نیٹو کے وزرائے خارجہ کا مشرقِ وسطیٰ اور یوکرائن کے بحرانوں پر غور
2 دسمبر 2014
امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور نیٹو کے دیگر ملکوں سے ان کے ہم منصب منگل کے اجلاس میں جس ایجنڈے پر بات کریں گے اس میں عبوری ریپڈ ری ایکشن فورس کی تشکیل پر غور شامل ہے جو نیٹو فورسز کو درپیش نئے اور انجانے خطروں سے نمٹنے کی قابلیت رکھتی ہو۔
اس حوالے سے نیٹو کے نئے سربراہ ژینس سٹولٹن برگ کا کہنا ہے: ’’اس کے ذریعے ہم اپنی سرحدوں کے گرد پیدا ہونے والے خطروں سے دفاع اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہو سکتے ہیں۔‘‘
برسلز میں نیٹو کے آج کے اجلاس میں وزرائے خارجہ پولینڈ جیسے مشرقی رکن ملکوں کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے کی جانی والی کوششوں کا جائزہ بھی لیں گے۔
یوکرائن کے لیے وزرائے خارجہ کی جانب سے چار ٹرسٹ فنڈز کی منظوری متوقع ہے جن کا مقصد اس کی فوج کو جدید بنانے میں مدد دینا ہے۔
اُدھر یوکرائن کے مشرقی علاقے لوہانسک میں سرگرم روس نواز باغی سیز فائر پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ یہ بات آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (او ایس سی ای ) نے بتائی ہے۔
سٹولٹن برگ نے روس پر بھی زور دیا ہے کہ وہ یوکرائن کی سرحدوں پر تعینات اپنی فوج کی تعداد میں کمی کرے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ یوکرائن نیٹو کی رکنیت کا بھی خواہاں ہے۔ اس کی یہ خواہش روس کے لیے قابلِ تشویش ہے۔
اس حوالے سے نیٹو کے لیے امریکی سفیر ڈگلس لیوٹ نے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ نیٹو کسی ملک سے رکنیت کے حصول کے لیے نہیں کہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ رکنیت کے لیے درخواست دینا کسی بھی ملک کا ذاتی فیصلہ ہے۔
برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹرز میں بدھ کو بھی ایک اجلاس ہو گا جس میں شام اور عراق ميں سرگرم شدت پسند تنظيم اسلامی ریاست کے خلاف قائم اتحاد کے ساٹھ ملکوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔
اس اجلاس کی سربراہی امریکی وزیر خارجہ جان کیری کريں گے۔ نیٹو کے نئے سربراہ ژینس سٹولٹن برگ نے اس اجلاس سے ایک روز قبل پیر کو ایک بیان میں کہا کہ یوکرائن میں روسی مداخلت اور عراق اور شام میں اسلامی ریاست کے جہادیوں کے خطرے کے باعث یہ ایک فیصلہ کُن موقع ہے۔
انہوں نے کہا: ’’2014ء جارحیت، بحران اور تنازعے کا سال رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ روس کی کارروائیوں نے یورو اٹلانٹک سکیورٹی پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ سٹولٹن برگ کا تعلق ناروے سے ہے اور انہوں نے رواں برس یکم اکتوبر کو ڈنمارک کے آندرس فوگ راسموسن کی جگہ نیٹو کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔