1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نشے کی عادت زندگی تباہ کیسے کرتی ہے؟

عاطف بلوچ ایلزبتھ شو، ایڈتھ کیمانی، کرسپن میکائڈو
31 جولائی 2022

افریقہ میں نوجوان نسل میں منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سن 2030 تک نشے کرنے والے افریقی نوجوانوں کی تعداد ڈرامائی حد تک بڑھ جائے گی۔ پاکستان میں البتہ منشیات کے استعمال میں معمولی سے کمی ہوئی ہے۔

Drogenmissbrauch | afroamerikanischer Mann und Weißer teilen sich dieselbe Spritze
تصویر: diego.cervo/Panthermedia/IMAGO

کینیا کے ساحلی شہر ملیندی میں واقع آسیہ بیانکا کا گھر کوئی عام رہائش گاہ نہیں۔ جب آپ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں ایک عجیب اور خوفزدہ کر دینے والا سماں دیکھنے کو ملتا ہے۔

ایک نوزائندہ بچے کے جوتوں میں بجھائے گئے سگریٹوں کا انبار اور ہر شے بے ترتیب۔ آسیہ اور اس کے شوہر دونوں ہی ہیروئن کے عادی ہیں۔ ان کی بیٹی چھ ماہ کی تھی جب وہ ہلاک ہو گئی تھی۔

آسیہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب ہم بستر پر گئے تو ہماری بیٹی بالکل ٹھیک تھی۔ لیکن جب ہم نیند سے بیدار ہوئے تو دیکھا کہ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے۔ میں خوفزدہ ہو گئی کہ کہیں ہیروئن کے نشے میں ہم نے اس کے منہ پر ہاتھ یا پیر تو نہیں رکھ دیا، جس کے باعث اس کی سانس گھٹ گئی۔‘‘

اگرچہ ڈاکٹر نے آسیہ کے اس خیال کو غلط قرار دے دیا لیکن وہ ابھی تک ایک احساس جرم میں مبتلا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کی ہلاکت کا ذمہ دار خود ہی کو قرار دیتی ہے۔ بیس سالہ آسیہ اور اس کے خاوند ملیندی کے ان تین ہزار افراد میں شامل ہیں، جو باقاعدگی سے ہیروئن کا نشہ کرتے ہیں۔

آسیہ کا کہنا ہے کہ اسے نشے کی لت دراصل اس کے سابق بوائے فرینڈ سے لگی، جس نے غیر محسوس طریقے سے اسے اس نشے کا عادی بنایا۔ آسیہ کے بقول جب اسے احساس ہوا تو دیر ہو چکی تھی اور اب وہ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

نشہ آور مواد کا استعمال کیا ہے؟

اقوام متحدہ کے مطابق نفسیاتی سکون کے لیے استعمال جانے والے مضر صحت اور خطرناک مواد کا استعمال نشے میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں الکوحل کے ساتھ ساتھ  ہیروئن، کوکین اور دیگر غیر قانونی نشہ آور مواد بھی شامل ہے۔

 نشے کے عادی افراد کی صحت تو خراب ہو ہی جاتی ہے لیکن ساتھ میں انہیں سماجی سطح پر بھی انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنی معمول کی زندگی سے کٹ جاتے ہیں اور کام کاج کے قابل بھی نہیں رہتے۔ اس طرح وہ مالی مشکلات کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

نشہ آور مواد کے عادی افراد رشتوں کی پیچیدگیوں کا شکار بھی ہو جاتے ہیں اور ان کے اپنے گھر والے، دوست، بیوی اور بچے بھی انہیں چھوڑ سکتے ہیں۔

ملیندی میں نشے کے عادی ایک اور شخص یاسر عبداللہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے، ''حکومت ہمیں بھول چکی ہے۔ ہم بے گھر ہو چکے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ بس ہم نشے کے عادی افراد ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سن 2030 تک افریقہ میں نشہ کے عادی افراد کی تعداد میں چالیس فیصد اضافہ ممکن ہے۔

براعظم افریقہ میں نشے کے عادی افراد کو سماجی تعصب کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جبکہ ان کی مدد کرنے والے اداروں کا بھی فقدان ہے۔ اس لیے ایک مرتبہ نشے کا عادی ہونے والا شخص واپس معمول کی زندگی کی طرف نہیں لوٹ سکتا۔ حالانکہ ایسے افراد کا علاج ممکن ہوتا ہے۔

رچرڈ اوپئر نشے کے عادی تھے، جو اب یہ عادت ترک کر کے ایک خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ گھانا کے دارالحکومت عکرہ کے رہائشی رچرڈ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''نشے کے عادی افراد کو خصوصی ٹریٹمنٹ اور توجہ درکار ہوتی ہے۔‘‘

رچرڈ اب نشہ کے عادی افراد کے علاج اور انہیں ایک بہتر زندگی گزارنے کر گر بتانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کا ادارہ کئی افراد کو نشے سے نکال چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عادی افراد کو قائل کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر ان کی ہمت بندھا دی جائے تو وہ اس دلدل سے باہر آ سکتے ہیں۔‘‘

پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کم ہوئے

عالمی سطح پر اگرچہ منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے تاہم پاکستان میں اس حوالے سے بہتری کے کچھ آثار دیکھائی دیے ہیں۔ 26 جون کو منائے جانے والے انسداد منشیات اور اسمگلنگ کی روم تھام کے عالمی دن کے موقع پر نارکوٹکس کنٹرول منسٹری کے جوائنٹ سیکرٹری سبینو سکندر جلال نے ریڈیو پاکستان سے گفتگو میں کہا کہ حکومتی کوششوں کی وجہ سے پاکستان میں منشیات کے استعمال میں کمی ہوئی ہے۔

افغانستان سے منشیات پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی

03:09

This browser does not support the video element.

جلال نے کہا کہ بالخصوص آج کل انٹر نیٹ کے دور میں مختلف آن لائن پلیٹ فارم مشنیات فروخت کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، اس لیے نے اس کی مانیٹرنگ شروع کی ہے۔ اس کے علاوہ سرحدوں کی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور عوامی آگاہی بھی پھیلائی جا رہی ہے۔

جلال کے بقول انہی کوششوں کی وجہ سے سن 2013 کے مقابلے میں رواں برس منشیات کے استعمال میں دو فیصد کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں تقریبا 9 ملین افراد منشیات کا استعمال کر رہے ہیں، جو مجموعی آبادی کا چار فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے ساٹھ فیصد نشے کے عادی ہیں جبکہ چالیس فیصد ان ممنوعہ اور غیر قانونی منشیات کا کبھی کبھی استعمال کرتے ہیں۔

کووڈ انیس اور نشہ آور مواد کا استعمال

ماہرین کا کہنا ہے کہ کووڈ انیس کی عالمی وبا، بے روزگاری، مہنگائی اور روشن مستقبل کے کم امکانات نے لوگوں کو نشہ آور مواد کی طرف راغب کرنے میں نمایاں کردار کیا ہے۔ لوگ پریشانیوں اور مشکلات سے چھٹکارہ پانے کی خاطر بھی نشے کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس طرح ان کی مشکلات اور پریشانیاں دوچند ہو جاتی ہیں۔

ملیندی کے ایک رضا کار اپونسے میانا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جب کووڈ انیس لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکول بھی بند کر دیے گئے تھے تو اس دورانیے میں منشیات لینے والے بچوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہو گیا تھا۔

میانا اور دیگر کارکنان کا کہنا ہے کہ کینیا کے ساحلی شہر ملیندی میں قوانین بھی انتہائی سخت ہیں۔ اگر کسی کے پاس سے تھوڑی مقدار میں بھی ہیروئن یا کوکین برآمد ہو جائے تو اسے پندرہ سال کی قید سنائی جا سکتی ہے۔

میانا کے بقول قانون نافذ کرنے والے اہلکار اصل مجرموں کو پکڑنے کے بجائے ان سخت قوانین کی وجہ سے لوگوں سے رقوم بھی بٹورتے ہیں کیونکہ اگر کوئی پکڑا جائے تو وہ لمبی سزا کے بجائے کچھ پیسے دے کر جان چھڑانے کی کوشش ہی کرتا ہے۔

اس صورتحال میں نشے کی عادی آسیہ کا واحد سہارا اس کا خاوند ہی ہے، جو خود بھی نشے کی لت میں مبتلا ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی حکومتی ایکشن نہ لیا گیا تو یہ ایک دوسرے کو بھلا کب تک سنبھال سکیں گے؟

طالبان نے پوست کی کاشت پر پابندی کا نفاذ شروع کر دیا

02:18

This browser does not support the video element.

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں