1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہنیپال

نیپال میں سیاست دانوں، افسران کے اثاثوں کی جانچ: کمیٹی قائم

جاوید اختر اے ایف پی اور روئٹرز کے ساتھ
16 اپریل 2026

نیپال کی حکومت نے جمعرات کو سیاست دانوں اور سرکاری افسران کے اثاثوں کی جانچ کے لیے ایک کمیشن قائم کر دیا ہے۔ نئے وزیر اعظم بالندر شاہ نے اپنے انتخابی منشور میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

بالندر شاہ
کٹھمنڈو کے میئر کے طور پر اپنے تین سالہ دور کے دوران بالندر شاہ نے بدعنوانی کے خلاف اپنی جدوجہد اور اصلاحات حامی موقف کی وجہ سے خاصی مقبولیت حاصل کی تھیتصویر: Niranjan Shrestha/AP Photo/picture alliance

ایک سرکاری عہدیدار نے جمعرات کے روز بتایا کہ پانچ رکنی کمیشن کی قیادت سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کریں گے اور یہ کمیشن 2006 سے اب تک عوامی عہدوں پر فائز رہنے والی اہم شخصیات کے اثاثوں کا جائزہ لے گا۔

وزیر اعظم کی پریس اور تحقیقاتی مشیر دیپا دہل نے بتایا کہ کابینہ نے بدھ کے روز اس کمیشن کے قیام کی منظوری دے دی۔

کابینہ کے ترجمان سسمت پوکھریل نے بتایا کہ پانچ رکنی پینل کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج راجندر کمار بھنڈاری کریں گے۔

پوکھریل نے کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے کہا، ''قانونی معیار پر مبنی شواہد کی بنیاد پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی … اس کمیشن کی رپورٹ اور سفارشات کو حکومت کے متعلقہ ادارے نافذ کریں گے۔‘‘

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پینل کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت دیا گیا ہے۔

کمیشن بنانے کا منصوبہ اس 100 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے میں شامل تھا، جو بالندر شاہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔تصویر: Navesh Chitrakar/REUTERS

بدعنوانی کے خلاف کمیشن، انتخابی وعدہ

یہ کمیشن بنانے کا منصوبہ اس 100 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے میں شامل تھا، جو بالندر شاہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔

35 سالہ وزیر اعظم بالندر شاہ، جو پہلے ایک ریپر تھے اور بعد میں سیاست دان بنے، نے نوجوانوں کی قیادت میں سیاسی تبدیلی کے نعرے پر گزشتہ انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہ انتخابات 2025 میں ہونے والے بدعنوانی کے خلاف ملک گیر عوامی مظاہروں کے بعد منعقد کرائے گئے تھے، جن میں حکمراں جماعت کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں سابق ملکی وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا اور ان کی اہلیہ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا، جو نئی حکومت کے تحت نشانہ بننے والی بڑی شخصیات میں تازہ ترین ہیں۔

دیوبا، جو اس وقت بیرون ملک ہیں، نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ ان پر ستمبر 2025 میں بدعنوانی کے خلاف مظاہروں پر ہونے والے مہلک کریک ڈاؤن میں مبینہ کردار کا الزام ہے۔

ان دونوں افراد کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے تمام الزامات کی تردید کی اور عدالت کے حکم کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔

اس وقت نیپال ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈکس میں 180 ممالک میں سے 109ویں نمبر پر ہےتصویر: Niranjan Shrestha/AP Photo/picture alliance

نیپال کرپشن پرسیپشن انڈکس میں 109ویں نمبر پر

کٹھمنڈو، جو نیپال کا دارالحکومت ہے، کے میئر کے طور پر اپنے تین سالہ دور کے دوران شاہ نے بدعنوانی کے خلاف اپنی جدوجہد اور اصلاحات کے حامی موقف کی وجہ سے خاصی مقبولیت حاصل کی تھی۔

نوجوانوں کی قیادت میں شروع ہونے والی بدعنوانی مخالف تحریک کٹھمنڈو سے شروع ہوئی تھی اور اس کی چنگاری سوشل میڈیا پر عارضی پابندی کے بعد مزید بھڑک گئی تھی۔

یہ احتجاج پورے ملک میں پھیل گیا تھا، جس کی بنیادی وجہ بدعنوانی اور معاشی مشکلات کے خلاف دیرینہ عوامی غصہ تھا۔

اس وقت نیپال ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈکس میں 180 ممالک میں سے 109ویں نمبر پر ہے۔

سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیںتصویر: Prakash Mathema/AFP

سینکڑوں سیاست دانوں اور افسران کے سروں پر لٹکتی تلوار

نیپال میں تقریباً 239 سالہ بادشاہت کے خاتمے کے بعد 2008 میں جمہوری نظام قائم ہوا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان تحقیقات کی زد میں سینکڑوں سیاست دان اور سرکاری افسران آ سکتے ہیں جو 2008 میں 239 سالہ بادشاہت کے خاتمے اور جمہوری نظام کے قیام کے بعد گزشتہ 18 برسوں کے دوران عوامی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

تین سال پہلے قائم ہونے والی پارٹی آر ایس پی نے انتخابات کے دوران بدعنوانی کے خاتمے کو اپنے اہم وعدوں میں شامل کیا تھا۔ کئی دہائیوں سے ملک کی سیاست پر حاوی جماعتوں کو ان انتخابات میں عوام نے مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔

ادارت: مقبول ملک

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں