میں وینزویلا کا صدر ہوں، مادورو کا امریکی عدالت میں اصرار
6 جنوری 2026
وینزویلا کے معزول رہنما نکولاس مادورو کو امریکی عدالت میں "منشیات کی دہشت گردی" جیسے الزامات میں پہلی بار جج کے سامنے پیش گیا، جہاں انہوں نے اپنی بے گناہی پر اصرار کیا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کی گرفتاری اور نیویارک منتقلی کے جواز کے لیے یہی الزامات عائد کیے ہیں۔
مادورو اور ان کی اہلیہ ایک مختصر سماعت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے، جس سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ آیا ان پر امریکہ میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
توقع کی جاتی ہے کہ ان کے وکلاء اس دلیل کے ساتھ ان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت کو چیلنج کریں گے کہ وہ ایک خودمختار سربراہ مملکت کے طور پر استغاثہ سے محفوظ ہیں۔ تاہم امریکہ مادورو کو وینزویلا کے جائز رہنما کے طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔
استغاثہ نے مادورو، ان کی اہلیہ، بیٹے، اور تین دیگر افراد پر ہزاروں ٹن کوکین امریکہ منتقل کرنے کے لیے منشیات کے کارٹلز کے ساتھ کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مادورو کو مقامی وقت کے مطابق تقریبا بارہ بجے کمرہ عدالت میں لے جایا گیا، جہاں انہوں نے اپنے وکیل سے مصافحہ کیا اور اپنی نشست سنبھال لی۔ ان کی اہلیہ کو بھی کچھ ہی لمحوں بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔
قصوروار نہ ہونے کی استدعا
وینزویلا کے معزول رہنما نکولاس مادورو نے امریکی عدالت میں اپنی پہلی پیشی کے دوران منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی ہے۔
مادورو نے جج کو بتایا، "میں بے قصور ہوں۔ میں قصوروار نہیں ہوں۔ میں ایک مہذب آدمی ہوں، اپنے ملک کا صدر ہوں۔"
عدالت نے الزامات کا جو خلاصہ پڑھ کر سنایا، اس کے مطابق ان پر "منشیات کی دہشت گردی کی سازش" کے الزامات بھی شامل ہیں۔
مادورو نے کہا کہ انہوں نے فرد جرم نہیں پڑھی ہے اور نہ ہی انہیں اپنے حقوق سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ایک ترجمان کے ذریعے انہوں نے کہا، "مجھے ان حقوق کا علم نہیں تھا۔ جناب والا آپ، اب مجھے ان کی خبر دے رہے ہیں۔"
جج نے کہا کہ مادورو کی جانب سے ایک قصوروار نا ہونے سے متعلق ایک درخواست داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس درخواست سے متعلق دوبارہ پوچھے جانے پر، مادورو نے کہا، "میں بے قصور ہوں، میں ایسی کسی بھی چیز کا قصوروار نہیں ہوں، جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔"
مادورو کی گرفتاری قانون کے نفاذ کی کارروائی
ادھر امریکہ نے وینزویلا کے رہنما کی گرفتاری کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ ٹارگٹڈ قانون نافذ کرنے والی کارروائی ہے کوئی جنگی کارروائی نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے، امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ واشنگٹن نے "امریکی انصاف کے دو مفرور ملزمان" کے خلاف "قانون نافذ کرنے والا آپریشن" کیا۔
انہوں نے کہا، "پچھلے ہفتے کے آخر میں امریکہ نے کامیابی کے ساتھ ایک سرجیکل آپریشن سر انجام دیا، جس میں امریکی فوج کی مدد سے دو مفرور ملزمان، نارکو دہشت گرد نکولاس مادورو اور سیلیا فلورس کے خلاف کارروائی کی گئی۔"
مادورو کی درخواست کے بعد جج نے ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی طرف رجوع کیا اور ان سے اپنی شناخت کی تصدیق کرنے کو کہا۔ اس پر انہوں نے کہا، "میں وینزویلا کی خاتون اول ہوں۔"
انہوں نے عدالت کو بتایا، "میں مجرم نہیں، مکمل طور پر بے قصور ہوں۔" دونوں کے لیے اگلی عدالت کی تاریخ 17 مارچ مقرر کی گئی ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے امریکہ پر تنقید
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں امریکی اتحادیوں سمیت مخالفین نے بھی نے خبردار کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ کا امریکی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں اس طرح گرفتار کیا جانا بین الاقوامی قانون کے لیے ایک بری مثال قائم کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ میں وینزویلا کے سفیر سیموئیل مونکڈا نے امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک ناجائز مسلح حملہ تھا جس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔"
15 رکنی کونسل نے ایک ہنگامی میٹنگ کے لیے ملاقات کی، جس میں چین نے وینزویلا کے رہنما نکولاس مادورو کو پکڑے جانے پر امریکہ کی شدید مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب سفیر سن لی نے کہا کہ بیجنگ کو "گہرا صدمہ" پہنچا ہے اور بیجنگ "امریکہ کے یکطرفہ، غیر قانونی اور غنڈہ گردی کے اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے۔"
مینڈرن زبان میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے واشنگٹن سے مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ "ہم امریکہ سے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی حفاظت کو یقینی بنانے اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"
روس کی سفیر ویسیلی نیبنزیا نے کہا کہ امریکہ " بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور عدم مداخلت کے تصورات سے قطع نظر، خود کو ایک ایسے اعلیٰ ترین جج کے طور پر اعلان نہیں کر سکتا، جو تنہا کسی بھی ملک پر حملہ کرنے، مجرموں پر الزام لگانے، حوالے کرنے اور سزائیں نافذ کرنے کا حق رکھتا ہو۔"
ہنگامی اجلاس میں قابل ذکر ناقدین میں امریکہ کے روایتی اتحادی میکسیکو اور ڈنمارک بھی شامل تھے۔ ٹرمپ نے ان دونوں کو بھی گزشتہ سال کے دوران فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی تھیں۔
فرانس کے نائب سفیر جے دھرما ادھیکاری نے کہا، "جو فوجی آپریشن مادورو کی گرفتاری کا باعث بنا ہے وہ پرامن تنازعات کے حل کے اصول کے خلاف ہے اور طاقت کے استعمال نا کرنے کے اصول کے بھی خلاف ہے۔"
ادارت: رابعہ بگٹی