1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کتنے جہاز میزائلوں کے ذریعے مار گرائے گئے؟

11 جنوری 2020

ایران نے ہفتے کے روز اعتراف کیا ہے کہ اس کی فوج نے ’غیر ارادی‘ طور پر یوکرائنی مسافر بردار طیارہ مار گیا۔ اس سے صرف ایک روز قبل ایرانی سول ایوی ایشن محکمے کے سربراہ نے ایسے الزامات کو رد کیا تھا۔

Iran Ukrainisches Passagierflugzeug nahe Teheran abgestürzt
تصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Nasiri

بدھ کے روز یوکرائن کے بوئنگ جہاز کی تباہی کے نتیجے میں 176 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے سے کچھ ہی دیر قبل ایران نے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں مسافر بردار جہازوں کے مار گرائے جانے والے دیگر واقعات پر ایک نظر:

14 جولائی 2014 کو ملائیشین ایئرویز کی پرواز MH17 کو مشرقی یوکرائن میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقے کی فضائی حدود سے گزرے ہوئے مار گرایا گیا۔ یہ جہاز ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور کے راستے پر تھا۔ اس بوئنگ 777 جہاز پر 298 افراد سوار تھے، جن میں بڑی تعداد ڈچ باشندوں کی تھی۔ کییف حکام اور علیحدگی پسند باغیوں کی جانب سے اس جہاز کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے الزامات ایک دوسرے پر عائد کیے گئے تھے۔

یوکرائنی مسافر جہاز غیر ارادی طور پر مارا گیا، ایرانی فوج

روسی جیٹ تباہ، اکتالیس ہلاک

23 مارچ 2007 کو بیلاروس ایئرلائن کا ایک اِلیوشن ٹو سیونٹی سکس (Ilyushin Il-76) کارگو جہاز صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے پرواز کے فوراﹰ بعد مار گرایا گیا۔ اس واقعے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ جہاز بیلاروس کے ان انجینیئرز اور ٹیکنیشنز کو لے کر وطن واپس آ رہا تھا، جو اس واقعے سے صرف دو ہفتے قبل ایک میزائل کا نشانہ بننے والے جہاز کی مرمت کے لیے موغادیشو بھیجے گئے تھے۔

چار اکتوبر 2001 کو سربیا ایئرلائنز کا ٹوپولیف ٹی یو 154 طیارہ تل ابیب سے نووسِبرسک جاتے ہوئے فضا میں پھٹ کر تباہ ہو گیا۔ یہ کریش کریمیا کے ساحل سے تین سو کلومیٹر سے بھی کم دوری پر پیش آیا۔ ایک ہفتے بعد کییف حکام نے اعتراف کیا کہ یہ جہاز غلطی سے فائر کیے گئے یوکرائنی میزائل کے نتیجے میں تباہ ہوا۔ اس واقعے میں جہاز پر سوار تمام 78 افراد مارے گئے، جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے۔

ایک مسافر بردار جہاز کی تباہی

01:01

This browser does not support the video element.

3 جولائی 1988 کو ایران ایئر کی ایئر بس اے 300 بندرعباس سے دبئی کی جانب جا رہی تھی، جب اسے ایرانی سمندری حدود کی فضا میں دو امریکی میزائلوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ یہ میزائل  آبنائے ہرمز میں گشت کرتے ہوئے امریکی بحری جہاز سے فائر کیے گئے۔ اس مسافر طیارے کی تباہی غالباﹰ اسے لڑاکا طیارہ سمجھ کر نشانہ بنانے کا نتیجہ تھی۔ اس واقعے میں جہاز پر سوار تمام 290 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس پر امریکا نے ایران کو ایک سو ایک اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر ہرجانہ ادا کیا تھا۔

یکم ستمبر 1983 کو کورین ایئر کے ایک بوئنگ سیون فور سیون جہاز کو سوویت لڑاکا طیاروں نے ساخلِن جزیرے کے اوپر دوران پرواز مار گرایا۔ اس جہاز پر سوار تمام 269 افراد اس واقعے میں ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے پانچ روز بعد سوویت حکام نے تسلیم کیا کہ انہوں نے جنوبی کوریا کا جہاز مار گرایا ہے۔

21 فروری 1973 کو لیبین عرب ایئرلائن کا بوئنگ سیون ٹو سیون جہاز طرابلس سے قاہرہ کے راستے پر تھا، جب اسے سینائی کے صحرا میں اسرائیلی طیاروں نے مار گرایا۔ اس وقت سینائی کا علاقہ اسرائیلی قبضے میں تھا اور جہاز کو سینائی میں ایک اسرائیلی عسکری تنصیب کے اوپر سے گزرتے ہوئے تباہ کیا گیا۔ اس واقعے میں جہاز پر سوار 112 میں سے صرف چار افراد زندہ بچے تھے۔

ع ت، ا ب ا (روئٹرز، اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں