نیٹو وزرائے دفاع کا اہم اجلاس برسلز میں
22 اکتوبر 2013
اٹھائس رکنی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے دفاع کے اس دو روزہ اہم اجلاس کی پہلی نشست میں جرمن وزیر دفاع تھوماس ڈے میزیئر کی وہ تجاویز زیرِ بحث آئیں، جن میں انہوں نے نیٹو ممالک کی دفاعی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے بات کی ہے۔ ان تجاویز میں فضا میں طیاروں کو ایندھن کی فراہمی، نئے فوجی کیمپوں کی تعمیر اور فوجی مشقیں وغیرہ شامل ہیں۔ جرمن وزیر دفاع کی جانب سے یہ تجاویز جون کے مہینے میں پیش کی گئی تھیں۔
شرکائے اجلاس نے ڈے میزیئر کی تجاویز پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے جبکہ نیٹو سیکرٹری جنرل آندرس راسموسن نے ان تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ راسموسن نے کہا کہ دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے کے حوالے سے کام ہونا چاہیے۔
برطانوی وزیر دفاع فلپ ہیمنڈ نے بھی تجاویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے نیٹو کے ایک عرصے سے تعطل کے شکار کئی دفاعی منصوبوں پر دوبارہ کام شروع ہو سکے گا۔
راسموسن نے اس اجلاس کے دوران کہا کہ اس اجلاس میں آئندہ برس مجوزہ نیٹو سربراہ اجلاس کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ واضح رہے کہ اس اجلاس میں اُن موضوعات پر بھی بات ہو رہی ہے، جو اگلے سال موسم خزاں میں برطانیہ میں مجوزہ نیٹو سربراہ کانفرنس میں زیر بحث لائے جائیں گے۔
خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق یہ تجاویز ایک ایسے وقت میں زیر غور ہیں جب نیٹوممالک پہلے ہی اپنے فوجی آپریشنز کو محدود کرنے اور اپنے دفاعی اخراجات میں کمی کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
سن 2014ء کے اواخر میں افغانستان میں نیٹو کا جنگی مشن اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، جس کے بعد یہ دفاعی اتحاد اپنی اپنی قومی افواج کے درمیان اشتراکِ عمل کی صلاحیت کو خاص طور پر زیادہ بڑی فوجی مشقوں کے ذریعے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
یہ وزراء سائبر حملوں کے بارے میں بھی تبادلہء خیال کر رہے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے خاص طور پر اس سوال پر غور کیا جا رہا ہے کہ نیٹو اس سلسلے میں کس حد تک اپنے رکن ممالک کی مدد کر سکتا ہے۔ یہ دو روزہ اجلاس کل بھی جاری رہے گا۔ کل نیٹو وزراء اپنے روسی ہم منصب سیرگئی شوئی گُو سے بھی ملیں گے۔