1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

میلان میں نوجوانوں میں بے روزگاری کے خلاف سربراہی اجلاس

عدنان اسحاق8 اکتوبر 2014

نوجوانوں میں بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے یورپی یونین نے بے روزگاری کے خلاف ایک سربراہی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔ برلن اور پیرس میں تو اجلاس ہو چکے ہیں جبکہ اپنی نوعیت کا تیسرا اجلاس اطالوی شہر میلان میں ہو رہا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے پانچ ملین بے روزگار نوجوانوں کی مدد کے لیے تین مختلف طرح کی پیش رفت شروع کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک ’یوتھ گارنٹی’ پروگرام بھی ہے۔ اس منصوبے کے تحت یورپی یونین کی رکن تمام ریاستوں پر لازم ہے کہ 18 سے 25 سال تک کی عمر کے کسی بھی نوجوان کے بے روزگار ہونے یا پیشہ ورانہ تربیت ختم کر لینے کی صورت میں چار ماہ کے اندر اندر اس کے لیے کسی ملازمت کا انتظام کیا جائے۔ ملازمت تلاش کرنے میں اگر دشواری کا سامنا ہو تو اُس کے لیے کسی اضافی تربیتی کورس کا بندوبست کیا جائے۔

اس تناظر میں یورپی کمشنر لازلو اندور Laslo Ander نے کہا کہ اسپین، یونان اور اٹلی میں اس حوالے سے صورتحال قدرے دشوار ہے۔ ’’سب سے بڑا چیلنج تمام نوجوانوں تک پہنچنا اور ان کی مدد کرنا ہے۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں، جو روزگار کی منڈی سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ ہر ایک کو تربیت کے بہتر مواقع ملنے چاہییں تاکہ انہیں بعد میں کوئی مناسب روزگار مل سکے۔‘‘

تصویر: picture-alliance/dpa

یورپی کمشنر لازلو اندور نے بتایا کہ یوتھ گارنٹی پروگرام آسٹریا اور فن لینڈ سے متاثر ہو کر شروع کیا گیا ہے۔ ان کے بقول اگلے سات برسوں کے دوران یورپی یونین کے رکن ممالک میں اس پروگرام پر دس ارب یورو خرچ کیے جائیں گے۔ اٹلی میں بے روزگار نوجوانوں کی شرح 42.9 فیصد ہے۔ اطالوی وزیر اعظم ماتیو رینزی اس بے روزگاری کے خلاف یہ اجلاس بلانے کے حوالے سے پس و پیش سے کام لے رہے تھے۔ اس سلسلے میں متعدد مرتبہ تاریخ تبدیل کی گئی۔

یورپی کمشنر لازلو اندور نے مزید کہا کہ کچھ حلقے تنقید کر رہے ہیں کہ ایک سال قبل طے کیے گئے اس منصوبے پر بہت زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ انہوں نے اس تنقید کو مسترد کر دیا۔ ’’یوتھ گارنٹی پروگرام پر عمل درآمد بہت بہتر انداز میں جاری ہے اور اوّلین نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اگر اس کا موازنہ یورپی یونین کے دیگر منصوبوں سےکیا جائے تو واضح ہو گا کہ یہ اب تک کے تمام پروگراموں سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے محنت ILO کا خیال ہے کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے حوالے سے یورپی یونین تمام تر وسائل بروئے کار نہیں لا رہی۔ یورپی کمیشن کے ایک جائزے کے مطابق اس حوالے سے کیے جانے والے تمام تر اقدامات کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ آئی ایل اوکے ایک ماہر ایکہارڈ ایرنسٹ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے خیال میں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح روزگار کی منڈی میں بہتری کی وجہ سے ہی کم ہوئی ہے۔ تاہم یہ معمولی سی اقتصادی ترقی کافی نہیں ہو گی۔ ہمیں سرکاری اور نجی سطح پر مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ مزید افراد کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں۔‘‘

تصویر: DW/Guilherme Correia da Silva

یورپی یونین کی کئی رکن ریاستیں اس طرح کی کانفرنس کےحوالے سے اپنے خدشات کا اظہار بھی کر چکی ہیں۔ برسلز میں ایک یورپی سفیر نے کہا کہ سربراہ مملکت و حکومت کسی ایسے اجلاس میں شرکت کرنے سے کتراتے ہیں، جس کے بعد وہ کوئی مثبت اعلان یا کوئی اچھی خبر نہ دے سکتے ہوں۔ ذرائع نے کچھ یورپی سربراہان کے توسط سے بتایا ہےکہ اس مقصد کے لیے مزید رقم دینے کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ اس وجہ سے اجلاس کے دوران کوئی نئی پیش رفت شروع کیے جانے کے حوالے سے کسی قسم کے فیصلے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں