نیتن یاہو کا امریکی ایرانی معاہدے پر تنقید سے گریز
16 جون 2026
ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے اختلافات کی خبروں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نیتن یاہو نے پیر کی رات کہا کہ ان کے اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہر معاملے پر ہی ہمیشہ مکمل اتفاق رائے نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دراصل اسرائیل کے سلامتی مفادات کے لیے ذمہ دار ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے اتوار کے روز ایک ابتدائی معاہدے پر اتفاق کیا، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی میں توسیع کی راہ ہموار ہو گی۔ اس معاہدے پر آئندہ جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔
اس معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں آئیں۔ نیتن یاہو نے اس حوالے سے کہا، ''ابھی تک ہمیں معلوم نہیں کہ معاہدے کی حتمی شکل کیا ہو گی۔‘‘
یاد رہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز پر نیتن یاہو اور ٹرمپ کے موقف ایک جیسے تھے، تاہم اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا فریق نہیں ہے۔
اسرائیل کو ’ایٹمی تباہی‘ سے بچا لیا، نیتن یاہو
امریکی ایرانی معاہدے کو اسرائیل میں بالخصوص اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔
لیکن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے تہران کو مستقبل قریب میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے اور اسرائیل کو ایک 'وجودی خطرے‘ سے بچا لیا ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو لاکھوں اسرائیلی شہری بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے خطرے سے دوچار ہو سکتے تھے۔ انہوں نے کہا، ''آپ سب، جو اس وقت میری بات سن رہے ہیں، شدید خطرے میں ہوتے، لیکن ہم نے اسرائیل کی آبادی کی تباہی کے اس خطرے کو کئی برسوں کے لیے ٹال دیا ہے۔‘‘
اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا، ''معاہدہ ہو یا نہ ہو، ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ جب تک میں اسرائیل کا وزیر اعظم ہوں، ایسا نہیں ہونے دوں گا۔‘‘
خیال رہے کہ ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔
ٹرمپ کے ساتھ اختلافات؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کی خبروں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ دونوں رہنما ہر معاملے میں ہمیشہ ہی یکساں رائے نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا، ''میں اسرائیل کے سکیورٹی مفادات کا ذمہ دار ہوں۔‘‘
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیاں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی افواج غزہ پٹی، جنوبی لبنان اور شام میں قائم 'سکیورٹی زونز‘ میں ضرورت کے مطابق موجود رہیں گی۔
نیتن یاہو نے اپنی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ''میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ ہم نے کہا تھا کہ ہم اپنے اوپر منڈلانے والے وجودی خطرے کو ختم کرنا چاہتے ہیں، پہلے ایٹمی خطرہ، اور ہم نے ایسا کر دکھایا، پھر میزائلوں کا خطرہ، اور اس کا بھی خاتمہ کر دیا۔‘‘
انہوں نے کہا، ''ہم نے ان کے جوہری سائنس دانوں کو غیر مؤثر بنایا، دہشت گرد حکومت کی قیادت کو ختم کیا، جوہری تنصیبات کو تباہ کیا، میزائلوں کو نشانہ بنایا اور میزائل تیار کرنے والی بیشتر فیکٹریوں کو تباہ کر دیا۔‘‘
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس فوجی مہم نے ایران کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی معاہدے کے لیے ایک ''قابل اعتبار فوجی دباؤ‘‘ پیدا کر دیا ہے، جو ان کے بقول 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والے تنازعے کے ابتدائی برسوں میں موجود نہیں تھا۔
نیتن یاہو نے کہا، ''اس وقت ایسا کوئی فوجی دباؤ موجود نہیں تھا، لیکن آج ہے، اور یہ صرف امریکہ کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری کارروائیوں کی بدولت بھی ممکن ہوا ہے۔‘‘
ادارت: مقبول ملک