1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستنائجر

نائیجر میں فوجی مداخلت کی تیاریاں مکمل

19 اگست 2023

اقتصادی تنظیم ایکوواس نے خبردار کیا ہے کہ اگر نائیجر کے سیاسی بحران کا حل مذاکرات سے نہ نکلا تو وہ فوجی مداخلت کے لیے تیار ہے۔ اس بلاک نے نائیجر میں آئینی بالادستی بحال کرنے کی خاطر ایک اسٹینڈ بائی فورس تیار کر لی ہے۔

Ghana Accra | ECOWAS Treffen
تصویر: Francis Kokoroko/REUTERS

مغربی افریقی ممالک کی اقتصادی تنظیم ایکوواس کے رکن ممالک کے فوجی سربراہان نے اتفاق کر لیا ہے کہ اگر نائیجر میں معزول صدر محمد بازوم کو بحال نہیں کیا جاتا تو اس افریقی بلاک کی مشترکہ افواج عسکری مداخلت کے لیے تیار ہیں۔

جمعے کے دن ایک اہم میٹنگ میں ان اعلیٰ فوجی افسران نے مشترکہ طور پر کہا کہ نائیجر میں سیاسی بحران کے حل کی خاطر ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔

اس میٹنگ کے بعد ایکوواس کے کمشنر برائے سیاست، امن اور سکیورٹی عبدالفتاح موسیٰ نے کہا کہ جب حکم ملے گا، اسٹینڈ بائی فورسز نائیجر میں داخل ہو جائیں گی تاکہ وہاں جمہوریت کی بحالی ممکن ہو سکے۔

تاہم انہوں نے واضح کہا کہ کسی عسکری مہم سے قبل یہ مسئلہ سفارت کاری اور مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

نائجر کا بحران، رضا کار شہری بھی فوج میں بھرتی ہونے لگے

نائیجر معاملہ: مغربی افریقہ ممالک کے فوجی سربراہان کی ملاقات

چھبیس جولائی کو نائیجر کی فوجی جنتا نے صدر محمد بازوم کا تختہ الٹ دیا تھا۔ معزول صدر پر 'غداری‘ کے الزامات ہیں اور خدشہ ہے کہ انہیں عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔ اس پیش رفت کے فوری بعد ہی مغربی افریقی ممالک کی اقصادی تنظیم ایکوواس نے اس بحران کے حل کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔

نائیجر کی فوجی جنتا مطالبات تسلیم نہیں کر رہی

نائیجر کی فوجی جنتا ابھی تک عالمی اور علاقائی مطالبات کو نظر انداز کرتی رہی ہے۔ ساتھ ہی ملکی فوج نے اپنی سرحدوں کی نگرانی زیادہ سخت کرتے ہوئے شہریوں کو بطور فوجی بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ کسی فوجی حملے کی صورت میں ملک کا کامیاب دفاع کیا جا سکے۔

سن 2020 کے بعد سے پندرہ اس پندرہ رکنی مغربی افریقی بلاک کے تین ممالک میں فوجی بغاوت ہو چکی ہے۔ ان میں مالی، برکینا فاسو اور گنی شامل ہیں۔ ان تین ممالک کے ساتھ ساتھ کیپ وردے نے نائیجر میں فوجی مداخلت لیے اپنی فورسز دینے سے انکار کر رکھا ہے۔

نائیجر: فوج نے فضائی حدود بند کر دیں

نائیجر کی نئی فوجی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، یورپی یونین

ایکوواس کی مشترکہ افواج سن 1990 سے لے کر اب تک متعدد ہنگامی حالات کے علاوہ سیرالیون اور لائبریا کی خانہ جنگیوں میں مداخلت کر چکی ہیں۔ ایکوواس کا ماننا ہے کہ افریقہ کی ترقی کی خاطر جمہورہت ناگزیر ہے، اس لیے  اس ریجن میں واقع ممالک میں فوجی حکومتوں کو ختم کرنے کی خاطر تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گی۔

افریقہ کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین نے بھی نائیجر میں فوجی بغاوت کی شدید مذمت کی ہے۔ جرمنی اور فرانس نے بھی کہا ہے کہ نائیجر کی فوجی جنتا کو صدر بازوم کی حکومت بحال کر دینا چاہیے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا بھی اصرار ہے کہ جنگی حالات سے بچتے ہوئے اس بحران کو سفارت کاری اور مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی جانا چاہیے۔

ع ب/ ع ت (خبر رساں ادارے)

نائیجر کی مسلح افواج نے منتخب صدر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا

02:40

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں