1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نارتھ لنک: جرمنی اور ناروے کے درمیان زیر سمندر پاور سپلائی کیبل

27 جون 2012

جرمنی کو اپنے ہاں زیادہ سے زیادہ حد تک ماحول دوست بجلی کی ترویج کے لیے مدد کی ضرورت تھی تاکہ اندرون ملک پیدا کی جانے والی بجلی بیرون ملک ذخیرہ کی جا سکے۔ اب اس بارے میں جرمنی کی مدد ناروے کرے گا۔

تصویر: AP

شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے تو دھوپ ضروری ہوتی ہے۔ لیکن جرمنی میں جب رات ہو جاتی ہے، ہوا بھی نہیں چل رہی ہوتی، تو بھی ہزار ہا جرمن گھرانے ایسے ہوتے ہیں جہاں روشنی بھی ہوتی ہے اور تمام برقی آلات بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس ماحول دوست توانائی کی بدولت ممکن ہوا ہے جسے ’اِیکو الیکٹرسٹی‘ کہتے ہیں اور جو ماضی میں تو ماحول پسندوں کا ایک خواب تھا مگر اب عرصہ ہوا حقیقت بن چکا ہے۔

جرمنی میں ماحول دوست توانائی کے استعمال کو مزید رواج دینے کے لیے جو کوششیں کی جا رہی ہیں، ان کا ایک حصہ وہ مجوزہ پاور سپلائی نظام بھی ہے جو ’نارتھ لنک‘ کہلاتا ہے۔ یہ سسٹم دراصل جرمنی اور ناروے کے درمیان قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جانے والی بجلی کی ترسیل کا نظام ہے۔ اس نارتھ لنک لائن کے ذریعے جرمنی سے ماحول دوست ذرائع سے پیدا کی جانے والی بجلی پہلے ناروے میں ذخیرہ کی جائے گی اور پھر بوقت ضرورت واپس جرمن صارفین کو مہیا کی جائے گی۔

جرمنی میں توانائی کے ماحول دوست ذرائع کے استعمال کو مزید رواج دینے کی کوششیں جاری ہیںتصویر: VRD - Fotolia

نارتھ لنک بحیرہء شمالی کی تہہ میں بچھائی جانے والی ایسی پاور سپلائی لائن ہے جس کی لمبائی 600 کلو میٹر کے قریب ہو گی اور جو سن 2018 سے جرمنی اور ناروے کے بجلی کی فراہمی کے نیٹ ورکس کو آپس میں جوڑ دے گی۔ اس زیر سمندر کیبل کے ذریعے جنوبی ناروے اور شمالی جرمنی کے درمیان کسی بھی سمت میں 1400 میگا واٹ تک بجلی کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

یہ بہت منفرد پلان کئی سالوں سے منصوبہ بندی کے مرحلے میں تھا لیکن مسئلہ اس کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کا تھا۔ اب ایک ایسا ماڈل تیار کر لیا گیا ہے جس پر اس منصوبے میں شامل تمام فریق متفق ہیں۔ اس پروجیکٹ پر دو بلین یورو تک کی لاگت آئے گی۔ اس کا نصف حصہ ناروے میں سرکاری انتظام میں کام کرنے والے بجلی کی فراہمی کے ادارے Statnett کی طرف سے فراہم کیا جائے گا۔ ایک چوتھائی رقم ہالینڈ کی پاور کمپنی Tennet ادا کرے گی اور بقیہ 25 فیصد جرمنی میں سرکاری انتظام میں کام کرنے والے ادارے KfW کی طرف سے فراہم کیا جائے گا جو تعمیر نو کے مقاصد کے لیے قرضے فراہم کرنے والا وفاقی جرمن ادارہ ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ہالینڈ اور ناروے کے درمیان بجلی کی ترسیل کی ایسی ایک لائن پہلے ہی سے موجود ہے۔ اور اگر سارا کام منصوبے کے مطابق وقت پر مکمل ہو گیا تو آج سے چھ سال بعد اس منصوبے میں جرمنی بھی شامل ہو جائے گا اور نارتھ لنک کے ذریعے جرمن صارفین کو ماحول دوست بجلی کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔

اس منصوبے سے متعلق معاہدوں پر حتمی دستخط اس سال ستمبر میں کر دیے جائیں گے۔

D. Kaufmann , mm / shs

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں