نائجیریا کے نو منتخب صدر بولا ٹینوبو کون ہیں؟
2 مارچ 2023
نائجیریا کے نو منتخب صدر بولا ٹینوبو کی صدارتی مہم کا نعرہ ان کی مقامی زبان میں ''ایمی لو کان'' یعنی اس بار ''میری باری ہے'' تھا۔ یکم مارچ کو وہ افریقہ کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک کی جمہوریت کی قیادت کرنے کی دوڑ میں فاتح بن کر ابھرے۔
جرمنی نے نائجیریا سے لوٹے گئے نوادرات واپس کر دیے
ملک کے آزاد قومی انتخابی کمیشن (آئی این ای سی) نے تصدیق کی کہ صوبہ لاگوس کے سابق گورنر نے نائجیریا کی 36 ریاستوں اور دارالحکومت کے دو تہائی حصے میں تقریباً پونے نو ملین ووٹ حاصل کر لیے اور اس طرح انہیں مطلوبہ 25 فیصد ووٹ ملے جو صدارتی انتخابات میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
نائجیریا میں توہین مذہب کے جرم میں ایک شخص کو 24 برس قید کی سزا
اسی دوران انتخابی کمیشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عتیقو ابوبکر تقریبا ًپونے سات ملین ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ لیبر پارٹی کے امیدوار پیٹر اوبو تقریبا ًچھ ملین ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
بوکو حرام نے پاکستانی کو یرغمال بنا لیا: اہل خانہ کی حکومت پاکستان سے مدد کی اپیل
احمد ٹینوبو صدر محمدو بوہاری کی جگہ لیں گے، جو ایک سابق فوجی جنرل ہیں اور جنہوں نے نائجیریا کے آئین کے مطابق زیادہ سے زیادہ دو میعادوں تک خدمات انجام دیں۔ بوہاری 29 مئی کو سبکدوش ہو جائیں گے۔
تجارت سے سیاست تک کا سفر
ٹینوبو سن 1952 میں لاگوس میں یوروبا نسلی گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے تھے، جو جنوب مغربی نائجیریا میں اکثریتی طبقہ ہے۔
سن 1970 کی دہائی میں انہوں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی اور اپنی تعلیمی اخراجات کے لیے انہوں نے برتن دھونے، ٹیکسی چلانے اور نائٹ گارڈ کے طور پر بھی کام کیا۔ انہوں نے سن 1979 میں شکاگو اسٹیٹ یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کی۔
متعدد امریکی کنسلٹنسی فرموں میں کام کرنے کے بعد وہ 1980 کی دہائی میں نائجیریا واپس آئے اور موبیل آئل کمپنی میں بطور آڈیٹر کام کیا۔ وہ پہلی بار سن 1990 کی دہائی میں سیاست میں شامل ہوئے اور سن 1999 میں فوجی حکمرانی ختم ہونے کے بعد لاگوس کے گورنر منتخب ہوئے۔
انہیں سیاسی طور پر ''گاڈ فادر'' بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پردے کے پیچھے سے طاقت کا استعمال کرنے کے لیے معروف ہیں اور امیدواروں کی حمایت کے لیے وہ اپنے وسیع تر نیٹ ورک کا استعمال کرنے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔
دولت کا ذریعہ معلوم نہیں
ٹینوبو نے سن 2015 اور 2019 میں صدر بوہاری کی حمایت کی اور ان کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ سن 2019 کی انتخابی مہم کے دوران پیسوں سے بھری ایک گاڑی ان کی رہائش گاہ میں داخل ہوتے ہوئے دیکھی گئی تھی۔ اس پر انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ''میں جہاں چاہوں پیسہ رکھتا ہوں۔''
سن 2017 میں لاگوس کے گورنر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد سے، ٹینوبو کامیاب ہونے والے ہر صدارتی امیدوار کے ساتھ رہے ہیں۔
ٹینوبو کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نائجیریا کے امیر ترین سیاستدانوں میں سے ایک ہیں لیکن ان کی دولت کا ذریعہ معلوم نہیں ہے۔ سیاسی طور پر کنگ میکر کی حیثیت رکھنے والے رہنما میڈیا اور شہری ہوا بازی سے لے کر ٹیکس کنسلٹنسی، ہوٹلوں اور رئیل اسٹیٹ ہولڈنگز جیسے مختلف کاروباری منصوبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ان کی صحت پر بھی سوالیہ نشان
نو منتخب صدر پر بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور ایک درجن سے زائد غیر ملکی بینک اکاؤنٹس رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، تاہم ان کے خلاف کبھی مقدمہ درج نہیں ہوا اور وہ ایسے غلط کاموں سے انکار بھی کرتے ہیں۔
ٹینوبو کی صحت بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ بعض اوقات وہ انتہائی کمزور دکھائی دیتے تھے اور انتخابی مہم کے دوران بہت ہی عجیب و غریب تقریر بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن وہ اپنی صحت سے متعلق کسی بھی تشویش کو مسترد بھی کرتے رہے ہیں۔
جون میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹینوبو سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مسائل کی ایک ایسی طویل فہرست سے نمٹیں گے، جس میں سلامتی، کرنسی کا بحران، ایندھن اور بجلی کی قلت اور بدعنوانی جیسے مسائل شامل ہیں۔
ص ز/ ج ا (اوکیری نتینازو)