نیتن یاہو پر بدعنوانی کا مقدمہ، اتوار کو سماعت دوبارہ شروع
10 اپریل 2026
یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا، ''عدالتی نظام کی بحالی ‘‘ کے بعد نیتن یاہو کے مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ سماعت کا آغاز اتوار کو ہو گا۔
اسرائیل میں عدالتی سرگرمیاں جنگ کے باعث متاثر ہو گئی تھیں، تاہم فوج کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد ملک کے بیشتر حصوں میں سرگرمیوں کی بحالی کی منظوری دے دی۔
نیتن یاہو پر تین مقدمات میں الزامات عائد ہیں۔ دو میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی میڈیا اداروں سے مثبت کوریج حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر سودے بازی کی جبکہ تیسرے مقدمے میں الزام ہے کہ انہوں نے ارب پتی شخصیات سے سیاسی فوائد کے بدلے 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے قیمتی تحائف قبول کیے۔ چوتھا بدعنوانی کا ایک اور الزام پہلے ہی خارج کیا جا چکا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے الزامات کی تردید
نیتن یاہو اسرائیل کے پہلے برسر اقتدار وزیر اعظم ہیں جن پر باضابطہ طور پر فوجداری مقدمہ چل رہا ہے۔ انہوں نے رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد کے غلط استعمال کے الزامات کی تردید کی ہے۔ یہ الزامات 2019 میں برسوں کی تحقیقات کے بعد عائد کیے گئے تھے۔ نیتن یاہو طویل عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ، جو 2019 میں شروع ہوا تھا، دراصل ایک ''سیاسی مقدمہ‘‘ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں اسرائیلی پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ سے براہ راست اپیل کی تھی کہ وہ نیتن یاہو کو معافی دے دیں۔ اس تقریر کے بعد ٹرمپ نے صدر ہرزوگ کو ایک خط بھی بھیجا، جس میں نیتن یاہو کو معاف کرنے کی درخواست کی گئی تھی اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد نیتن یاہو کے وکلاء نے بھی باضابطہ طور پر معافی کی درخواست دائر کر دی۔
آئزک ہرزوگ کے دفتر کے مطابق وزارت انصاف کا محکمہ معافی سے متعلق رائے اکھٹی کرے گا اور معمول کے طریقہ کار کے مطابق ایک سفارش تیار کرے گا۔ عام طور پر ٹرائل کے دوران معافی نہیں دی جاتی۔
سرکاری مصروفیات کی وجہ سے اس مقدمے کی سماعت کئی بار مؤخر ہو چکی ہے اور اس کے اختتام کی کوئی واضح تاریخ بھی موجود نہیں ہے۔ جرم ثابت ہونے پر نیتن یاہو کو قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
اسرائیل میں اکتوبر میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اندازہ ہے کہ نیتن یاہو کا اتحاد ان انتخابات میں شکست کھا سکتا ہے۔یہ اتحاد اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومتوں میں شمار ہوتا ہے۔
ادارت: شکور رحیم