1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نائب برطانوی وزير اعظم اپنے عہدے سے مستعفی

21 اپریل 2023

ڈومينک راب گزشتہ چھ ماہ ميں رشی سوناک کی کابينہ سے الگ ہونے والے تیسرے وزیر ہیں، اس پیشرفت کو حکومت کے لیے کافی منفی سمجھا جا رہا ہے۔

England London | Dominic Raab
تصویر: JUSTIN TALLIS/AFP/Getty Images

برطانيہ کے نائب وزير اعظم ڈومينک راب جمعہ اکيس اپريل کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہو ئے۔ راب کے خلاف اپنے ساتھی اہلکاروں کے ساتھ جارحانہ رويہ اختيار کرنے کی شکایت تھی۔ اس معاملے کی آزاد تحقيقات کے تناظر ہی ميں انہوں نے منصب چھوڑنے کا فيصلہ کيا۔

ڈومينک راب گزشتہ چھ ماہ ميں رشی سوناک کی کابينہ سے استعفیٰ دینے والے تيسرے وزير ہيں۔ اس سے وزير اعظم کی اپنی جماعت کنزرويٹوو پارٹی کی ساکھ بہتر بنانے کی کوششيں متاثر ہو سکتی ہيں۔ يہ امر بھی اہم ہے کہ گزشتہ برس اکتوبر ميں وہ اس وعدے کے ساتھ حکومت ميں آئے تھے کہ وہ تمام تر حکومتی معاملات باوقار طريقے سے چلائے جائيں گے۔

برطانوی وزير اعظم جانسن کو پارلیمانی عدم اعتماد کی تحريک کا سامنا

پاکستانی نژاد مردوں سے متعلق برطانوی وزیر داخلہ کا متنازع بیان

سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کو جرمانہ

کیا رشی سوناک بھی باراک اوباما کی طرح مایوس کریں گے؟

ايسے ميں ان اسکينڈلز کے نتيجے ميں وزراء کی اپنے قلمدانوں سے عليحدگی لندن حکومت کے ليے کسی حد تک شرمندگی کا باعث بھی ہے۔ برطانيہ ميں اس سے قبل بورس جانسن اور لز ٹرس کی حکومتيں بھی اسکينڈلز کی زد ميں رہيں، جس سے ملک کی مجموعی ساکھ منفی طور پر متاثر ہوئی۔

ڈومينک راب نے اپنا استعفی ايک ايسے وقت پر پيش کيا ہے، جب دو ہفتے بعد لوکل کونسل کے انتخابات ہونے کو ہيں۔ ان انتخابات ميں ويسے ہی کنزرويٹوو پارٹی کی کارکردگی زيادہ اطمينان بخش رہنے کی توقعات نہيں ہيں۔

استعفے کی وجہ کيا ہے؟

ڈومينک راب پر چند ساتھی سرکاری ملازمين نے بد سلوکی کا الزام عائد کيا تھا۔ اس پر راب نے خود ہی نومبر ميں تحقيقات کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔ انہوں نے اپنے طرز عمل کا دفاع کيا تاہم يہ بھی اسی وقت واضح کر ديا تھا کہ وہ ان تحقيقات کے نتائج کو تسليم کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فيصلہ کريں گے۔ اس کئی ماہ پر محيط تفتيشی عمل ميں بہت سے افراد کی گواہی لی گئی۔

واضح رہے کہ تحقيقات کے نتائج پر مبنی رپورٹ ابھی تک عام نہيں کی گئی ہے۔ البتہ راب نے اس کا حوالہ ديتے ہوئے دعویٰ کيا ہے کہ تحقيقات ميں يہ ثابت ہوا کہ انہوں نے گزشتہ ساڑھے چار برس ميں نہ کبھی عوامی سطح پر گالی گلوچ کی، نہ بلند آواز ميں بات کی يا نہ ہی کسی کو ڈرايا دھمکايا۔ سوائے دو الزامات کے ان کے خلاف تمام ديگر الزامات بے بنياد ثابت ہوئے۔

ع س / ش خ (روئٹرز)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں