نولینڈ کے ریمارکس پر کوئی تبصرہ نہیں، یورپی یونین
8 فروری 2014
جمعرات کے روز منظر عام پر آنے والی اس ٹیپ کو نولینڈ کی تصویر کے ساتھ ویڈیو کی شکل میں کسی نے یوٹیوب پر جاری کر دیا تھا۔ مبینہ طور پر نولینڈ اور یوکرائن میں متعین امریکی سفیر کی اس گفتگو میں نولینڈ کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’یورپی یونین بھاڑ میں جائے۔‘
یورپی یونین کے امور خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کی ایک ترجمان کے مطابق، ’ہم منظرعام پر آنے والی اس مبینہ ٹیلی فونک بات چیت پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس ترجمان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین یوکرائن میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے یوکرائن کی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم اس ترجمان نے اس ٹیلی فونک گفتگو کی بابت مزید بات چیت سے انکار کر دیا۔ کیتھرین ایشٹن کی اس ترجمان نے دیگر یورپی عہدیداروں کی طرح زور دیا کہ یورپی یونین اتحادیوں اور بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر یوکرائن کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔
جمعے کے روز یوکرائن کے دارالحکومت کییف میں موجود نولینڈ نے بھی اس ٹیپ کی صحت سے متعلق کوئی بات کرنے سے گریز کیا۔ ادھر امریکی وزارت خارجہ نے نولینڈ کی اس ٹیپ کے منظر عام پر آنے کے بعد یورپی یونین سے معذرت کی ہے۔ گزشتہ روز امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ یہ نہیں جانتی کہ یہ ٹیپ کس طرح اور کیوں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی، تاہم نولینڈ نے اپنے یورپی ساتھیوں سے معذرت طلب کی ہے اور وہ ان سے رابطے میں ہیں۔ امریکی حکام اس ٹیپ کو منظرعام پر لانے کی ذمہ داری ماسکو حکومت پر عائد کر رہے ہیں۔ امریکا کا موقف ہے کہ ماسکو حکومت امریکی سفارت کاروں کی ٹیلی فون کالز ریکارڈ کر رہی ہے۔
ادھر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے نولینڈ کی جانب سے یورپی یونین کے لیے ان غیرشائستہ الفاظ کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا گیا ہے۔ انگیلا میرکل نے ایک مرتبہ پھر یوکرائن کے سیاسی بحران کے حل کے لیے کیتھرین ایشٹن اور یورپی یونین کی کوششوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں غیرمعمولی سرگرمی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔