نیپال میں صدارتی انتخابات کا انعقاد
9 مارچ 2023
نیپال میں وفاقی پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے کل 884 ارکان نے جمعرات کو ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے۔ نیپالی پارلیمان میں منعقد ہونے والے ان صدارتی الیکشن کے نتائج آج رات تک متوقع ہیں۔
نیپال میں صدیوں پر محیط بادشاہت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کے بعد یہ تیسرا موقعہ ہے جب وہاں صدارتی انتخابات کا انعقاد ہوا ہے۔
نیپال: پارلیمان تحلیل، نئے انتخابات کا اعلان
لیکن یہ انتخابات ایسے وقت منعقد ہوئے ہیں، جب وہاں کی کمزور مخلوط حکومت کو اقتدار ملے کچھ ہی ماہ ہوئے ہیں اور ملک کو سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔
حا لانکہ نیپال میں صدر زیادہ سیاسی طاقت نہیں رکھتے لیکن اس بار کا صدارتی الیکشن وہاں کے حکمران اتحاد میں دراڑ کی وجہ بنا ہے۔ ان انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانگریس پارٹی کے رکن رام چندرا پودل کو بطور صدارتی امیدوار وزیر اعظم پشپا کمال دہال کی حمایت حاصل ہے، اور وزیر اعظم کے اس اقدام سے ان کی اہم اتحادی ساتھی کمیونسٹ پارٹی آف نیپال ان سے نالاں ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال اپنی جماعت کے کسی رکن کے لیے صدارتی عہدے کی خواہش مند ہے اور وزیر اعظم کی رام چندرا پودل کی حمایت کے بعد سے وہ حکمران اتحاد سے بھی علحیدہ ہوگئی ہے۔
اس وقت یہ واضح نہیں کہ رام چندرا پودل کی حمایت کر کہ وزیر اعظم پشپا کمال دہال نے حکمران اتحاد کے ٹوٹنے کا خطرہ کیوں مول لیا، لیکن نیپال میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کی رسا کشی عام بات ہے۔ وہاں کئی بار حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں اور گزشتہ دس سالوں میں آٹھ مختلف حکومتیں اقتدار سنبھال چکی ہیں۔
اس ماہ وزیر اعظم پشپا کمال دہال بھی پارلیمان میں اعتماد کے ووٹ کا سامنا کریں گے۔ وہ حکمران اتحاد میں ابتدا میں شریک تین اہم جماعتوں کی حمایت بھی کھو چکے ہیں۔
نیپال کے پارلیمانی انتخابات مظاہروں کے سائے میں
سیاسی تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخابات اور اس ماہ ہونے والا اعتماد کا ووٹ ملک میں سیاسی عدم استحکام میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
م ا / ک م (اے پی)