نگراں بينکاری نظام کے ليے فريم ورک رواں سال کے اختتام تک
20 اکتوبر 2012
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق يورو زون کے ليے ايک مشترکہ نگراں بينکاری نظام کے قيام کے ليے رواں سال کے اختتام تک سياسی اور قانونی فريم ورک مکمل کر ليا جائے گا۔ يونين کے ستائيس رکن ممالک کے اس فيصلے کے بعد اب يورو زون کے سترہ رکن ممالک کے وزراء خزانہ اس سلسلے ميں قانونی فريم ورک پر کام کريں گے تاکہ اگلے سال کے دوران اس نظام کو متعارف کروايا جا سکے۔ يورو زون کے ليے اس بينکاری نظام کے قيام کے بعد زون ميں شامل ملکوں کے ان بينکوں کو جو مالی مشکلات کا شکار ہوں گے، يہ نگراں ادارہ براہ راست طور پر يورپی يونين کے بيل آؤٹ فنڈ سے امداد جاری کر سکے گا۔
ڈی پی اے کے مطابق يہ بات کافی اہميت کی حامل ہے کہ يہ نظام کب تک عمل ميں آئے گا۔ دوسری جانب ابھی يہ طے کرنا بھی باقی ہے کہ نگراں نظام ميں يورو زون کے سترہ رکن ممالک ميں اختيارات کس طرح تقسيم کيے جائيں گے۔ اس کے علاوہ منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار اور ’حد‘ بھی ابھی طے ہونا باقی ہے۔
ايک اور خبر رساں ادارے اے ايف پی کی ايک رپورٹ کے مطابق مشترکہ نگراں بينکاری نظام کے ذريعے مشکلات کے شکار بينکوں کی امداد کے منصوبے کی ماليت 120 بلين ڈالر ہے اور اس کا مقصد اقتصادی مسائل کے شکار بينکوں اور ممالک کی مدد کرنا ہے۔ اسی دوران مشکلات ميں گھرے يورپی ملکوں اسپين اور يونان ميں اقتصادی مسائل کی وجہ سے سياسی اور سماجی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔
دريں اثناء جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے برسلز ميں يورپی يونين کے اجلاس کے بعد رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے يورو زون کی اس تجويز کو رد کر ديا جس کے تحت ہسپانوی بينکوں کے پرانے قرضوں ميں رد و بدل کا مطالبہ کيا گيا تھا۔ ميرکل کا کہنا تھا کہ ايسا مستقبل ميں ہی ممکن ہو گا جب نگراں بينکاری نظام کا قيام ہو چکا ہوگا۔ اس کے برعکس فرانس کی خواہش ہے کہ اسپين کو اب قرضوں کی فراہمی ’يورپين اسٹيبيليٹی مکينيزم‘ کے ريسکيو فنڈز کے تحت ہو تاکہ ہسپانوی حکومت پر قرضوں کا حجم مزيد نہ بڑھے۔ جرمنی اور فرانس کے سربراہان کے درميان اس معاملے پر اختلاف رائے پايا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ جرمنی کے ساتھ ساتھ فن لينڈ اور ہالينڈ بھی ہسپانوی بينکوں کے ليے فوری طور پر direct recapitalisation کے حق ميں نہيں ہيں۔
البتہ اس پيش رفت پر ہسپانوی وزير اعظم ماريانو راخوئے نے اطمينان کا اظہار کيا اور کہا کہ وہ خوش ہيں کہ اس سہولت پر پيش رفت ہوئی ہے جس کے تحت بينکوں کا بحران حکومتوں پر بوجھ نہيں بنے گا۔
as / ng (dpa, AFP)