1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتعالمی

نیٹو گرین لینڈ پر معاہدے کے فریم ورک پر متفق، ٹرمپ کا دعویٰ

جاوید اختر اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ
22 جنوری 2026

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ نیٹو کے ساتھ گرین لینڈ کے متعلق ایک مجوزہ معاہدے کا فریم ورک تیار ہو گیا ہے۔ ادھر وہ خود کو امن کے داعی کے طور پر پیش کرتے ہوئے جمعرات کو داووس میں اپنے نئے ’بورڈ آف پیس‘ کو متعارف کرایں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے بارے میں نیٹو کے ساتھ ایک معاہدہ زیرِ غور ہےتصویر: Gian Ehrenzeller/KEYSTONE/picture alliance

ٹرمپ نے بدھ کے روز اچانک اعلان کیا کہ وہ یورپ کے خلاف محصولات واپس لے رہے ہیں اور ڈنمارک سے گرین لینڈ لینے کے لیے فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار دے رہے ہیں۔ اس اعلان سے عالمی رہنماؤں کے داووس اجلاس کو لاحق تشویشناک بحران میں جزوی کمی آئی۔

بدھ کی رات دیر گئے ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا کہ امریکہ اور نیٹو نے''گرین لینڈ اور درحقیقت پورے آرکٹک خطے سے متعلق مستقبل کے معاہدے کا فریم ورک تشکیل دے دیا ہے۔‘‘

انہوں نے تاہم گرین لینڈ سے متعلق کسی معاہدے کے اعلان کردہ فریم ورک کو ''پیچیدہ‘‘ قرار دیا ہے۔ کیونکہ تفصیلات اب بھی غیر واضح ہیں۔ ٹرمپ نے البتہ دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ معاہدے پر ’’سب خوش ہیں۔‘‘

دوسری طرف نیٹو کے ترجمان ایلیسن ہارٹ نے جمعرات کو بتایا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گرین لینڈ پر ہونے والی بات چیت کے دوران خودمختاری پر کسی قسم کے سمجھوتے کی تجویز پیش نہیں کی۔

انہوں نے کہا، ''سیکریٹری جنرل نے داووس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران خودمختاری پر کسی سمجھوتے کی تجویز نہیں دی۔‘‘ ترجمان نے تاہم مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

روٹے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹرمپ سے ملاقات ''بہت اچھی‘‘ رہی، مگر گرین لینڈ کے معاملے پر ’’ابھی بہت سا کام باقی ہے۔‘‘

ٹرمپ کا اصرار ہے کہ معدنی وسائل سے مالا مال یہ آرکٹک جزیرہ روس اور چین کے مقابلے میں امریکہ اور نیٹو کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (دائیں) نے داووس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کیتصویر: Mandel Ngan/AFP/Getty Images

ٹرمپ نے محصولات کی دھمکی واپس لے لی

ٹرمپ نے بدھ کی رات دیر گئے کہا کہ نیٹو کے سربراہ مارک روٹے سے ملاقات کے بعد وہ گرین لینڈ کے حوالے سے 'مستقبل کے معاہدے کا ایک فریم ورک‘ طے کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ یکم فروری کو یورپی اتحادیوں پر عائد ہونے والے محصولات واپس لے لیں گے۔

ڈنمارک، اٹلی اور نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک نے آٹھ یورپی ممالک پر محصولات معطل کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کو مثبت قرار دیا۔

جرمنی کے نائب چانسلر لارز کلنگ بائل نے یورپی ممالک پر مجوزہ محصولات معطل کرنے کے صدر ٹرمپ کے فیصلے کی وجہ بین الاقوامی دباؤ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کو قرار دیا۔

کلنگ بائل، جو جرمنی کے وزیر خزانہ بھی ہیں، نے جرمن نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف کو بتایا، ''امریکہ میں بھی تنقید بڑھ رہی تھی، یورپ اور عالمی سطح پر بھی، اور میرے خیال میں اس سے ڈونلڈ ٹرمپ پر اثر پڑا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''ہمیں کچھ انتظار کرنا چاہیے اور بہت جلد امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔‘‘

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ وہ یکم فروری سے متوقع محصولات کی معطلی کا ''خیرمقدم‘‘ کرتی ہیں، تاہم اتحادی ممالک کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارز لوکے راسموسن نے ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا،''میں داووس سے دو باتیں لے کر جا رہا ہوں: ایک یہ کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر حملہ نہیں کریں گے … اور دوسری یہ کہ ٹیرفس کی جنگ فی الحال روک دی گئی ہے۔ یہ مثبت ہے۔‘‘

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ رہنماؤں کو اب بھی''مل بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم ڈنمارک کی آئین کا احترام کرتے ہوئے آرکٹک میں امریکی سکیورٹی خدشات کو کیسے حل کر سکتے ہیں۔‘‘

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ اب تک قریب 35 عالمی رہنماؤں نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی تصدیق کر دی ہےتصویر: Denis Balibouse/REUTERS

’بورڈ آف پیس‘ کا اعلان آج

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متنازع ادارے 'بورڈ آف پیس‘ کو آج جمعرات کو داووس اجلاس کے دوران متعارف کرائیں گے، جو ان کے بقول بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔ آج اس کے چارٹر پر دستخط کی تقریب بھی ہو گی۔

اس بورڈ میں مستقل رکنیت کی قیمت ایک ارب ڈالر رکھی گئی ہے۔ ٹرمپ نے روس کے ولادیمیر پوٹن، اسرائیل کے بنجیمن نیتن یاہو اور ہنگری کے وکٹر اوربان سمیت متعدد رہنماؤں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

ٹرمپ نے بدھ کو مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران کہا، ''میرے خیال میں یہ اب تک کا سب سے عظیم بورڈ ہے۔‘‘ سیسی ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

اس متنازع بورڈ کے قیام کا پس منظر ٹرمپ کی اس مایوسی سے جڑا ہے کہ وہ آٹھ تنازعات ختم کرانے کے متنازع دعووں کے باوجود نوبل امن انعام حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

یہ بورڈ ابتدا میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے کردار کو صرف غزہ تک محدود نہیں کیا گیا، جس سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ ٹرمپ اسے اقوام متحدہ کے متوازی ادارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اہم امریکی اتحادیوں بشمول فرانس اور برطانیہ نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، تاہم دیگر ممالک خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں ٹرمپ کے حامی سعودی عرب اور قطر نے اس میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ بھیجی گئی تقریباً 50 دعوتوں میں سے اب تک قریب 35 عالمی رہنماؤں نے شمولیت کی تصدیق کر دی ہے۔

ادارت: صلاح الدین زین

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں