نو منتخب چینی صدر کا دورہء روس
20 مارچ 2013
گذشتہ ہفتے چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس میں شی جِن پِنگ نے باقاعدہ طور پر ملکی صدر کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ انہیں چار ماہ قبل حکمران کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر چُنا گیا تھا۔ 59 سالہ شی جِن پنگ جمعے کے روز اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کے لیے ماسکو روانہ ہوں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان وسیع تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ چین دنیا میں توانائی کا سب سے بڑا صارف ہے جبکہ روس، جو روئے ارض پر تیل پیدا کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے، چین کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے۔
اقوام متحدہ میں بھی دونوں ممالک مختلف معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ شی جِن پنگ نے روانگی سے قبل ہی روس کو ’’ہمارا دوست پڑوسی‘‘ قرار دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے نزدیک اس دورے کی کیا اہمیت ہے۔ عالمی مبصرین چینی صدر کے موجودہ دورہء روس کو توانائی کی تلاش کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔
چینی نائب وزیر خارجہ چیانگ گاؤ پنگ نے بدھ کو کہا تھا، ’دونوں ممالک ایک دوسرےکی ترقی اور بحالی کے لئے مصروف عمل ہیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’دنیا کے حالات غیر مستحکم ہیں، غلبہ حاصل کرنے کی کوششیں، اقتدار کی سیاست اور مختلف خطوں میں نئی مسلح مداخلتیں عروج پر ہیں‘۔
دور حاضر میں بیجنگ اور ماسکو کے درمیان تعلقات کی بنیاد مشترکہ کمیونسٹ نظریہ ہے۔ ساٹھ کی دہائی کی ابتدا میں چین اور اس وقت کے سوویت یونین کے راستے جدا جدا ہو گئے تھے لیکن سوویت یونین کے خاتمے کے فوری بعد یہ تعلقات دوبارہ بہتری کی جانب آنا شروع ہو گئے۔
شی جِن پِنگ کے پیش رو ہو جن تاؤ نے بھی اپنے دور اقتدار کا پہلا غیر ملکی دورہ روس کا ہی کیا تھا۔ اس دوران چینی اور روسی صدور نے ایک بڑے تجارتی میلے کا افتتاح بھی کیا تھا۔ ہو جن تاؤ نے میزبان ملک کے ساتھ ریل کے ذریعے چین کو تیل کی سپلائی سے متعلق ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔
گذشتہ دو سال کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین اور روس ان تمام قراردادوں کو ویٹو کرتے رہےہیں، جو شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف پابندیوں کو متعارف کرانے کے لیے پیش کی جاتی رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا تنازعہ ہے، جس نے شام کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران پر لگنے والی پابندیوں کے خلاف بھی دونوں ممالک ہم خیال ہیں۔ دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم اور نئی ابھرتی ہوئی عالمی معیشتوں کی تنظیم برکس کے بھی رکن ہیں۔
ماسکو میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران، پوٹن اور شی کے درمیان بہت سے معاہدوں پر دستخط ہوں گے لیکن اس حوالے سے تاحال کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
zb/aa(AFP)