اسٹولٹن برگ نے کہا کہ امریکا مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے نہیں نکلے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اتحاد سے امریکا کے غیرمتوقع اخراج کی تیاری اس لیے نہیں کی جا رہی، کیوں کہ ایسی صورت میں دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ امریکا اس اتحاد سے نکل بھی سکتا ہے۔
ترکی کے لیے ’زندگی اور موت‘ کا مسئلہ بنے ایس۔400 میزائل کیا ہیں؟
ترکی کے خلاف امریکی پابندیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایردوآن
اسٹولٹن برگ کی جانب سے یہ بات نیوزی لینڈ کے دورے کے موقع پر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور نیوز روم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی گئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں نیٹو کے حوالے سے تمام قانون ساز متفق ہیں اور یورپ میں امریکا کی فوجی موجودگی اس عسکری اتحاد سے متعلق امریکا کے عزم کی عملی نشان دہی کرتی ہے۔
اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا، ''مضبوط نیٹو یورپ کے لیے بہت ضروری ہے، مگر یہ امریکا کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ اس میں امریکا کا بے حد فائدہ ہے کہ اس کے 28 دوست اتحادی ممالک موجود ہیں۔‘‘
رواں برس کے آغاز پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد نجی تقاریب میں یہ کہتے نظر آئے ہیں کہ امریکا مغربی دفاعی اتحاد سے نکلنا چاہتا ہے۔
نیٹو اتحادیوں اور روس کے مابین طاقت کا توازن کیا ہے؟ اس بارے میں ڈی ڈبلیو نے آئی آئی ایس ایس سمیت مختلف ذرائع سے اعداد و شمار جمع کیے ہیں۔ تفصیلات دیکھیے اس پکچر گیلری میں
تصویر: REUTERSروس کے پاس قریب اٹھارہ سو ایسے میزائل ہیں جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نیٹو اتحادیوں کے پاس مجموعی طور پر ایسے 2330 میزائل ہیں جن میں سے دو ہزار امریکا کی ملکیت ہیں۔
تصویر: picture-alliance/dpa/J. Lo Scalzoنیٹو اتحادیوں کے پاس مجموعی طور پر قریب پیتنس لاکھ فوجی ہیں جن میں سے ساڑھے سولہ لاکھ یورپی ممالک کی فوج میں، تین لاکھ بیاسی ہزار ترک اور قریب پونے چودہ لاکھ امریکی فوج کے اہلکار ہیں۔ اس کے مقابلے میں روسی فوج کی تعداد آٹھ لاکھ بنتی ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/PAP/T. Waszczukروسی ٹینکوں کی تعداد ساڑھے پندرہ ہزار ہے جب کہ نیٹو ممالک کے مجموعی ٹینکوں کی تعداد لگ بھگ بیس ہزار بنتی ہے۔ ان میں سے ڈھائی ہزار ترک اور چھ ہزار امریکی فوج کے ٹینک بھی شامل ہیں۔
تصویر: picture alliance/dpa/F. Kästleروس کے پاس بیک وقت کئی راکٹ فائر کرنے والے راکٹ لانچروں کی تعداد اڑتیس سو ہے جب کہ نیٹو کے پاس ایسے ہتھیاروں کی تعداد 3150 ہے ان میں سے 811 ترکی کی ملکیت ہیں۔
تصویر: Reuters/Alexei Chernyshevروسی جنگی ہیلی کاپٹروں کی تعداد 480 ہے جب کہ نیٹو اتحادیوں کے پاس تیرہ سو سے زائد جنگی ہیلی کاپٹر ہیں۔ ان میں سے قریب ایک ہزار امریکا کی ملکیت ہیں۔
تصویر: REUTERSنیٹو اتحادیوں کے بمبار طیاروں کی مجموعی تعداد چار ہزار سات سو کے قریب بنتی ہے۔ ان میں سے قریب اٹھائیس سو امریکا، سولہ سو نیٹو کے یورپی ارکان اور دو سو ترکی کے پاس ہیں۔ اس کے مقابلے میں روسی بمبار طیاروں کی تعداد چودہ سو ہے۔
تصویر: picture alliance/CPA Mediaروس کے لڑاکا طیاروں کی تعداد ساڑھے سات سو ہے جب کہ نیٹو کے اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں کی مجموعی تعداد قریب چار ہزار بنتی ہے۔ ان میں سے تئیس سو امریکی اور ترکی کے دو سو لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔
تصویر: picture-alliance/Photoshotروس کے پاس صرف ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ ہے اس کے مقابلے میں نیٹو اتحادیوں کے پاس ایسے ستائیس بحری بیڑے ہیں۔
تصویر: picture-alliance/newscom/MC3 K.D. Gahlauنیٹو ارکان کے جنگی بحری جہازوں کی مجموعی تعداد 372 ہے جن میں سے پچیس ترک، 71 امریکی، چار کینیڈین جب کہ 164 نیٹو کے یورپی ارکان کی ملکیت ہیں۔ دوسری جانب روس کے عسکری بحری جہازوں کی تعداد ایک سو کے لگ بھگ ہے۔
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/Impact Press Group/P. Petrovنیٹو اتحادیوں کی ملکیت آبدوزوں کی مجموعی تعداد ایک سو ساٹھ بنتی ہے جب کہ روس کے پاس ساٹھ آبدوزیں ہیں۔ نیٹو ارکان کی ملکیت آبدوزوں میں امریکا کی 70 اور ترکی کی 12 آبدوزیں ہیں جب کہ نیٹو کے یورپی ارکان کے پاس مجموعی طور پر بہتر آبدوزیں ہیں۔
تصویر: Getty Images/AFP/M. Bagerروس اور نیٹو کے دفاعی بجٹ کا موازنہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ روس کا دفاعی بجٹ محض 66 بلین ڈالر ہے جب کہ امریکی دفاعی بجٹ 588 بلین ڈالر ہے۔ نیٹو اتحاد کے مجموعی دفاعی بجٹ کی کل مالیت 876 بلین ڈالر بنتی ہے۔
تصویر: picture alliance/chromorange اسٹولٹن برگ نے کہا کہ ٹرمپ اصل میں اس اتحاد کے رکن ممالک کے دفاعی اخراجات میں اضافہ چاہتے ہیں۔ ''اور ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ یورپ اور کینیڈا دفاع کی مدد میں اپنے اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ برسوں تک دفاعی بجٹ میں کٹوتیوں کے بعد اب ان ممالک میں ایک مرتبہ پھر دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب زیادہ اتحادی ممالک دو فیصد جی ڈی پی کی شرط پوری کر رہے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر نیٹو اتحاد پر تنقید کر چکے ہیں۔ ایک موقع پر تو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ اتحاد غیرفعال ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ نیٹو اتحاد میں شامل ممالک کی جانب سے دفاع کی مد میں کم مالی وسائل خرچ کیے جانے کا بوجھ بھی امریکا پر پڑتا ہے۔
ع ت، م م ( اے پی)