1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تاريخجاپان

نان کنگ اور کمفرٹ وومنز: جاپانی تاریخ کے تاریک پہلو

8 فروری 2026

تاریخ میں بعض قومیں اپنے جرائم سے انکاری رہتی ہیں اور جاپان اس کی مثال ہے۔ ترقی کے باوجود نان کنگ قتل عام اور کوریا کی کمفرٹ وومنز جیسے جرائم چھپائے گئے۔ اس انکار اور اس کے اثرات کے بارے میں ڈاکٹر مبارک کی تحریر۔

"Trostfrauen" der japanischen Armee im 2. Weltkrieg
تصویر: CPA Media/picture alliance

ابتدائی تاریخ میں جاپان نسبتاً ایک ایسا چھوٹا ملک تھا، جو تہذیبی ارتقا کے ابتدائی مراحل سے گزر رہا تھا۔ اس کے مقابلے میں اس کا ہمسایہ ملک چین نہ صرف وسیع و عریض تھا بلکہ تہذیبی طور پر ترقی یافتہ بھی تھا۔ اس مرحلے پر جاپانی رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا کہ چین کی تہذیب سے سیکھنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے عالموں اور طلبہ کو چین بھیجنا شروع کیا تاکہ وہ وہاں کے علم و ادب، تاریخ اور ٹیکنالوجی کو سیکھ کر جاپانی معاشرے کو ترقی یافتہ بنا سکیں۔ مثلاً جاپانی رسم الخط کانجی انہوں نے چین سے سیکھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب قوموں میں علم و دانش کی کمی ہو تو اسے غیر ملکیوں کی مدد سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

1868 میں جب فیوڈل نظام کا خاتمہ ہوا تو "میجی" (Meiji) کے نام سے اصلاحات شروع ہوئیں۔ اسے جاپان میں جدیدیت کا دور کہا جاتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ اور یورپ اپنے عروج پر تھے۔ ایشیا اور افریقہ کے ممالک اپنی طاقت کھو چکے تھے۔ چین کو یورپی ملکوں نے لوٹ کر اجاڑ دیا تھا۔ ایشیا کے بہت سے ممالک بھی یورپ کے تسلط میں تھے۔ ان حالات میں جاپانی رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ انہیں امریکہ اور یورپ سے سیکھنا چاہیے تاکہ وہ وہاں کے اداروں اور نظام حکومت کو اختیار کر کے ترقی کر سکیں۔ ان دونوں واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سے سیکھنا وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔

جب قوموں میں علم و دانش کی کمی ہو تو اسے غیر ملکیوں کی مدد سے حاصل کیا جا سکتا ہے, ڈاکٹر مبارکتصویر: privat

جاپان نے امریکہ اور یورپ میں اپنے سکالر اور طلبہ کی بڑی تعداد بھیجی تاکہ وہ وہاں کے معاشروں اور تہذیب کو سمجھ کر واپس جا کر جاپان میں منتقل کریں۔ جاپانیوں نے وہاں سے جمہوری اداروں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں، ٹیکنالوجی اور صنعت میں مہارت حاصل کی اور نئے ادب و سماجی علوم کو جاپان میں متعارف کرایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان نے دوسری تہذیبوں سے سیکھ کر تیزی سے ترقی کی اور اپنی فوجی طاقت کو بھی مضبوط بنایا۔ چنانچہ 1905 میں جاپان نے روس کو بحری جنگ میں شکست دی۔ یہ پہلا ایشیائی ملک تھا جس نے یورپ کے کسی بڑے ملک کو جنگ میں شکست دے کر عالمی دنیا کو حیران کر دیا۔

جاپان یورپی سامراجی طرز حکومت سے بھی متاثر تھا اور اس کی خواہش تھی کہ وہ ایک وسیع و عریض ایمپائر قائم کرے۔ فوجی طاقت اور صنعتی ترقی نے اس میں سامراجی عزائم کو پیدا کیا۔ اس نے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک، جن میں کوریا، ویتنام، فلپائن، کمبوڈیا وغیرہ شامل تھے، کو اپنی کالونیز بنانے کا منصوبہ بنایا۔ ابتدا جاپان نے چین میں منچوریا پر حملہ کر کے 1931 میں کی لیکن مکمل حملہ 1937 میں چین پر کیا۔ اس وقت چین اپنے دفاع کے قابل نہیں تھا، اس لیے جاپانی فوجوں نے چین کے شہروں میں لوٹ مار کی، شہریوں کا قتل عام کیا اور عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کی۔ خاص طور پر نان کنگ شہر میں شہریوں کا بے دردی کے ساتھ قتل عام کیا گیا، جن کی لاشیں فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر بکھری ہوئی تھیں۔ جاپانیوں کو چین سے نکالنے کے لیے کمیونسٹ اور نیشنلسٹ اکٹھے ہوئے اور جاپانی فوجیوں کو ملک سے نکالا۔

چین کے علاوہ جاپانیوں نے کوریا میں بھی بے انتہا ظلم و ستم کیے۔ کوریا کی عورتوں کو جاپانی فوجیوں کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ان عورتوں کو "کمفرٹ وومن" (Comfort Women) کہا جاتا تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد جو تاریخ لکھی گئی، اس میں جاپان کے مورخین نے اصل واقعات سے انکار کیا اور اپنی مرضی کی نصابی کتب اور تاریخ تیار کی۔ مثلاً کہیں بھی مورخین جاپان کو حملہ آور یا سامراجی نہیں کہتے بلکہ ان جنگوں کو یورپ کے خلاف ایک دفاعی اقدام قرار دیتے ہیں۔

کوریا کی کمفرٹ وومن کو جاپانی مورخین طوائفیں قرار دیتے ہیں جو اپنی آمدنی کے لیے فوجیوں کے پاس گئی تھیں۔ جاپانی نان کنگ کے شہریوں کے قتل عام سے بھی انکار کرتے ہیں حالانکہ ان مقتولوں کی تصاویر موجود ہیں۔ منچوریا اور چین کے دیگر علاقوں میں جہاں جاپانی فوج نے لوٹ مار اور قتل و جنسی استحصال کیا، اس سے بھی انکار کیا جاتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپانی اور جنوب مشرقی ایشیا کے مورخین نے جاپانی جرائم کی تفصیلات پیش کیں، جن میں ان عورتوں کے انٹرویوز بھی شامل تھے جو کمفرٹ وومن کہلاتی تھیں۔ جاپان نے ان تمام تاریخی حقائق سے انکار کیا۔ نصابی کتابوں میں جاپانی فوج کی بہادری اور قومی برتری دکھائی گئی، جبکہ ان جرائم کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں