عرصے میں اوباما امریکی سینیٹر کی حیثیت سے برلن آئے تھے۔ دو لاکھ کے قریب افراد نے اُن کا ایک پاپ اسٹار کی طرح استقبال کیا۔ اُس روز میرکل نے باراک اوباما کو برانڈن بُرگ گیٹ پر لوگوں سے خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔