1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
آزادی صحافتیورپ

میڈیا کی آزادی سے متعلق یورپی یونین کا نیا قانون کیا ہے؟

14 مارچ 2024

یورپی میڈیا فریڈم ایکٹ کا مقصد یورپی یونین کے تمام رکن ممالک میں خبر رساں اداروں کی ادارتی آزادی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ آزادی صحافت کے حامیوں نے اس نئے قانون کا خیر مقدم کیا ہے۔

جرمن اخبار اور میگزین
نیا قانون حکام کو حراست، نگرانی اور دفتروں پر چھاپوں سمیت جیسی کارووائیوں کے مدد سے، صحافیوں اور مدیروں کو اپنے ذرائع ظاہر کرنے پر مجبور کرنے سے منع کرتا ہےتصویر: Petros Giannakouris/AP/picture alliance

یورپی پارلیمنٹ نے 13 مارچ بدھ کے روز صحافیوں کو سیاسی مداخلت سے بچانے کے لیے ایک نیا قانون منظور کیا، جس کا حقیقی مقصد پریس کی آزادی کو لاحق خطرات سے نمٹانا ہے۔ 

یوکرین کی جنگ: جمہوریت کا امتحان

'یوروپین میڈیا فریڈم ایکٹ‘ کہلانے والا یہ قانون پوری یورپی یونین میں ادارتی آزادی اور صحافت کے ذرائع کے تحفظ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔

بھارت میں بی بی سی کے خلاف حکومتی کارروائی پر عالمی ردعمل

یورپی یونین کی پارلیمان کی رکن زابینے فیرہائین نے پارلیمنٹ میں اس قانون کی منظوری کی سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کی قیادت کی۔ انہوں نے مالٹا کی تحقیقاتی صحافی ڈافنے کاروآنا گالیزیا  کے قتل اور ہنگری میں آزادی صحافت کو درپیش خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ آخر اس نئے قانون کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

بھارت: بی جے پی لیڈر کی شکایت پر معروف صحافیوں کے گھروں پر چھاپے

انہوں نے کہا، ''ایک فعال جمہوریت کے لیے میڈیا کی تکثریت کی اہمیت پر اس سے زیادہ زور نہیں دیا جا سکتا۔‘‘

میڈیا فریڈم ایکٹ میں ہےکیا؟

نیا قانون حکام کو حراست، نگرانی اور دفتروں پر چھاپوں سمیت جیسی کارووائیوں کے مدد سے، صحافیوں اور مدیروں کو اپنے ذرائع ظاہر کرنے پر مجبور کرنے سے منع کرتا ہے۔

متنازعہ پریس کانفرنس کے قانونی اور آئینی نکات پر بحث

اس قانون کے حوالے سے مذاکرات کے دوران فرانس نے البتہ ''قومی سلامتی‘‘ کے استثنیٰ پر زور دیا تھا۔ تاہم حتمی قانون میں قومی سلامتی کا حوالہ شامل نہیں کیا گيا۔ البتہ حکام کو اس صورت میں صحافیوں کے خلاف 'اسپائی ویئر‘ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے کہ جب ان پر متعدد سنگین خلاف ورزیوں کا شبہ ہو۔ تاہم ایسا کرنے کی اجازت بھی صرف عدالتی منظوری کے بعد ہی ہو گی۔

صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا کی آزادی کے لیے نیا یورپی قانون

میڈیا فریڈم ایکٹ میں شفافیت پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اس میں یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ پبلک میڈیا اداروں کے بورڈ کے ارکان  کا انتخاب کھلے اور منصفانہ عمل کے ذریعے کیا جانا چاہیے اور انہیں قبل از وقت ان کے عہدوں سے اس وقت تک ہٹایا بھی نہیں جا سکتا کہ جب تک وہ پیشہ وارانہ معیارات کی خلاف ورزی کے مرتکب نہ پائے جائیں۔

’صحافی صحافی ہوتا ہے، مرد یا عورت نہیں‘

03:59

This browser does not support the video element.

اس کے ساتھ ہی یورپی یونین کے تمام رکن ممالک میں موجود خبر رساں اور میڈيا اداروں کو اپنے مالکان کے بارے میں بھی تمام معلومات ظاہر کرنا ہوں گی تاکہ عوام آسانی سے جان سکیں کہ کون لوگ کس میڈیا ادارے یا داروں کو کنٹرول کرتے ہیں اور کون سے مفادات ایسے ہیں جو ان اداروں کی رپورٹنگ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ قانون اب میٹا اور ایکس جیسے سوشل میڈیا اداروں کو اس بات پر بھی مجبور کرے گا کہ وہ میڈیا اداروں کو اس بات کے لیے مطلع کریں کہ وہ کب ان کے کسی خاص مواد کو حذف یا محدود کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہیں اس پر جواب دینے کے لیے ایسے اداروں کو  24 گھنٹے کا وقت بھی دینا ہو گا۔

میڈیا آؤٹ لیٹس کسی بھی کیس کو عدالت کے باہر یا اس کی ماتحتی میں ثالثی کے حق دار بھی ہوں گے۔

آزادی صحافت کے حامیوں کی طرف سے تعریف

یورپی یونین کی کمشنر برائے اقدار اور شفافیت ویرا ژُورووا نے بدھ کے روز اس قانون پر ہونے والی ''تاریخی ووٹنگ‘‘ کی تعریف کی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا، ''جمہوریتوں کے لیے آزاد میڈیا ضروری ہے۔ یہ جمہوری اقدار والوں کا فرض ہے کہ وہ اس کی حفاظت کریں۔‘‘

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وِآؤٹ بارڈرز نے بھی اس نئے قانون کا خیر مقدم کیا ہے۔ برسلز میں اس تنظیم کے دفتر کی سربراہ ژُولی مائرچاک کا کہنا تھا، ''یورپی یونین میں اس قانون سازی کا مطلب معلومات کے حق کی جانب ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے۔‘‘

مائرچاک نے کہا کہ اب یورپی یونین کے رکن ممالک کو اس بہت اہم قانون کے نفاذ اور اس پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔

ص ز/ م م (اے ایف پی، ڈی پی اے)

پاکستانی خاتون کا یورپی پارلیمنٹ سے خطاب

01:25

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں