1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نیتن یاہو بالآخر حکومت سازی میں کامیاب

دانیئلا چَیسلو / مقبول ملک7 مئی 2015

وزیر اعظم نیتن یاہو نے عین آخری وقت پر انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ نئی حکومت سازی پر اتفاق کر کے اپنے اقتدار کے تسلسل کو یقینی بنا لیا ہے جسے بائیں بازو کی اسرائیلی جماعتوں نے نیتن یاہو کی ناکامی قرار دیا ہے۔

Benjamin Netanjahu und Naftali Bennett
نئے اتحادی: نفتالی بَینیٹ، دائیں، اور بینجمن نیتن یاہوتصویر: Reuters/B. Ratner

اس بارے میں تل ابیب سے ڈوئچے ویلے کی خاتون نامہ نگار دانیئلا چَیسلو نے اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ بدھ کو رات گئے اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی چند سیاسی جماعتوں نے بینجمن نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کر کے موجودہ وزیر اعظم کو کنیسٹ کہلانے والی ملکی پارلیمان میں وہ لازمی اکثریت مہیا کر دی، جو نیتن یاہو کو آئندہ بھی اقتدار میں رہنے کے لیے لازمی طور پر درکار تھی۔

نئی اسرائیلی حکومت کو 120 رکنی پارلیمان میں 61 ارکان کی حمایت حاصل ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیتن یاہو نے صرف وہ کم سے کم ہدف حاصل کیا ہے، جو نئی حکومت سازی کے لیے لازمی تھا، محض ایک ووٹ کی اکثریت۔ نئی حکومت میں شامل جماعتوں کو دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک کی نئی منتخب قیادت ممکنہ طور پر آئندہ بھی اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی ملک امریکا کے ساتھ تصادم کے راستے پر ہی گامزن رہے گی اور ان اصلاحات کے حوالے سے بھی غالباﹰ واپسی کا سفر شروع ہو جائے گا، جن کے تحت الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کے اختیارات کو محدود کر دیا گیا تھا۔

نئی حکومت سازی کے لیے بینجمن نیتن یاہو کو جو وقت دیا گیا تھا، وہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات بارہ بجے ختم ہونا تھا اور نیتن یاہو اس مدت کے پورا ہونے سے محض ایک گھنٹہ پہلے اپنی اگلی حکومت کے لیے انتہائی دائیں بازو کی تین سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اپنی اس سیاسی کامیابی کے لیے نیتن یاہو فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاری کی حامی جماعت ’جِیُوئش ہوم پارٹی‘ کو وزارت انصاف کا قلمدان دینے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے علاوہ یہودی مذہبی جماعتوں ’شاس‘ اور ’یونائیٹڈ ٹورہ جُوڈاازم‘ یا ’متحدہ توریتی یہودیت‘ کی نئی مخلوط حکومت میں شمولیت کی شرط یہ تھی کہ بینجمن نیتن یاہو وہ تمام اصلاحاتی فیصلے منسوخ کر دیں گے جو گزشتہ حکومت نے مذہبی طور پر انتہائی قدامت پسند یہودی آبادی کے بارے میں کیے تھے۔

’حکومت سازی کی کوششوں میں فلسطینی ریاست کا قیام کوئی موضوع ہی نہیں تھا‘تصویر: picture-alliance/dpa/A. Al Haslhamoun

مارچ کے مہینے میں ہونے والے اسرائیلی عام انتخابات میں نیتن یاہو کی پارٹی کو جو کامیابی ملی تھی، نئی حکومت سازی کے لیے کی جانے والی ان کی کوششیں اس کے بالکل برعکس تھیں۔ ملکی صدر کی طرف سے حکومت سازی کی دعوت ملنے کے بعد طویل عرصے تک کی جانے والی سیاسی کوششیں، مخلوط حکومت کو حاصل پارلیمانی اکثریت کی یقین دہانی اس مدت کے پورا ہونے سے صرف ایک گھنٹہ پہلے اور کنیسٹ میں یہ اکثریت صرف ایک ووٹ کی۔

نئی کثیرالجماعتی مخلوط حکومت کے قیام پر اتفاق ہو جانے کے بعد بہت تھکے ہوئے بینجمن نیتن یاہو نے آدھی رات کے وقت ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جو پارلیمانی اکثریت ملی ہے، وہ انتہائی معمولی ہے لیکن آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں وہ اس اکثریت میں اضافے کی کاوشیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’120 میں سے 61 ایک اچھا عدد ہے۔ لیکن 61 سے بڑا کوئی بھی دوسرا عدد اس سے بھی بہتر ہو گا۔ آغاز کے لیے 61 کا ہدف لازمی تھا۔ ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس کرنے کو بہت سے کام ہیں۔‘‘

فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار

انتہائی دائیں بازو کی اسرائیلی جماعت ’یہودی وطن پارٹی‘ کے رہنما نفتالی بَینیٹ ایک شاطر سیاستدان ہیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے لیے وزارت تعلیم اور وزارت انصاف کے قلمدان مانگے تھے۔ ملکی کابینہ میں اِس نمائندگی کے ساتھ اب انہیں اسرائیل کی اُس سات رکنی سکیورٹی کابینہ میں ممکنہ طور پر دو نشستیں حاصل ہوں گی، جو جنگ اور امن سے متعلق ہر قسم کے فیصلے کرتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ بَینیٹ مغربی کنارے کے کئی حصوں کے باقاعدہ طور پر اسرائیل میں شامل کیے جانے کی وکالت اور ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

اسرائیل میں ہر دسواں یہودی الٹرا آرتھوڈوکس مذہبی عقیدے کا حامل ہےتصویر: picture alliance/dpa

الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کا اضافی اثر و رسوخ

معروف سیاسی تجزیہ کار تال شنائیڈر کہتے ہیں کہ اسرائیل میں نئی حکومت سازی کی کوششوں میں خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملہ قطعی طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ داخلی طور پر نئی ملکی حکومت الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کے اثر و رسوخ میں واضح اضافے کا اعلان بھی ہے۔

اسرائیل میں ہر دس میں سے ایک یہودی اسی طرح کی مذہبی سوچ کا حامل ہے۔ اب نیتن یاہو ہی کی گزشتہ حکومت کے وہ فیصلے زیادہ تر منسوخ کر دیے جائیں گے، جن کا مقصد مذہبی احکامات پر سختی سے عمل کرنے والے الٹرا آرتھوڈوکس یہودی شہریوں کی فوج میں بھرتی اور روزگار کی منڈی میں شمولیت کو یقینی بنانا تھا۔

بینجمن نیتن یاہو نے اپنی نئی مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کی فہرست ملکی صدر کو بھجوا چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ نئی اسرائیلی حکومت کی حلف برداری اگلے ہفتے ہو گی۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں